file photo

موٹروے زیادتی کیس، لاہور ہائیکورٹ نے تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی
14 ستمبر 2020 (12:09) 2020-09-14

لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے موٹروے واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سی سی پی او کے ایسے بیانات پر کابینہ کو معافی مانگنی چاہیے تھی۔

لاہور ہائی کورٹ میں موٹروے واقعہ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے سی سی پی او کو ریکارڈ سمیت طلب کر رکھا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے آئی جی پنجاب کو دیے گئے شوکاز نوٹس کا بھی ریکارڈ طلب کر لیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے واقعے سے متعلق کمیٹی کا نوٹیفکیشن بھی طلب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت جوڈیشل کمیشن بنایا جا سکتا ہے؟

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ انکوائری ٹربیونلز آرڈیننس کے تحت حکومت چاہے تو کسی بھی معاملے پر کمیشن بنا سکتی ہے۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ صرف خبر فیس بک پر لگانے کے لیے پٹیشن دائر نہ کریں بلکہ قانون بھی پڑھ لیا کریں اور کسی کو خراب کرنے کے لیے ایسی پٹیشن دائر نہ کریں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سی سی پی او کے ایسے بیانات پر کابینہ کو معافی مانگنی چاہیے تھی اور اگر کابینہ معافی مانگتی تو قوم کی بچیوں کو حوصلہ ہوتا۔ لگتا ہے سی سی پی او لاہور وزرا کا افسر ہے۔انہوں ںے کہا کہ اتنا بڑا واقعہ ہوا لیکن حکومت کمیٹی کمیٹی کھیل رہی ہے اور وزرا کے مشیران موقع پر جا کر تصاویر بنوا رہے ہیں۔ جس طرح کی تفتیش ہو رہی ہے اس میں کتنی صداقت ہے اور کتنی ڈرامہ بازی؟

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وزیر قانون کس حیثیت سے کمیٹی کی سربراہی کر رہے ہیں ؟ کیا وزیر قانون کو تفتیش کا تجربہ ہے۔چیف جسٹس نے تفتیش او سی سی پی او کے بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیسی تفتیش کی جا رہی ہے کہ محکمہ کا سربراہ مظلوم کو غلط کہنے پر تل جائے۔


ای پیپر