بھارت میں مسلما نو ں کی نسل کشی
14 ستمبر 2020 (13:35) 2020-09-14

قا رئین کرا م،آ پ کو یاد ہو گاکہ ما ہِ رواں کی دس تا ریخ کو وطنِ عز یز کے چیف آ ف آ رمی سٹا ف کا ملک میں جنگی تیا ر یا ں بڑ ھا دیئے جا نے کے بار ے میں ایک انتہا ئی وا ضح بیا ن سا منے آ یا تھا۔ امن پسند جنر ل قمر جا وید با جو ہ کا یہ چو نکا دینے والے اس بیان کو کسی طو ر بھی ایک معمو ل کی کا روا ئی قرا ر نہیں دیا جا سکتا۔ انہو ں نے خطے کی مو جو دہ صو رتِ حا ل کے تنا ظر میں جنگی تیا ریا ں بڑ ھا نے کی ضرو رت پر زور دیتے ہو ئے کہا کہ پا کستان مخا لف عنا صر کی جا نب سے ففتھ جنر یشن وار فئیر اور ہائبر ڈ ہتھکنڈو ں کو نا کام بنا نا ہو گا۔ با ت با لکل وا ضح ہے کہ جس طور بھا رت اور مقبو ضہ کشمیر میں جس طر یقے سے مو دی سر کا ر مسلما نو ں کی نسل کشی میں مصرو ف ہے، جنر ل با جو ہ کا اس بیا ن کا وقت کی اہم ضرورت قرار دیا جا سکتاہے۔کیو نکہ پاکستان نے ایک بار پھر بھارت کو باور کرایا ہے کہ تنازع کشمیر کو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے ایجنڈے سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ اس قرارداد میں وعدہ کیا گیا ہے کہ کشمیر کا تنازع کشمیری عوام کی خواہش کے مطابق حل کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقبل مندوب منیر اکرم نے واضح کیا کہ بھارتی نمائندے اپنے عوام سے غلط بیانی کر رہے ہیں کہ وہ تنازع کشمیر کو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے ایجنڈے سے نکلوادیں گے۔ ادھر مقبوضہ کشمیر کے حالات کو دیکھا جائے تو بھارت نے جب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے ضم کرلیا ہے، اس کے بعد سے لے کر اب تک کشمیری عوام قیدیوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ کورونا وبا کے حوالے سے بھی غور کیا جائے تو بھارت ان ممالک میں شامل ہے جہاں سب سے زیادہ اس وبا سے اموات ہوئیں ہیں لیکن بھارتی حکومت  نے کسی عالمی تنظیم یہاں تک کہ بھارتی تنظیم کو بھی مقبوضہ کشمیر میں جاکر حالات کا جائزہ لینے کی اجازت نہیں دی۔ مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے کشمیریوں کا کورونا وبا کے دوران کیا حال رہا، وہاں کتنی اموات ہوئیں، حکومت نے کیا کیا اقدامات کیے تھے؟ اس کے بارے میں دنیا تو ایک طرف رہی، پورا بھارت بھی آگاہ نہیں ہے۔ اگلے روز اسلام آباد میں پاکستان کی وزارت اطلاعات کے زیر اہتمام ’’انڈیا اسلاموفوبیا کا مرکز‘‘ کے عنوان کے تحت ایک اہم سیمینار منعقد کیا گیا۔ اس سیمینار کا بنیادی مقصد پورے بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر نریندر مودی حکومت کے ظلم و ستم سے عالمی برادری کو آگاہ کرنا تھا تاکہ عالمی برادری پر دبائو ڈالا جاسکے کہ وہ بھارتی اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اس اہم سیمینار میں ہونے والی تقاریر کا یقینی طور پر عالمی سطح پر اثر پڑے گا اور عالمی برادری کو بھارت میں برھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے بارے میں آگاہی حاصل ہوگی۔ بھارت میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی اور وزیراعظم نریندر مودی کی اسلاموفوبیا سے متعلق ایک طویل تاریخ ہے۔ وزیراعظم عمران خان متعدد بار آر ایس ایس کے نظریات پر بات کرچکے ہیں۔ وزیر اطلاعات شبلی فراز نے بھی اس حوالے سے بات کی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت میں راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا قیام ہی اسلاموفوبیا کی 

بنیاد پر عمل میں آیا تھا۔ اس جماعت کے کثیرالجہتی مقاصد متعین کیے گئے تھے اور آج بھی انہی مقاصد کے حصول کے لیے نریندر مودی کوششیں کر رہا ہے۔ آر ایس ایس کے مقاصد میں بھارتی عوام خصوصاً نوجوانوں کی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ذہن سازی کرنا، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو فوجی تربیت دینا اور مسلمانوں کی تاریخ کو مسخ کرنا شامل ہے۔ آر ایس ایس کے ہی ایک تربیت یافتہ کارکن نتھورام گوڈسے نے مہاتما گاندھی کو گولی مار کر قتل کیا تھا۔ اس قتل کی وجہ یہ تھی کہ گاندھی نے ہندوستان کی تقسیم کیوں قبول کی؟ اس کے بعد آر ایس ایس پر پابندی عائد کردی گئی لیکن یہ جماعت رنگ بدل بدل کر اپنی سیاست کرتی رہی اور اب اس کا سیاسی چہرہ بی جے پی ہے۔ بی جے پی میں مرارجی ڈیسائی اور واجپائی جیسے اعتدال پسند رہنما بھی موجود رہے لیکن ان کے بعد بی جے پی پر اسلاموفوبیا کا شکار ہندو انتہا پسند قیادت کا کنٹرول قائم ہوگیا۔ پہلے ایل کے ایڈوانی نے رتھ یاترا کے نام پر ایک جلوس کی شکل میں بابری مسجد کو شہید کرایا، اسی دوران نریندر مودی سیاست کے افق پر ابھرنا شروع ہوا اور وہ بڑھتے بڑھتے بھارتی ریاست گجرات کا وزیر اعلیٰ بن گیا۔ ریاست گجرات میں نریندر مودی کی وزارتِ اعلیٰ کے دوران مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔اب بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے اور نریندر مودی دوسری بار وزیراعظم بن چکے ہیں۔ نریندر مودی نے اپنے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی۔ نریندر مودی اور اس کے ساتھیوں نے پورے بھارت میں ہندو عوام میں اسلام اور مسلمانوں کا خوف پیدا کرکے اپنا ووٹ بینک بڑھایا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور دیگر انتہا پسند ہندو تنظیموں نے اسلام او رمسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے کو بڑے منظم اور سائنٹفک انداز میں پورے بھارت اور دنیا بھر میں پھیلایا۔ امریکہ اور یورپی ممالک میں بھی اسلاموفوبیا موجود ہے، اس کا بدترین مظاہرہ نیوزی لینڈ میں دیکھنے میں آیا جہاں ایک دہشت گرد  نے مسجد میں نمازیوں کو گولیاں مار کر شہید کیا۔ نریندر مودی نے پاکستان کے خلاف جارحیت کا حربہ استعمال کیا لیکن اسے منہ کی کھانا پڑ ی ۔ تاہم نریندر مودی انتخابات جیت کر دوبارہ وزیراعظم بنے تو انہوںنے گزشتہ سال اگست میں بھارتی آئین میں آرٹیکل 370 اور 35A ختم کردیا۔ کشمیر کی بھارتی آئین میں خصوصی حیثیت اختتام پذیر ہوگئی اور کشمیر بھارتی یونین کا حصہ بن گیا۔ اس کے ساتھ ہی کشمیر کو تقسیم کرکے لداخ کو وفاق کے زیر انتظام علاقہ بنالیا گیا۔ لداخ میں ہی اب بھارت اور چین کے درمیان تنازع چل رہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ بھارت نے متنازعہ شہریت بل نافذ کیا، جس کے سب سے زیادہ مضر اثرات بھارتی مسلمانوں پر مرتب ہورہے ہیں۔ آج کے بھارت میں مقبوضہ کشمیر کے مسلمان ہی نہیں بلکہ پورے بھارت کے مسلمانوں کو مذہبی بنیادوں پر انتہائی سماجی مشکلات کا سامناہے۔ کورونا وبا کا ذمہ دار بھی مسلمانوں کو قرار دے دیا گیا ہے اور یوں انہیں ہندوستانی معاشرے میں اچھوت بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ دراصل بھارت مسلمانوں کے اسلامی نظریات سے خوفزدہ ہے اور اوپر سے المیہ یہ ہے کہ بھارت میں ہر قسم کا میڈیا، آر ایس ایس اور کارپوریٹ انڈیا کے زیر اثر ہے اور ان دونوں کے درمیان اسلاموفوبیا کے حوالے سے گٹھ جوڑ قائم ہوگیا ہے۔پاکستان کے پالیسی ساز بھارت کے عزائم سے پوری طرح آگاہ ہیں اور بھارت کے پروپیگنڈے کا جواب بھی دیا جارہا ہے لیکن اس سلسلے میں ہمارے پالیسی سازوں کو انتہائی سائنٹفک انداز میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔


ای پیپر