اقتدار اور عقل!
14 ستمبر 2019 2019-09-14

میں ابھی کچھ دیر پہلے اخبارات میں پنجاب کی ”دعاﺅں“کا شکار پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدارکی سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کے ساتھ ملاقات کا حال پڑھ رہا تھا، خبروں کے مطابق وزیر اعلیٰ اور سپیکر پنجاب اسمبلی نے ملاقات میں اِس ”عزم“ کا اعادہ کیا وہ عوام کی ترقی و خوشحالی کے لیے مِل کر کام کریں گے“ ....ممکن ہے وزیراعلیٰ پنجاب نے خود سپیکر پنجاب اسمبلی سے گزارش کی ہو کہ مجھ سے اکیلے اتنی بڑی ذمہ داری ایک سال کے ”تجربے“ کے باوجود سنبھالی نہیں جارہی، لہٰذا آپ میرے ساتھ تعاون کریں، مجھے بتائیں صوبے کے معاملات کس طریقے سے بہتر کیے جاسکتے ہیں؟ یہ بھی ممکن ہے وزیراعلیٰ نے اِس موقع پر سپیکر پنجاب اسمبلی سے یہ استدعا بھی کی ہو کہ ” اِس ملک کی ”اصل قوتیں“ میری مسلسل نااہلیوں اور ناکامیوں پر مجھ سے خفا ہوگئی ہیں اور مجھے ہٹوانے کے لیے وزیراعظم پر مبینہ دباﺅ ڈال رہی ہیں، تو ان قوتوں کے ساتھ اپنے دیرینہ مراسم کی بنیاد پر آپ اُن سے میری سفارش کریں کہ مجھے ہی وزیراعلیٰ پنجاب رہنے دیں، میرے چھوٹے چھوٹے بچے و دیگر رشتہ دار ہیں جوکہ حسبِ موقع، حسب توفیق چھوٹی چھوٹی ”کارروائیاں“ ڈالتے رہتے ہیں، کیونکہ بڑی بڑی کارروائیاں ڈالنے پرخان صاحب کی ناراضگی کا خدشہ ہے، اِس لیے ہم بڑے مناسب طریقے سے اپنی ”غربت مٹاﺅپروگرام“ کو فروغ دے رہے ہیں، جبکہ ہم سے پہلے جو شریف حکمران تھے اُنہوں نے اپنی ”غربت “ مٹانے کے لیے بڑی بڑی کارروائیاں ڈالیں جس کے نتیجے میں وہ آج جیل میں ہیں۔ ظاہر ہے ہم جیل جانے کا تصور بھی نہیں کرسکتے، میں نے تو وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے بھی کبھی جیل کا وزٹ نہیں کیا کہ کہیں مجھے وہیں نہ رکھ لیا جائے، ....سپیکر پنجاب اسمبلی نے اُن کے اِن حالیہ دُکھوں کے ازالے کے لیے اُن سے کیا وعدے کیے؟ اِس بارے میں ظاہر ہے سپیکر پنجاب اسمبلی ہی بہتر بتاسکتے ہیں، البتہ ایک بات سمجھ سے بالاتر ہے، اگر اس ملک کی اصل قوتیں چودھری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کا یا بنوانے کا فیصلہ کرلیں، ایسی صورت میں بے چارے عثمان بزدار کی کوئی مدد وہ کیسے کرسکیں گے؟ ہوسکتا ہے وزیراعلیٰ پنجاب کے ساتھ اپنی ملاقات میں سپیکر پنجاب اسمبلی نے اُن سے گزارش کی ہو کہ وہ کسی بیماری کا بہانہ بناکر، یا اس نوعیت کا کوئی اور بہانہ بناکر خود ہی اپنے منصب سے الگ ہوکر اپنے محسن وزیراعظم عمران خان کے لیے آسانی پیدا کردیں، اور اُنہیں کسی بڑی آزمائش سے بچا لیں۔ اِس کا فائدہ یہ ہوگا اِس ملک کی اصل قوتوں کے ساتھ وزیراعظم کے تعلقات خوشگوار رہیں گے، جن کے خراب ہونے کے امکانات روز بروز بڑھتے جارہے ہیں۔ میں اِس ملک کی ”اصل قوتوں“ کے اتنے حق میں نہیں ہوں۔ ملک وقوم کے لیے اُن کی قربانیوں اور جذبے یقیناً قابلِ قدر ہیں، مگر اُن کے جمہوریت دشمن اقدامات، خصوصاً الیکشن اور سیاست میں اُن کی بے جا مداخلت سے ملک وقوم کو جو نقصان پہنچتا ہے وہ اس فائدے سے کہیں زیادہ ہے جو اُن کی نظر میں یا اُن کی وجہ سے ملک وقوم کو پہنچتا ہے، دوسری طرف ہمارے اکثر سیاسی حکمران چونکہ اُن کے مشوروں اور فیصلوں کے محتاج ہوتے ہیں اور اُنہیں اپنے لیے باعثِ فخر اور باعث اعزاز سمجھتے ہیں تو ایسی صورت میں وہ بُھولے سے اگر کوئی اچھا مشورہ دے دیں اُس پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے، نہ اسے اپنی انا کا مسئلہ بناکر اپنے پاﺅں پر کلہاڑی مارنے کا اہتمام کریں، کیونکہ اُنہیں ”ناں“ سننے کی عادت نہیں ہوتی۔ ویسے بھی اُن کے کچھ برے مشوروں پر عمل کیا جاسکتا ہے تو اُن کے ایک آدھ اچھے مشورے پر عمل کرلینے میں بھی کوئی حرج نہیں، .... سو اگر یہ تاثر درست ہے کہ اس ملک کی اصل قوتیں وزیراعلیٰ پنجاب کی مسلسل نااہلیوں اور ناکامیوں کے باعث اُنہیں ہٹوانے کے لیے سرگرم ہیں اور اِس حوالے سے دباﺅ ڈال رہی ہیں میرے خیال میں یہ واحددباﺅ ہے جو حکومت اور وزیراعظم کے حق میں ہی جائے گا، ....محترم وزیراعظم، پنجاب کو جتنی جلدی ”بزدار گردی“ سے نجات دلوادیں اُن کی جماعت اِس سے کم ازکم اگلے الیکشن میں چند سیٹیں بغیر کسی کی مدد اور سرپرستی کے بھی نکال لے گی، بصورت دیگر اُن کی جماعت کا پنجاب سے مکمل طورپر صفایا ہوجائے گا، ....ذاتی طورپر مجھے خان صاحب کے ”یوٹرنوں“ سے سخت نفرت ہے۔ یہ اُسی جھوٹ کی ایک قسم ہے جسے آپ نے بُرائیوں کی ”ماں“ قرار دیا ہے۔ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا خواب کم ازکم یوٹرن لے لے کر تو پورا نہیں ہوسکتا۔ لیکن وزیراعلیٰ بزدار کے معاملے میں مسلسل اپنی ضِد پر قائم

رہنے کے بجائے وہ ”یوٹرن“ لے لیں تو یہ واحد ”یوٹرن“ ہوگا جس پر میں بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔ اِس سے صوبے کو ایک ایسے نکمے شخص سے نجات مل جائے گی جس نے ایک سال میں سوائے باتیں بنانے کے یا چھوٹا موٹا مال وغیرہ بنانے کے کچھ نہیں کیا،اُن پر یہ شعر بڑا فِٹ آتا ہے ” یہ درست ہے کام چلایا باتوں سے ہم نے .... اگرچہ بات بھی آئی ہمیں بنانی کہاں“ .... اُن کی طرف سے باتیں بنانے کا ٹھیکہ خان صاحب نے پنجاب میں ڈاکٹر شہباز گل کو دیا ہوا ہے، وہ ایک پڑھے لکھے انسان ہیں، باتیں شاتیں خوب بنالیتے ہیں، البتہ مجھے یقین ہے تنہائی میں بیٹھ کر وہ بھی ضرور سوچتے ہوں گے خان صاحب نے کس ڈفر کو ڈیفینڈ کرنے پر مجھے لگا دیا ہے، اس حوالے سے ایک شعر ڈاکٹر شہباز گل کے لیے بھی عرض ہے ”گزرے وہ سانحے میری قدآوری کے ساتھ ....بے قامتوں کے سامنے جھکنا پڑا مجھے“،....ایک اور بات کی مجھے سمجھ نہیں آرہی ، خان صاحب پنجاب کو ”بزدارِ خاک“ کرنے پر بضد کیوں ہیں؟، ایک آدھ ”مجبوری“ کا تو ہمیں پتہ ہے، مگر مجھے نہیں لگتا صوبے کو تباہی سے بچانے کے لیے یہ ”مجبوری“ اُن کے نزدیک اتنی اہمیت کی حامل ہے، اگلے روزڈاکٹر شہباز گل نے ایک پریس کانفرنس میں شاید خان صاحب کی طرف سے یہ فرمایا کہ ”پارٹی کے جن لوگوں کو بزدار کی شکل پسند نہیں وہ پارٹی چھوڑ دیں“ ....خان صاحب کی اطلاع کے لیے عرض ہے پارٹی کے علاوہ بھی بے شمار لوگوں کو بزدار صاحب کی شکل خصوصاً اُن کا کام پسند نہیں، تو کیا وہ ملک چھوڑ دیں؟اس طرح تو شاید پورا پنجاب خالی ہو جائے گا، .... میرے خیال میں یہ رویہ انتہائی نامناسب ہے، خان صاحب کو وزیراعظم ہاﺅس میں بیٹھ کر شاید یہ اندازہ نہیں ڈاکٹر شہباز گل کے ذریعے دیئے جانے والے اِس پیغام سے پارٹی کے پہلے سے مایوس مخلص کارکنوں کو کتنی تکلیف پہنچی ہے۔ خان صاحب کو تو یہ بھی اندازہ نہیں بزدار کی نااہلیوں اور مسلسل ناکامیوں کا سارا ملبہ یا نزلہ خود خان صاحب پر اِس لیے گر رہا ہے کہ لوگ ایمان کی حدتک اس یقین میں مبتلا ہیں کہ پنجاب کو وزیراعظم عمران خان ہی چلا رہے ہیں، اور ویسے ہی چلارہے ہیں جیسے مرکز چلارہے ہیں، پچھلے دنوں سنا ہے ایک اجلاس میں وفاقی وزیر زرتاج گل نے بزدار کی مسلسل نااہلی سے پنجاب کو پہنچنے والے نقصانات کا ذکر کیا تو اجلاس میں موجود وزیراعظم نے زرتاج گل کی جو ”خاطر“ کی یہ اُنہی کا حوصلہ ہے اِس کے باوجود وہ وزارت سے چمٹی ہوئی ہیں۔ خان صاحب کو اقتدار مل گیا۔ دعا ہے اُنہیں عقل بھی ملے!!


ای پیپر