کلثوم میں باؤ جی ۔۔۔!
14 ستمبر 2018 2018-09-14

محترمہ کلثوم نواز کی رحلت پر میاں محمد نواز شریف، محترمہ مریم نواز اور شریف فیملی کے دوسرے ارکان ہی صدمے اور غم کا شکار نہیں ہیں۔ پوری قوم بھی سوگوار ہے۔ کیا اپنے کیا پرائے، کیا معتقدین کیا معترضین، کیا متوسلین اور کیا مخالفین۔ سبھی کے سبھی نے دِلی رنج و غم اور صدمے کا اظہار کیا ہے ۔بلا شبہ محترمہ کلثوم نواز سنجیدگی اور متانت کا پیکر ایک خوبصورت، شاندار اور باوقار خاتون تھیں۔ جنہوں نے ہر طرح کے دُکھ برداشت کیے ، شدید طویل بیماری کاٹی۔ غیروں کے طعنے سنے۔ وطن سے دُوری اختیار کی لیکن اُف تک نہ کی۔ راضی بہ رضا رہیں اور جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔ محترمہ اگلے جہان کو سدھار چکی ہیں اور جاتی اَمرا کی خاک میں اپنے قابل احترام مرحوم سسُر کے پہلو میں دفن ہو چکی ہیں۔ اُن کے لیے لاکھوں کروڑوں افراد دست بدعا ہیں کہ اللہ کریم اُن کی مغفرت فرمائیں، اُن کی آخرت کی منزلیں آسان کریں اور اُن کے درجات بلند کریں۔

کاتبِ تقدیر نے ابتدائے آفرینش میں ہی یہ لکھ دیا تھا کہ محترمہ بیگم کلثوم نواز جب اِس جہانِ فانی سے کوچ کریں گی تو اُن کے وفا شعارشوہر ، اُن کے پیارے باؤ جی اور اُن کی لاڈلی اور پیاری بیٹی گڑیا (مریم نوا ز) اُن کے سرہانے پر موجود نہیں ہونگے۔ وہ دو ماہ قبل لندن کے ہارلے سٹریٹ کلینک میں اُنہیں بستر مرگ پر چھوڑ کر ایون فیلڈ ریفرنس میں نیب کورٹ نمبر1اسلام آباد میں ملنے والی طویل قیداور بھاری جرمانوں کی سزائیں سینے سے لگانے کے لیے وطن لوٹ آئیں گے اور اڈیالہ جیل کی کال کوٹھریاں اُن کا مسکن ہونگی۔ میاں محمد نواز شریف اور اُن کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اڈیالہ جیل میں ایون فیلڈ ریفرنس میں نیب کورٹ کی طرف سے ملنے والی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔ میاں محمد نوازشریف کو اس کے ساتھ العزیزیہ سٹیل مل اور فلیگ شپ ریفرنسز میں اسلام آبادنیب کورٹ میں پیشیاں بھی بھگتنی پڑ رہی ہیں۔ میاں محمد نوازشریف کی ہر سماعت پر نیب کورٹ حاضری لازمی ہوتی ہے۔ اُنہیں سماعت کے دِنوں میں کڑے پہرے میں اڈیالہ جیل سے نیب کورٹ اسلام آباد لایا جاتا ہے۔ منگل کو جس دن بعد دوپہر محترمہ کلثوم نواز کا لندن ہارلے سٹریٹ کلینک میں انتقال ہوا میاں محمد نواز شریف نیب کورٹ میں پیشی بھگتنے کے لیے آئے ہوئے تھے کہ انہیں محترمہ کلثوم نواز کی بگڑتی حالت کے بارے میں اُن کے معاونین نے بتایا۔ عینی شاہد کے طور پر جنگ میڈیا گروپ کے انگریزی اخبار دی نیوز کے ایڈیٹر انویسٹی گیشن محترم انصار عباسی نے روزنامہ جنگ میں احتساب عدالت نمبر ۲اسلام آباد کے کمرہ عدالت کے اُس دِن کا احوال بیان کرتے ہوئے لکھا ’’احتساب عدالت نے منگل کو میری موجودگی میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کو اُن کے معاونین نے اہلیہ کی بگڑی ہوئی صحت کے بارے میں آگاہ کیا جو بعد ازاں چند گھنٹوں بعد ہی لندن کے ہسپتال میں وفات پا گئیں۔ یہ خبر یقیناًنوازشریف کے لیے رنج و الم کا باعث رہی ہوگی۔ لیکن اُس وقت تک کوئی نہیں جانتا تھا کہ بعد ازاں دِن میں کیا ہونے والا ہے ۔نواز شریف کو اپنی زندگی میں ملنے والی سب سے بُری خبر تھی۔ میں (انصار عباسی) نواز شریف کے ساتھ بیٹھا تھا وہ اپنی اہلیہ کی صحت کے حوالے سے اطراف میں لوگوں کے ساتھ گفتگو سے پرہیز کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے حوا س برقرار رکھتے ہوئے پُر سکون انداز میں دھیمی آواز کے ساتھ اپنے ایک معاون کو فوری حسین نواز سے بات کرنے اور بیگم صاحبہ کی صحت کے حوالے سے تازہ ترین کیفیت معلوم کرنے کے لیے کہا۔ شاید انہیں خدشہ تھا کہ جیل لوٹ جانے کے بعد وہ اپنی شریک حیات کی صحت کے متعلق تازہ ترین کیفیت کی بابت معلوم نہ کر سکیں گے۔ چند منٹ کے بعد معاون نے حسین نواز کی گفتگو کے حوالے سے بتایا کہ بیگم کلثوم نواز کو دوبارہ وینٹی لیٹر پر ڈال دیا گیا ہے اور اُن کی حالت نازک ہے میاں صاحب کے برابر میں بیٹھے میں نے یہ گفتگو سُنی اِس حوالے سے میاں صاحب نے کسی سے کوئی بات نہیں کی۔ میں نے اُن سے پوچھا انہیں اپنی اہلیہ سے بات کرنے کا موقع ملا ؟ اُنہوں نے اثبات میں کہا ہاں مختصر وقت کے لیے بات کرنے کی اجازت دی گئی‘‘۔محترم انصار عباسی نے آگے چل کر لکھا ہے کہ’’ احتساب عدالت میں سماعت کے بعد جب یہ نمائندہ (انصار عباسی) اپنے دفتر پہنچا تو جیو پر نیب کے خط کے بارے میں بریکنگ نیوز چل رہی تھی کہ کیپٹن صفدر ، اُن کی اہلیہ مریم، اُن کے بیٹے اور دو بیٹیوں کی جائیداروں کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ جس سے اس بات کی توثیق ہوتی ہے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے بعد جو پہلے ہی سزائیں اور قید بھگت رہے ہیں نیب کرپشن کے کیسز معلوم کرنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے۔ اس خبر کے جیو نیوز پر نشر ہونے کے ایک گھنٹے کے اندر بیگم کلثوم نواز کی وفات پا جانے کی الم ناک خبر میڈیا کے لیے ’’ٹاپ سٹوری‘‘ (سب سے بڑی خبر) بن گئی‘‘۔

جناب انصار عباسی کی یہ ایکسکلوزو (Exclusive)سٹوری ایک دن یا اُس سے بھی کم یا آدھے دن کی رُوداد ہے جس کا میاں محمد نواز شریف اور اُن کی فیملی کو گزشتہ تقریبا ایک سال سے سامنا ہے ۔ گزشتہ سال جولائی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی فاضل بنچ نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو اپنے بیٹے کی کمپنی کا اقامہ رکھنے اور اُس سے تنخواہ لینے (جو کبھی وصول نہ کی گئی) کے الزامات کے تحت نااہل قرار دیا گیا۔تو بیگم کلثوم نواز نے میاں محمد نواز شریف کی قومی اسمبلی کی خالی ہونے والی نشست NA-120لاہور سے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اپنے کاغذات جمع کروائے اِسی دوران اُن کی طبعیت خراب ہوئی تو انہیں اپنی انتخابی مہم ادھوری چھوڑ کر علاج کے لئے لندن جانا پڑا۔ لندن میں ڈاکٹروں کی ٹیم نے اُن کا مرض کینسر تشخیص کیا اور لندن کے ہارلے سٹریٹ کلینک میں وہ پچھلے ایک سال سے زیر علاج تھیں جہاں وہ شدید تکلیف کی حالت میں رہیں اور کئی بار اُن کی کیمو تھراپی جو ایک تکلیف دہ عمل ہے بھی کی گئی۔ اس دوران اُن کے پھیپھڑوں کے اور دل کے مسائل بھی پیدا ہوئے اور انہیں بار بار وینٹی لیٹر پر جانا پڑا۔ 6جولائی کو میاں محمد نواز شریف، محترمہ مریم نواز اور کیپٹن ریٹارڈ صفدر کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نیب عدالت نمبر1اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے قید اور جرمانوں کی سزائیں سنائیں تو میاں محمد نواز شریف اور محترمہ مریم نواز لندن میں اُن کی تیماداری کے لئے موجود تھے لیکن وہ دُنیا و مافیا سے بے خبر وینٹی لیٹر پر بے ہوش پڑیں تھیں۔ میاں محمد نواز شریف اور محترمہ مریم نواز نے نیب کورٹ سے ملنے والی سزاؤں کو گلے سے لگانے کے لیے وطن واپسی کا فیصلہ کر لیا تو اُن کی خواہش تھی کہ

کاش محترمہ کلثوم نواز ہوش میں آجائیں اور وہ اُن سے ایک دو باتیں کر سکیں۔ الوداعی جملے کہہ سکیں۔ میاں محمد نوازشریف نے وطن روانگی سے قبل انہیں پکارتے ہوئے الوداعی جملے ضرور کہے ’’ کلثوم میں باؤ جی ، کلثوم میں باؤ جی ذرا آنکھیں کھولیں اللہ تعالیٰ آپ کو صحت دے‘‘۔ میاں محمد نواز شریف کے ابتدائی جملے محترمہ کلثوم نواز سن سکیں یا نہ سُن سکیں لیکن انہوں نے آگے سے کچھ جواب دیا اور نہ ہی آنکھیں کھولیں۔ محترمہ مریم نواز کی الوداعی سسکیاں بھی محترمہ کلثوم نواز نے سُنیں یا نہ سُنیں لیکن انہیں بھی کچھ جواب نہیں ملا۔ یقیناًیہ ایک دِل دوز منظر ہوگا لیکن لندن کی ہارلے سٹریٹ کلینک کی فضا میں میاں محمد نواز شریف کا اپنی پیاری رفیقہ حیات ، اپنی اہلیہ محترمہ کے لیے دل کی گہرائیوں سے محبت، خلوص اور درد سے لبریز جملے’’ کلثوم میں باؤ جی، کلثوم میں باؤ جی آنکھیں کھولیں اللہ تعالیٰ آپ کو صحت دے‘‘ پتہ نہیں کب تک گونجتے رہیں اور اس کے ساتھ مریم نواز کی الوداعی چیخیں اپنی بہن اسماء کے ساتھ گلے لگ کر رونے کی آوازیں اور حسین نواز اور حسن نواز اور اُن کے بچوں کے غمزدہ اور اُداس چہرے اور اُن کی سسکیاں کب تک ہارلے کلینک کی فضاؤں کو سوگوار بنائے رکھیں گیں۔ یہ وقت ہی بتائے گا لیکن اتنی بات

وقت کے لمحات میں رقم ہو چکی ہے کہ یہ ایثار، یہ قربانیاں، یہ دُکھ، یہ تکلیفیں، یہ عزم، یہ حوصلے رایئگاں نہیں جائیں گے۔ یہ اپنے اثرات ضرور سامنے لائیں گے اور میاں محمد نواز شریف اور اُن کے گھرانے کے لیے ایک نئے دور کی نوید سامنے لے کر آئیں گے۔ یقیناًوہ دِن دور نہیں جو نئی سحر کے ساتھ طلوع ہوگا۔ میاں محمد نواز شریف اور محترمہ مریم نواز شریف آپ کے عزم و حوصلے اور آپ کی قربانیوں کو سلام!


ای پیپر