رانا ثنا اللہ کے ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع
14 ستمبر 2019 (15:04) 2019-09-14

لاہور:لاہور میں انسداد منشیات کی عدالت میں اے این ایف پراسکیوٹر کے بیمارہونے کی وجہ سے عدم موجودگی پر(ن) لیگ کے ایم این اے رانا ثنا اللہ خان کے جوڈیشل ریمانڈمیں 14روز کی توسیع کردی گئی جبکہ وکیل اعظم نذیر تارڑ نے عدالت میں شکوہ کیا کہ اینٹی نارکوٹکس کے جج مسعود ارشد کو دوران سماعت واٹس ایپ کے ذریعے تبدیل کیا گیا، جب اپنی مرضی کا جج لگایا جائے گا تو پھر کیس کی کیا نوعیت رہ جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ نون کے رہنما رانا ثنا اللہ کو کیمپ جیل سے انسداد منشیات کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں جج خالد بشیر نے بطور ڈیوٹی جج کیس پر سماعت کی اور ریمارکس دیے کہ میں بطور ڈیوٹی جج بیل کی درخواست سنوں گا۔عدالت نے کیس کی سماعت کے دروان ریمارکس دیے کہ کئی بار اے این ایف نے پراسکیوٹر تبدیل کیا ہے، اب اس کیس میں پراسکیوٹر کون پیش ہوگا ؟

اس پر اے این ایف وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اب اس کیس میں محمد صلاح الدین بطور اے این ایف پراسکیوٹر پیش ہوں گے، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ یہ تحریری نوٹیفکیشن ہوا ہے یا زبانی باتیں ہیں، ڈیوٹی جج نے ریمارکس دیے کہ آپ پراسکیوٹر کا تحریری حکم نامہ لے کر آئیں۔کیس میں رانا ثنااللہ کی جانب سے بطور وکیل اعظم نذیر تارڈ اور فرہاد علی شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔

وکیل اعظم نذیر تارڈ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج جو پیش کی گئی اس میں صرف گاڑیوں کا ٹول پلازہ سے لاہور داخل ہونا تھا۔کیس میں رانا ثنااللہ نے روسٹرم پر آکر بیان دیا کہ مجھے سڑک سے پکڑا گیا اور عدالت میں آ کر پتہ چلا کہ مجھ سے ہیروئن برآمد ہوئی ہے، انہوں نے قوم سے جھوٹ بولا اور گمراہ کیا ہے۔ رانا ثنا کا کہنا تھا کہ میرے ہر اثاثے کی قیمت کو بڑھا کر ڈرامہ کیا جا رہا ہے، کیا میں عالم ارواہ میں بزنس کرتا تھا یا جنت یا دوزخ میں پراپرٹی بنائی ہے۔

رانا ثنا اللہ کے وکیل اعظم نذیر تارڈ نے عدالت کو بتایا کہ ہماری 3 پٹیشنز ہیں ٹرائل کی ، ضمانت کی اور جائیداد کی ضبطی کی مگر انویسٹی گیشن افسر 3 ماہ سے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے ہیں جبکہ آپ کے منسٹر نے خود کہا تھا کہ ان کے پاس ویڈیو موجود ہے۔وکیل اعظم نذیر تارڑ نے عدالت میں شکوہ کیا کہ اینٹی نارکوٹکس کے جج مسعود ارشد کو دوران سماعت واٹس ایپ کے ذریعے تبدیل کیا گیا، جب اپنی مرضی کا جج لگایا جائے گا تو پھر کیس کی کیا نوعیت رہ جائے گی۔


ای پیپر