آئین و قانون کی فرمانروائی اور فروغ جمہوریت
14 ستمبر 2018 2018-09-14

پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناحؒ ساری عمر آئین اور قانون کی حکمرانی کے قائل رہے۔ انہوں نے اپنی پوری سیاسی جدوجہد میں کبھی آئین سے ہٹ کر کوئی راستہ اختیار نہیں کیا اور مملکت کی آزادی کے بعد بھی انہی اصولوں کو اپنائے رکھا اور مرتے دم تک آئین و قانون کی فرمانروائی پر کاربند رہے۔ قائداعظمؒ کا کہنا تھا کہ آئین کو مملکت میں ہمیشہ سربلند رکھا جائے اور اسے پوری طرح ہر حالت میں نافذالعمل ہونا چاہئے۔ جمہوری روایات کو مسلسل فروغ ملنا چاہئے۔ قائداعظمؒ نے اپنی زندگی میں جب بھی کسی دوسرے ادارے خواہ وہ کتنا طاقتور نظر آتا ہو کے افراد کو ریاستی امور یا سیاست میں مداخلت کی کوشش کرتے دیکھا تو اس کو سخت ناپسند فرمایا اور اس پر فوری ایکشن لیا۔قائداعظمؒ نے پاکستان کی بیوروکریسی سے ہمیشہ یہ کہا کہ وہ اپنے فرائض قانون کے مطابق ادا کریں۔ حتیٰ کہ اگر کوئی اعلیٰ افسرانہیں قانون کے منافی کچھ کرنے کا حکم دے تو اس کے حکم کو ماننے سے صاف انکار کر دیں۔ ہمارا المیہ یہ رہا ہے کہ ہم نے قائد کے فرمان اور تمام اصول و ضوابط کو بھلا کر فرائض انجام دینے کی کوشش کی ۔ بعض اداروں نے بار بار دوسرے اداروں کی حدود میں دخل اندازی کی ، جس سے ملک میں قانون اور آئین کی حکمرانی کو ضعف پہنچا۔

اس امر کی جانب توجہ دلانا بھی ازبس ضروری ہے کہ آئین کی بالادستی کو یقینی بنانا ریاست کے تینوں ستونوں عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ کا فرض ہے۔ کسی بھی ادارے کی جانب سے اپنی مقررہ حدود سے تجاوز نہ صرف جمہوریت کے لئے زہرقاتل ہے بلکہ اس کے عوامی فلاح و بہبود پر بھی شدید منفی اثرات پڑتے ہیں۔ ریاست کے تینوں ستونوں کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا ہوتا ہے۔ آئین نے عدلیہ پر بنیادی حقوق کے تحفظ کی بھاری ذمہ داری عائد کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف عدلیہ کو انتظامیہ اور مقننہ سے الگ رکھا گیا ہے بلکہ آئین میں عدلیہ کی آزادی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ معاشی ترقی، عوام کی خوشحالی اور جمہوریت کے فروغ کے لئے ضروری ہے کہ معاشرہ میں عدل و انصاف، امن اور قانون کی حکمرانی ہو۔ ایسا جب ہی ہو سکتا ہے جب ہر ادارہ اپنا اپنا کام آئینی اور قانونی تقاضوں کے ساتھ مکمل فرض شناسی کے ساتھ انجام دے رہا ہو۔ آئین میں مختلف اداروں میں تقسیم کار کا اصول وضع کیا گیا ہے جس کے تحت ریاست کے تینوں بنیادی ستونوں یعنی عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ کو اپنی مقررہ حدود کے اندر رہتے ہوئے کام کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ آئین کی بالادستی کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ بنیادی حقوق کی حفاظت کی ذمہ داری عدلیہ کے حوالے کی گئی ہے۔ یہ مسلمہ امر ہے کہ عدل و انصاف کا عمل ملک میں وحدت اور اخوت کا باعث ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی اختلاف یا غیریقینی صورت حال میں تمام اداروں اور عوام کی نظریں

ہمیشہ عدلیہ پر رہتی ہیں اور عدلیہ نے اپنے طور پر حالات کے مطابق ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ اپنے قانونی و آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے عوامی بہبود میں ایسا فیصلہ صادر کیا جائے جس سے غیرقانونی اقدامات کی حوصلہ شکنی ہو اور معاشرے میں امن و انصاف کو فروغ ملے تاکہ جمہوریت اور ریاستی بنیاد کو مضبوط کیا جا سکے۔ سب جانتے ہیں کہ عدلیہ کے فرائض کی بطریقِ احسن ادائیگی میں بار کا کردار ہمیشہ ہی اہم ہوتا ہے۔ بار کی معاونت کے بغیر جج حضرات اپنی ذمہ داری سے بہتر طور پر عہدہ برآ نہیں ہو سکتے۔ ملک میں قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ بنچ اور بار میں مکمل ہم آہنگی اور تعاون کی فضا قائم ہو۔ انصاف کی گاڑی کے یہ دو پہیے ساتھ ساتھ چلیں اور اپنی مشترکہ منزل مقصود، یعنی فریقین مقدمہ کے مابین آئین و قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی کو حاصل کر لیں۔ بار اور بنچ ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں، یہ بات درست ہے مگر گزشتہ کچھ عرصے سے وکلاء نے بعض معاملات میں قانون کو جس طرح ہاتھوں میں لیا، جج حضرات سے بدتمیزی کی اور ججوں کی عدالتوں کو تالے تک لگائے وہ قابل افسوس ہے۔ وکلاء کو قانون کی حکمرانی کا عام شہری سے زیادہ پابند ہونا چاہئے۔ پاکستان کی وکلاء برادری کو اب قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے لئے اپنی صفوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ جج حضرات اپنی صلاحیتوں اور علمیت کے مطابق انتہائی دیانتداری اور غیرجانبداری کے ساتھ فیصلے کرتے ہیں اس لئے میڈیا ادور دیگر ناقدینغیرضروری تنقید سے گریز کریں۔ کسی ملک کو آئین کے مکمل نفاذ اور قانون کی حکمرانی کے بغیر چلانا ممکن نہیں اس لئے تمام اداروں اور افراد کو اپنی اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہئے تاکہ ملک درست راستے پر آگے بڑھ سکے۔

سیاسی مبصرین ن لیگ اور اس کی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کو مشورہ دے رہے ہیں ہیں کہ وہ احتجاجی اور اشتعالی منفی سیاست کو ترک کر کے حالیہ عام انتخابات کے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے مثبت طرزِ سیاست کو اپنائیں۔ حکمران جماعت کو تنقید کا نشانہ ضرور بنائیں لیکن یہ تنقید تعمیری اور صحت مندانہ ہونی چاہئے نہ کہ محض تنقید برائے تنقید۔ عوام کسی بھی اپوزیشن جماعت کے رہنما کے تنقید برائے تخریب کے چلن کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ انہیں25جولائی سے تادمِ تحریر رونما ہونے والے تمام احوال و وقائع کو سامنے رکھتے ہوئے2023ء کے عام انتخابات کی تیاری کرنا چاہئے اور میدانِ انتخابات میں اتارنے کے لئے باکردار اور اصول پرست امیدواروں کی تلاش کے جمہوری عمل کو شروع کر دینا چاہئے۔ سالِ رواں کے عام انتخابات نے مقبولیت کے بے جا غرور میں مبتلا شکست خوردہ جماعتوں، ان کے قائدین اور رہنماؤں کو یہ سبق بھی دیا ہے کہ وہ اعلیٰ جمہوری اقدار و روایات کو فروغ دینے کے عمل کو اپنا نصب العین بنا لیں۔یہ رویہ لائقِ تحسین ہوگا کہ وہ پی ٹی آئی کی شاندار کامیابی کو بھی فراخدلی سے تسلیم کریں اور تعمیرِ پاکستان اور استحکامِ پاکستان کے عظیم نصب العین کے حصول کے لیے سرگرم عمل ہوجائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ احتجاجی اور اشتعالی سیاست بہت ہو چکی۔ اعلیٰ جمہوری اقدار و روایات اس وقت تک پنپ نہیں سکتیں جب تک اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے قائدین اپنی جماعت کے عہدیداروں اور کارکنوں کو تحمل، برداشت اور رواداری کی عمدہ اقدار کو اپنا شیوہ و شعار بنانے کے لئے ان کی ذہنی و فکری تربیت نہیں کرتے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہعام انتخابات کو پُرامن بنانے میں ا فواجِ پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا ہے لیکن سیاسی قوتوں کو یہ حقیقت پیش نظر رکھنا چاہئے کہ ہر انتخاب کے موقع پر فوج کو نہیں بلایا جا سکتا۔ الیکشن کمیشن کو بھی جان لینا چاہئے کہ دورانِ انتخابات اس کے ذمہ داران کو خاموش تماشائی اور مبصر کا کردار ادا نہیں کرنا چاہئے بلکہ عملے کی تربیت میں جو کمی رہ گئی ہے اسے2023ء کے الیکشن تک دور کیا جائے تاکہ کسی کو بھی الیکشن کمیشن آف پاکستان کے طرزِ عمل پر انگشت نمائی کا موقع نہ ملے۔


ای پیپر