تم پیارے لگ رہے ہو ۔۔۔ آج ۔۔۔؟
14 ستمبر 2018 2018-09-14

میری آنکھ کھلی۔۔۔ خاصی مشکل محسوس ہو رہی تھی۔ ایک بزرگ نرس کا چہرہ نمودار ہوا۔ میں نے لپ اسٹک اور غصے والے نتھنوں سے اندازہ لگایا نرس ہے۔ مجھے شہزاد احمد چیمہؔ یاد آگیا۔ ’’ مظفر صاحب محترمہ فردوس عاشق اعوان صاحبہ پندرہ بیس سال بعد پٹھانے خان جیسی لُک "Look" دیا کریں گی؟۔ ’’ اب کیا محسوس ہوتا ہے‘‘۔ میں نے سنجیدگی سے پوچھا تو ہنس دیئے ۔۔۔

ماحول میں پھیلی بے تحاشہ سپرٹ کی خوشبو سے محسوس ہوا۔ میں کسی کلینک پہ ہوں۔ ’’ نرس‘‘ ۔۔۔ یہ کلینک نہیں ہو سکتا۔ میں نے اندازہ لگایا۔ پھر آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگا۔ نرس صاحبہ اس دھندلکے میں ایسے لگ رہی تھیں جیسے بادلوں کے بیچ میں سے ’’ فوکر طیارہ‘‘ گزر رہا ہو۔دھواں چھوڑتا۔۔۔ چل آسمان پر رہا ہے۔ رگڑ زمین پر محسوس ہو رہی ہے۔ سرکاری ملازموں کی قسمیں ہیں لیکن نرس جمعہ کو بھی نرس لگتی ہے اور اتوار کو بھی۔

کوئی نہیں ہے یہاں جیسا خوبرو تو ہے

حسیں بہت ہیں مگر میرے یار تو تو ہے

اپنی ناک سے غصے کا اظہار کر تے ہوئے۔ آنکھ، ناک ، زبان اور ہونٹ سب چیزوں سے انسان کئی طرح کے کام لے سکتا ہے۔ رب جانے۔۔۔ یہ جانوروں نے انسانوں سے سیکھی ہیں یا انسانوں نے جانوروں کو سکھائی ہیں!۔ ویسے دس گیارہ سالہ احمد کان بھی ہلا لیتا ہے ۔۔۔ لیکن گدھے جیسا نہیں لگتا۔ حالانکہ بچوں میں بندر جیسی نقل اتارنے کی عادت اور دوسرے جانوروں جیسی دیگر عادات پائی جاتی ہیں!۔ ایک بزرگ سیاستدان ہیں وہ چپ بھی بیٹھے ہوں تو اُن کے کان ہلتے محسوس ہوتے ہیں۔ ایک سیاستدان اچھا بھی بولیں تو بُرا لگتا ہے بلکہ وہ دنیا کے پہلے انسان ہیں جو بات کریں تو بھی بدبو آتی ہے ۔۔۔؟

بادلوں سے گزرتے ’’ فوکر ‘‘ کے بعد تیزی سے بادلوں میں سے گزرتا ٹرائیٹدنٹ گزرا۔ عینک آنکھوں پہ سجائے۔ ڈاکٹر خلیل۔۔۔ میں نے اس حالت میں بیڈ پر لیٹے بھی اُسے پہچان لیا۔ یہ ڈاکٹر خلیل میرا وہی دوست ہے جس سے میری ہر بار محض اس لیے لڑائی ہو جاتی ہے کہ اُس کے ڈسپنسر ( یقیناًاُس کے حکم سے ) ہر مریض کو ایک ہی سرنج سے ٹیکہ لگائے چلے جاتے ہیں۔ تیر ی بیماری مجھ میں ، میری بیماری اُن میں۔۔۔ یہ ڈاکٹر خلیل دوستوں کو جب مجھ سے ملواتا ہے تو اُنہیں شو کر تا ہے۔ جیسے میں اُس کا کلاس فیلو ہوں حالانکہ اُس نے میٹرک مجھ سے تین سال پہلے کر لیا تھا۔ ویسے اگر میں بھی دو بار فیل نہ ہوتا تو شاید میں مان ہی لیتا۔۔۔ کہ وہ میرا کلاس فیلو رہا ہے۔ میں نے دیکھا وہ گزر گیا۔ میں شدید خواہش کے باوجود حلق سے آواز نہ نکال پایا۔ مجھے ہلکا سا احساس ہواکہ میں کسی چکر میں پڑ چکا ہوں۔

’’ چکر ‘‘ ۔۔۔ مجھے پھر سے چکر آنے لگے۔ شاید میں بے ہوش ہو رہا تھا۔ بے ہوش ہونے کا تجربہ مجھے اس سے پہلے نہیں تھا ۔ جیسے جیب کٹ جانے کا تجربہ بھی مجھے 30 جولائی سے پہلے نہ تھا۔ اتنے ماہر جیب تراش۔۔۔ واہ جی واہ۔۔۔ جیب پوری کٹ گئی ذرا بھی درد محسوس نہ ہوئی۔۔۔ اوہ سوری۔۔۔ جیب کٹنے سے مجھے یاد آ یا درد تو ہوتی نہیں۔۔۔ ہاں بتا رہا تھا تکلیف ہوئی۔ جب پتا چلا کہ روپے پیسے کے ساتھ شناختی کارڈ بھی گیا۔ ’’ اُن ‘‘ کی تصویریں بھی گئی۔ نادرا والوں کا خوفناک چہرہ آنکھوں میں گھوم گیا۔۔۔ لمبی قطاریں ، بدتمیز عملہ۔۔۔ پھر سے وہ ساری کی ساری اذیت اگست کے مہینے میں سہنی پڑے گی؟۔

بے ہوش ہونے کے تجرباتی عمل سے گزرتے ہوئے۔ مجھے آخری منظر یاد آگیا۔ ’’ ارے۔۔۔ میں تو موٹر سائیکل چلا رہا تھا۔۔۔ میں نے تو صبیحہ کو ایس ۔ ایم ۔ ایس کیا تھا۔ ’’حی‘‘ ۔۔۔ (Hi) اُس نے جواب لکھا۔۔۔ ’’ صبح میں نے تمہیں موٹر سائیکل پہ کالج پڑھانے جاتے دیکھا تھا۔ تم بہت خوبصورت لگ رہے تھے‘‘۔

میں نے جوابی ایس۔ ایم ۔ ایس مزے لے لے کر پڑھا۔ صبیحہ کا چہرہ میری آنکھوں میں گھوم گیا۔ پھر سے میں نے ایک ہاتھ سے موٹر سائیکل چلائی ایک ہاتھ سے موبائل پر ٹریفک وارڈن سے ڈرتے ڈرتے صبیحہ کا جوابی ایس ۔ ایم ۔ ایس پڑھا۔ ’’ تم تو بہت خوبصورت لگ رہے تھے‘‘۔ مزہ آرہا تھا۔

میری نظر اس فقرے پر پڑی اور شاید دیر تک پڑی رہی ۔ میں ’’ گم ‘‘ ہو گیا تھا۔۔۔ ’’ ٹھاہ‘‘ یوں لگا جیسے بہت سے ماہر ’’ ڈرمر‘‘ اک ساتھ بڑے بڑے ڈرم پیٹ رہے ہوں۔۔۔ پھر کچھ یاد نہیں۔۔۔ شاید میں گر گیا تھا شاید میں نے کسی چیز میں ہٹ کیا یامجھ پہ کار وغیرہ چڑھ دوڑی۔

ارے صبیحہ۔۔۔ بھی نیم بے ہوشی کے دوران مجھے دیکھتے ہوئے گزری اس دوران ابا جی آگئے۔۔۔ یہ دنیا میں واحد شخصیت ہیں جن کے سامنے میں چاہوں بھی تو کوئی بہانہ نہیں کر سکتا۔۔۔ کیونکہ اتوار کو دیر تک سویا رہوں۔ جو جگانا چاہے گا منہ کی کھائے گا۔ ابا جی کے آتے ہی میں بستر چھوڑ بھاگ نکلتا ہوں۔

والد صاحب نے بتایا کہ تم موٹر سائیکل چلاتے ہوئے اس گدھا گاڑی پر چڑھ دوڑے تھے۔۔۔ نہ گدھے کو کچھ ہوا نہ گاڑی کو نہ گاڑی بان کو۔۔۔ بس تمہیں چوٹیں آئیں اور گدھا گاڑی والا۔۔۔ بھاگ نکلا۔ لوگوں نے گدھے سے اُس کا پتہ پوچھا تو وہ چُپ رہا۔۔۔ سُنا ہے گدھا تمہاری کسی حرکت پر مسکرا رہا تھا۔ مگر شرمندہ تھا۔ شاید اپنے عزیز کے بے ہوش ہونے پر پشیمان تھا۔ پھر تمہارے فون پر بیل ہوئی ۔۔۔ صبیحہ تھی ٹریفک وارڈن نے اُسے تمہارا حلیہ بتایا۔ تو اُس نے کہا۔ ’’ ہاں ہاں یہ ہمارے ہمسائے میں رہتے ہیں۔ میں تو اپنے تیسرے بچے کو دکھانے ہسپتال جارہی ہوں۔ آپ جس گاڑی سے ان کی ٹکر ہوئی ہے اُنہیں اُس پر بٹھا کر کسی نزدیک ہسپتال بھیج دیں شکریہ۔

’’دوست وہ جو مشکل میں ساتھ چھوڑ جائے‘‘

میں درد سے کراہناچاہ رہا تھا اور والد صاحب لگا تار سچ بولتے چلے جارہے تھے۔ ’’ اوئے میرے کلاس فیلو‘‘۔۔۔ ڈاکٹر خلیل آگیا۔۔۔ ’’ کیا حال ہے اب ؟۔ میں نے والد صاحب سے کہا۔۔۔ ’’ مجھے کسی اور ہسپتال لے جائیں ۔۔۔ میں نے ڈاکٹر خلیل سے علاج نہیں کروانا یہ نالائق ڈاکٹر ہے۔ ڈاکٹر نے ایک برا سا لڈو میرے منہ میں ٹھونس دیا اور بولا۔۔۔ میری ترقی ہو گئی ہے۔ میں اب ڈاکٹروں کو پڑھایا بھی کروں گا اور یہ لو تمہارے کاغذات ۔۔۔ آپ ہسپتال سے فارغ ہیں دوائیاں لکھ دی ہیں آئندہ اگر ایکسیڈنٹ کرنے کو دل کرے تو انسان سے ٹکر لینا۔۔۔ معصوم گدھے سے مت اُلجھنا۔۔۔ ویسے وہ ابھی تک تمہاری تلاش میں ہے۔۔۔ میں شرمندہ شرمندہ اٹھا اور ہسپتال کی ایمرجنسی سے باہر کی طرف چلنے لگا۔ میری نظریں اِدھر اُدھر اُس گدھے کو تلاش کر ہی تھیں ۔

’’ ہٹ جائیں‘‘ ۔۔۔ ’’ ہٹ جائیں‘‘ ۔۔۔ ’’ راستہ دیں‘‘ ایک اور ایمرجنسی آ رہی تھی۔ جب سٹریچر پر نظرپڑی زخمی مریض پاس سے گزرنے لگی تو والد صاحب بول اُٹھے۔ ’’ یہ تو بُشرٰی بی بی ہے۔ ہماری ہمسائی‘‘ ۔ میں بھی ڈگمگاتا ہوا ساتھ چل پڑا۔ سڑیچر سے بیڈ پر لٹایا تو میں بھی پاس کھڑا ہو گیا۔ بُشرٰی ہوش میں تھی۔ ٹانگ اور دونوں بازو بُری طرح زخمی تھے ۔۔۔ پیشانی پر بھی چوٹ کے نشان تھے۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔ ’’ وہ گاڑی ۔۔۔ میری گاڑی ۔۔۔ چوک پر کھڑی گدھا گاڑی میں جا لگی‘‘۔ میر ی ہنسی نکل گئی کے آپی جان ۔۔۔ دھیان سے گاڑی کیوں نہیں چلاتیںآپ؟۔ کیا ہو گیا ہے ۔ اِس شہر کے گدھوں کو جو چوک چوراہے میں خرمستیاں کرتے پھرتے ہیں کھلم کھلا۔ میں نے پوچھا تو وہ بھی کراہتے ہوئے مسکرادیں ۔ بھائی ایک ایس ۔ ایم ۔ ایس پڑھتے ہوئے دھیان ادھر اُدھر ہو گیا۔ میں نے فون اُن کے بستر سے اُٹھا یا اور پڑہنے لگا ۔ تازہ ترین آیا ہوا ایس۔ ایم ۔ ایس ۔۔۔ ’’ بُشرٰی ڈیئر ۔۔۔ آج تم بہت خوبصورت لگ رہی تھی‘‘۔ میں نے موبائل بُشرٰی آپی کے سرہانے رکھا۔ اُن کا ڈاکٹر خلیل سے تعارت کرایا، بہت خیال رکھنے کی ہدایت کی اور ہسپتال سے باہر آگیا۔ موبائل پر کسی کا آیا ہوا ایس۔ ایم ۔ ایس پڑہتے ہوئے!۔


ای پیپر