Source : Yahoo

اسحاق ڈار کی وطن واپسی ،عمران خان کوبرطانیہ نے بڑے امتحان میں ڈال دیا
14 ستمبر 2018 (21:26) 2018-09-14

لندن :برطانوی حکومت نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ڈی پورٹ کرنے کی عوامی درخواست مسترد کردی ہے۔تفصیلات کے مطابق برطانیہ نے عوامی درخواست مسترد کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ برطانیہ اور پاکستان میں مجرموں کے تبادلے کا معاہدہ نہیں ہے۔ اس لئے حکومت پاکستان کو باقاعدہ رابطہ کرنا ہوگا۔

برطانوی حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ پاکستان کے ساتھ مجرموں کے تبادلے کا معاہدہ نہیں ہے۔ اس لئے اسحاق ڈار کو ڈی پورٹ نہیں کیا جا سکتا۔حکومت برطانیہ کے مطابق قانون میں گنجائش موجود ہے اور اس کے لئے حکومت پاکستان کو باقاعدہ رابطہ کرنا ہوگا۔

پٹیشن مسترد کرنے والی کمیٹی کا کہنا ہے کہ انہوں نے درخواست پر 10 ہزار افراد کے دستخط کے بعد اس کا جائزہ لیا تاہم اسے تکنیکی اور قانونی وجوہات کی بناءپر مسترد کر دیا گیا،برطانوی حکومت کی جانب سے درخواست کے جواب میں کہا گیا ہے کہ اسحاق ڈار کے خلاف آن لائن پٹیشن غلط بیانی اور تضحیک آمیز شواہد پر مبنی ہے اور اس درخواست کی بنیاد پر اسحاق ڈار کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جا سکتا،برطانیہ اور پاکستان کے درمیان ملزمان کے تبادلے کا کوئی معاہدہ نہیں ہے تاہم اگر حکومت پاکستان کی جانب سے درخواست پر مطلوب فرد کی بے دخلی کے لیے خصوصی انتظامات کیے جا سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ چند روز قبل سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا تھا کہ اسحاق ڈار کو 10 روز کے اندر ملک میں واپس لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں،وفاقی حکومت نے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور ان کی اہلیہ کا پاسپورٹ منسوخ کر دیا تھا جس کے بعد سے وہ بغیر پاسپورٹ کے برطانیہ میں رہ رہے ہیں۔


ای پیپر