اور میری ساری فضیلت اسی پوشاک سے ہے
14 ستمبر 2018 2018-09-14

لاہور کو پاکستان کا ثقافتی دارالحکومت کہا جاتا ہے۔ یہ پنجاب کے سینے میں دل کے دھڑکتا ہے اور پنجاب کے ہر شعبے سے نکلنے والی ساری شاہراہیں اور سارے راستے لاہور پہنچ کر ختم ہوتے ہیں۔ اس لیے لاہور میں رہنے کا فائدہ یہ ہے کہ یہاں ہر علاقے اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے پروفیشنلز سے آپ کا رابطہ رہتا ہے اور اگر آپ کا تعلق صحافت سے ہو تو یہ رابطے خواہ یکطرفہ ہی کیوں نہ ہو نہایت جامع ہوتے ہیں۔ بطور مہمان آپ اگر کسی شخصیت کے بارے میں لکھ رہے ہیں یا اظہار خیال کر رہے ہیں تو اس کے لیے اہمیت اس بات کی ہے کہ ان کے بارے میں آپ کی معلومات معتبر ہونی چاہیے اس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ آپ انہیں جانتے ہوں یہ قطعی ضروری نہیں کہ وہ بھی آپ کو اتنا ہی جانتے ہیں۔ اس ہفتے ایک نجی محفل میں ہماری غیر متوقع ملاقات آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی جنرل ریٹائرڈ ظہیر الاسلام صاحب کے ساتھ ہوئی۔ جنرل صاحب کا شمار پاکستان کے خفیہ ادارے کے ایسے سربراہوں میں ہوتا ہے جو میڈیا سے دور رہ کر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز رکھنے کو ترجیح دیتے رہے۔ ان کے برعکس ایسے آئی ایس آئی چیف بھی ہو گزرے ہیں جنہوں نے بھارتی ہم منصب کے ساتھ مل کر کتاب تصنیف کر ڈالی۔ اس سے ہماری مراد جنرل (ر) اسد درانی کی کتاب "The Spy Chronicle - RAW, ISI and illusion of Peace" جس پر انہیں انکوائری کا سامنا ہے۔ جنرل ظہیر الاسلام صاحب نے جس پرتپاک طریقے سے اپنی نشست سے کھڑے ہو کر میرے ساتھ مصافحہ کیا اور نیک خواہشات کا تبادلہ کیا اس سے ان کی عاجزی اور بردباری کی جھلک نظر آتی ہے۔ یہ یادگار لمحات میرے ذہن میں محفوظ رہیں گے اس سے زیادہ ذکر کرنا مناسب نہیں ہے البتہ اس پس منظر کا حوالہ دینا ناگزیر ہے جس میں یہ ملاقات ہوئی۔ جنرل ظہیر الاسلام اور میرے درمیان ایک قدر مشترک ہے بلکہ یہ ہماری common love ہے جس کا نام بریگیڈیئر (ر) اختر نواز جنجوعہ صاحب ہے۔ بریگیڈیئر صاحب بھی آئی ایس آئی میں خدمات انجام دے چکے ہیں ان کے ساتھ میری نیاز مندی ان کی روحانی تحریروں اور قومی حالات حاضرہ پر ان کی گرفت اور ان کی اردو اور انگریزی میں اعلیٰ درجے کی مہارت اور Description of facts کی وجہ سے ہے۔ بریگیڈیئر جنجوعہ صاحب جب لاہور آتے ہیں تو اگر ان کے پاس وقت ہو تو ضرور یاد کرتے ہیں اور مجھے ان کی ملاقات سے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بہت سی نئی چیزیں سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

جولائی انتخابات سے کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ عمران خان اور پیر حمید الدین سیالوی صاحب کے درمیان ایک ملاقات ہوئی جس میں پیر سیالوی صاحب نے پاکستان تحریک انصاف کی انتخابات میں حمایت کا اعلان کیا۔ اس ملاقات کی جو تصویر پی ٹی آئی نے میڈیا کو جاری کی اس میں پیر حمید الدین سیالوی صاحب کے پہلو میں بریگیڈیئر اختر نواز جنجوعہ صاحب کھڑے تھے جبکہ دوسری جانب عمران خان تھے۔ یہ تصویر دیکھ کر میں نے

بریگیڈیئر صاحب کو فون کیا تھا۔ اس ساری پیش رفت کے پیچھے ختم نبوت کے بارے میں ہونے والی آئینی ترمیم اور اس کے بعد ازاں تنسیخ کا معاملہ تھا۔ مجھے اپنے ذرائع سے پتا چلا ہے کہ ختم نبوت کے معاملے پر اس بحرانی دور میں جب سابق وزیراعلیٰ شہبا زشریف پر رانا ثناء اللہ کو وزارت سے ہٹانے پر کافی دباؤ تھا تو شہباز شریف نے پیر سیالوی صاحب کے پاس جانے کا فیصلہ کیا کہ ان کی حمایت حاصل کی جائے۔ بریگیڈیئر جنجوعہ صاحب کا چونکہ پیر صاحب کے ساگھ گہرا روحانی تعلق تھا مگر ختم نبوت کے معاملے میں جنجوعہ صاحب کیسی بھی قیمت پر سمجھوتہ کے حق میں نہیں تھے۔ اس وجہ سے انہوں نے اس عرصہ میں قبلہ سیالوی صاحب کے ساتھ رابطے کم کر دیئے جس کی وجہ پیر صاحب کو بھی معلوم تھی۔ تمام تر افواہوں اور قیاس آرائیوں کے باوجود جب پیر صاحب نے ختم نبوت کے معاملے پر شہباز شریف کا ساتھ چھوڑ کر عمران خان کی حمایت کا فیصلہ کیا تو بریگیڈیئر جنجوعہ صاحب کو بطور خاص اس موقع پر تحریک انصاف اور پیر حمید الدین سیالویؒ دونوں جانب سے دعوت دی گئی تھی کہ وہ اس موقع پر تشریف لائیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کوئی کینہ ساز کیا جائے کہ حضرت محمدؐ کا مقام و مرتبہ کیا ہے یہ لوگ یہ سمجھ ہی نہیں سکتے

عشق جس کو بھی مصطفیؐ سے ہے

بس وہی آشنا خدا سے ہے

صرف اتنا ہی جانتا ہوں میں

میری پہچان مصطفیؐ سے ہے

بریگیڈیئر اختر جنجوعہ کی شخصیت کو define کرنے کے لیے اگر صرف ایک جملے میں بیان کرنا مقصود ہو تو وہ ان کا عشق رسول ؐ ہے جسے وہ اپنی زندگی کا حاصل قرار دیتے ہیں۔ بقول پروین شاکر : اور میری ساری فضیلت اسی پوشاک سے ہے۔ البتہ قومی معاملات پر وہ اپنی رائے کا بے دھڑک اظہار کرتے ہیں اور اس معاملے میں کسی بھی مصلحت کو خاطر میں نہیں لاتے۔ عمران خان حکومت کی اکنامک ایڈوائزری کونسل ( EAC ) میں ایک احمدی رکن کونسل کی بطور ماہر معاشیات تقرری کے معاملے پر ان کا اپن ایک موقف ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر رکن عاطف میاں کی معاشی خدمات کے سلسلے میں ناگزیر ضرورت ہے تو انہیں EAC کا ممبر بنائے بغیر بھی ان سے ملکی معاشی بہتری کے لیے ان سے سفارشات لی جا سکتی ہیں اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جو شخص بے لوث طور پر اپنے ملک کی خدمات کرنا چاہتا ہو اس کو کسی عہدے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ انہوں نے اس معاملے میں وزیر اعظم عمران خان کے عاطف میاں کو ہٹانے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ عمران خان خوب سے خوب تر کی جستجو میں اگر اپنے غلط فیصلے پر EGO کا شکار ہونے کی بجائے اسے بدل دیتا ہے تو یہ خوش آئندہ ہے۔ اس کو یوٹرن کہنا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے عمران خان کو مشورہ دیا کہ وہ آئندہ اس طرح کے فتنوں سے بچنے کی کوشش کریں۔ عمران خان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کرکٹ میں 11 بندوں کی قیادت کرتے تھے جبکہ اب انہیں 22 کروڑ لوگوں کی قیادت کرنی ہے لیٰذا ان کا ماضی کا تجربہ یہاں انہیں کام نہیں دے گا یہ ایک قطعی مختلف اور وسیع تر صورت حال ہے جس کے لیے اسے طرح کی وسیع سوچ کی ضرورت ہے۔ انہیں چاہیے کہ پالیسی بیان وہ خود دیا کریں اس سے unity of command کا تاثر مضبوط ہو گا ۔

بریگیڈیئر اختر نواز جنجوعہ نے کہا کہ داسگی مہم پروٹوکول کا خاتمہ صوابدیدی فنڈ کا خاتمہ یہ سب اچھی چیزیں ہیں البتہ عمران خان کو جو سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے وہ خارجہ امور سے متعلق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کو نظر انداز کیے بغیر بھارت سے سے مذاکرات اور باعزت حل کے لیے عمران خان کا یہ بیان متوازن ہے کہ اگر انڈیا ایک قدم چلے گا تو ہم دو قدم آگے بڑھیں گے۔ ان کے خیال میں افغانستان کا مقابلہ انڈیا سے زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ کیونکہ یہاں بین الاقامی طوقتوں کی موجودگی کی وجہ سے حالات کافی پیچیدہ ہیں۔ سی پیک کے پس منظر میں پر امن افغانستان ہمارے فائدے میں ہے کیونکہ یہ ہمارے لیے سنٹرل ایشیائی گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سب کچھ تبدیل کر سکتے ہیں۔ مگر اپنا جغرافیہ تبدیل نہیں کر سکتے اس لیے دوست بدلے جا سکتے ہیں مگر ہمسائے نہیں بدلے جا سکتے۔

پاکستان کی نئی حکومت کے بعد امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو کے پہلے سرکاری دورے کے موقع پر عمران خان کی طرف سے امریکہ کو واضح پیغام دیا گیا کہ ہم اوروں کی جنگ میں مزید Domore نہیں کر سکتے۔ بریگیڈیئر جنجوعہ نے کہا کہ امید ہے کہ اگلے ہفتے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے پہلے سرکاری دورے پہ امریکہ میں دو طرفہ تعلقات کے بارے میں برف پگھلے گی مریکہ کے پتہ ہے کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر افغانستان میں قیام ان کا خواب کبھی شرمندہ تنقید نہیں ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ کو بخوبی علم ہو گیا ہے کہ سول ملٹری قیادت ایک پیج پر ہے ایسا پہلی دفعہ ہوا ہے کہ امریکیوں کو پاکستان آ کر سیاسی قیادت اور عسکری قیادت سے الگ الگ ملاقات نہیں کرنی پڑی بلکہ ایک ہی ملاقات ہوئی اور اس میٹنگ کی صدارت وزیر اعظم نے کی۔

اپنی گفتگو کے دوران بریگیڈیئر جنجوعہ نے کہا کہ اگر حکومت ملک میں ایک منصفانہ طرز حکمرانی قائم کرنا چاہتی ہے تو پولیس کو پولیس فورس کی بجائے پولیس سروس میں بدلنا ہو گا ہمیں فرسودہ colonial نظام سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا ۔

دیا مر بھاشا ڈیم کے لیے قائم کیے گئے قومی فنڈز کو بھیک قرار دینے کو انہوں نے کہا کہ یہ زیادتی ہے پوری دنیا کے ممالک سے بھیک مانگنے کی بجائے اگر ہم اپنوں سے مانگیں تو وہ زیادہ مناسب ہے ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ چندہ میں اپنا حصہ نہیں ڈالنا چاہتے وہ خاموشی اختیار کریں تو یہ بھی پاکستان کی خدمت ہو گی البتہ اس موقع پر چندہ دینے والوں کی حوصلا شکنی کرنا پاکستان سے دشمنی کے مترادف ہے۔ بریگیڈیئر اختر جنجوعہ صاحب کے ساتھ ہونے والی یہ نشست خیال تھا کہ روحانیت کا احاطہ کرے گی مگر بات ختم نبوت سے ہوتی ہوئی قومی سیاست کا رخ اختیار کر گئی بقول فیض۔

ان سے جو کہنے گئے شمے فیض جاں صدقہ کیے

ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد


ای پیپر