نئے آبی منصوبوں پر سندھ کے خدشات!
14 ستمبر 2018 2018-09-14

تمام سندھی اخبارات نے بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر اداریے اور مضامین لکھ کر اس بہادر سابق خاتون اول کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ روزنامہ کاوش اداریے میں رقمطراز ہے: پاکستان میں سیاسی تحریکوں میں خواتین کا اہم کردار رہا ہے۔ کلثوم نواز کا نام ان خواتین کی فہرست میں آتا ہے جنہوں نے سیاست اور پارٹی میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ مشرف دور میں جب نواز شریف اپنے ساتھیوں کی بے وفائیوں اور راستہ تبدیل کرنے کا دکھ برداشت کر رہے تھے، کلثوم نواز نے منتشر پارٹی کو بڑی جرأت مندی سے سنبھالا، منظم کیا اور مشرف کی سختیوں کو برداشت کیا۔

روزنامہ سندھ ایکسپریس کے کالم نگار اللہ بخش راٹھور ’’کلثوم نواز اور جمہوریت‘‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ کلثوم نواز مشرف کے خلاف مزاحمتی تحریک میں ایک علامت ایک استعارہ بن کر سامنے آئیں۔ ان سے اس کردار کی کسی کو بھی امید نہیں کی جارہی تھی۔ مسلم لیگ خواہ کوئی بھی ہو، اس کے لئے روایتی تصور یہی ہے کہ وہ اسٹبلشمنٹ اور آمروں کا ساتھ دیتی ہے لیکن کلثوم نواز نے یہ داغ دھو ڈالا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگرچہ وہ گھریلو خاتون ہیں لیکن وقت آنے پر سیاسی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ جنرل ضیا کو ایک خاتوں بیگم نصرت بھٹو اور بینظیر کی جانب سے چیلینج کے بعد کلثوم نواز دوسری خاتوں تھیں جس نے ایک اور آمر کو للکارا تھا۔ کلثوم نواز کو نئے دور کی علامت سمجھنا چاہئے اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنا چاہئے۔

روزنامہ عبرت کے کالم نگار نسیم بخاری ’’ کلثوم نواز کا بچھڑنا کس کو کس طرح حیرت زدہ کر گیا‘‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ کلثوم نواز کا واحدتعارف تین مرتبہ خاتون اول رہنے کا نہیں۔ 1999 میں جب پرویز مشرف نے نواز شریف کی منتخب حکومت کا مارشل لاء کے ذریعے تختہ الٹا تب کلثوم نواز نے مختصر ہی سہی لیکن نہایت ہی فعال کردار ادا کیا۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت سنبھالی جب اکثر پارٹی رہنما جیلوں میں تھے یا ڈر گئے تھے اور ایک کونے میں بیٹھ گئے تھے۔ اگرچہ انہیں سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن وقت آنے پر سیاسی سفر اپنے خاندان اور پارٹی کو بچانے کے لئے شروع کیا۔ کلثوم نواز کی موت نواز شریف کے لئے پاناما اسکینڈل سے بھی بڑا صدمہ ہے ۔

’’بھاشا ڈیم اور وزیراعلیٰ سندھ کے خیالات ‘‘ کے عنوان سے ’’روزنامہ کاوش ‘‘ لکھتا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ نے بھاشا اور دیامیر ڈیم کی تعمیر پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے آبی نظام میں اتنا پانی موجود نہیں ہے، پھر یہ ڈیم کیسے بھرے جائیں گے؟ ڈیمز پر صوبوں کو فنی بنیادوں پر اعتراضات ہیں۔ لہٰذا وفاقی حکومت صوبوں کو اعتماد میں لے۔ سید مراد علی شاہ نے ڈاؤن اسٹریم کوٹری میں 25 ملین ایکڑ فٹ پانی چھوڑنے کا بھی مطالبہ کیا۔

دنیا میں ماحولیات نقصانات اور دیگر وجوہات کی بناء پربڑے ڈیموں کے بجاے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر پر توجہ دی جارہی ہے۔ ہم دنیا کے رجحانات کے برعکس چل رہے ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ ہمارے ہاں ہر مرض کا علاج بڑے ڈیم ہیں۔ ڈیم تب بنائے جاتے ہیں جب سسٹم میں اضافی پانی دستیاب ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں پہلے سے ہی پانی کی قلت ہے۔ جب سسٹم میں پانی موجود ہی نہیں تو پھر یہ ڈیم کس چیز سے بھرے جائیں گے؟ جہاں تک پانی ذخیرہ کرنے کا تعلق ہے اس مقصد کے لئے ’’ کیری اوور ڈیم ‘‘بنائے جاتے ہیں۔ ڈیم بجلی پیدا کرنے کے لئے نہیں پانی ذخیرہ کرنے کے لئے بنائے جاتے ہیں۔ جو ڈیم بجلی پیدا کرنے کے لئے ہوتے ہیں ان میں سال بھر پانی کی موجودگی ضروری ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اتنا پانی کہاں سے آئے گا جو سال بھر تک ڈیم میں موجود رہے گا؟ دنیا بھر میں بجلی پپیدا کرنے کے متبادل ذارئع اختیار کئے جا رہے ہیں۔ہوا اور شمسی ذرائع سمیت دیگر متبادل ذرائع کے کامیاب تجربوں کے بعد ان پر عمل درآمد بھی کیا جارہا ہے۔ ہم کسی متبادل یا نئے ذرائع کے بجائے ڈیموں پر ہی زور دے رہے ہیں۔ یہ ڈیم گلگت بلتستان میں دریائے سندھ پر تعمیر کیا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ اس کا اثر دریا کے آخری سرے یعنی سندھ پر بھی ہوگا جہاں پانی کی رسد کم ہو جائے گی۔ آج بھی سندھ میں پانی کی صورت حال یہ ہے کہ زراعت کو چھوڑیئے، پینے کے لئے بھی پانی دستیاب نہیں۔ دریائے سندھ کا ڈیلٹا مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ ڈاؤن اسٹریم کوٹری پانی نہ چھوڑنے کی وجہ سے سمندر آگے آگیا ہے اور سندھ کی ہزارہا ایکڑزرخیز زمینوں کو نگل چکاہے۔ یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔

حکمران کہتے ہیں کہ ایک ایک انچ زمین کا دفاع کرنا ان کی ذمہ داری ہے ۔ سمندر سندھ کی ہزارہا ایکڑ زمین نگل چکا ہے۔ کیا سندھ اس ملک کا حصہ نہیں کہ اس کو زمینوں کو سمندر سے بچایا جائے؟ یہ بھی حکمرانوں کی ذمہ داری ہے۔ ملک کی ہزارہا ایکڑ زمین کا تحفظ ڈاؤن اسٹریم کوٹری میں 25 ملین ایکڑ پانی چھوڑنے سے ممکن ہے۔ ورنہ سمندر مزید زمین پر’’ قبضہ ‘‘کرتا اور نگلتا رہے گا۔ سندھ کے ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے۔ معاشی بدحالی اور غربت نے لوگوں کو جینے کے قابل نہیں رکھا ہے۔ پانی پر انحصار کرنے والا تمام کلچر دم توڑ چکا ہے۔ اس تدبر کو کیا کہئے کہ اس ملک کے اکابرین سمندر میں پانی چھوڑنے کو ضیاع قرار دے رہے ہیں۔ جیسے کوٹری سے نیچے انسان نہیں بستے۔

سندھ نے کالا باغ ڈیم پر اس لئے اعتراض کیا تھا کہ اس متنازع ڈیم کی تعمیرسندھ کی زراعت اور ماحولیات کے لئے موت ت کا پروانہ تھا۔ دوسرے یہ کہ پنجاب پانی کے حوالے سے معاہدوں اور وعدوں پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں۔ چشمہ جہلم اور تونسہ پنجند اگرچہ لنک کینال ہیں جن کو وعدے اور سرکاری کاغذات کے مطابق صرف تب پانی دیا جا سکتا ہے، جب دریا میں سیلاب ہو۔ لیکن پنجاب زبردستی اور سینہ زوری کر کے یہ کینال سال کے بارہ ماہ ہی چلاتا ہے۔ اس بے اعتمادی اور بے اطمینانی کی صورتحال میں صوبوں کے خدشات جائز ہیں جن کو ختم کئے بغیر کوئی منصوبہ نہیں بنایا جاسکتا۔


ای پیپر