ما درِ جمہوریت کون اور کیسے۔۔۔؟
14 ستمبر 2018 2018-09-14

ضیاء الحق کی آمریت اپنے عروج پر تھی۔ کسی کو دم مارنے کی جرأت نہ تھی۔ جہاں کہیں چند لوگ سر جوڑ کر بیٹھنے کی کوشش کرتے تو انٹیلی جنس وہاں کسی نہ کسی روپ میں آدھمکتی ۔ کراچی کے علاوہ کئی دوسرے شہر اکثرو بیشتر کرفیو کی زد میں رہتے۔ جو سر اٹھا کر چلنے کی کوشش کرتا۔ اس کا سر کچلنے تک کی کوشش کی جاتی ۔ ضیاء الحق کی آمریت کا سبزہ کم و بیش نو سال تک سر سبز رہا۔ بے نظیر بھٹو وہ واحد خاتون تھیں۔ جنہوں نے اس آمریت کے آگے ڈھال بننے کی کوششیں جاری رکھیں۔ مگر انہیں بھی کامیابی صرف اور صرف ضیاء الحق کی وفات کے بعد نصیب ہوئی۔ بی بی کو داد دینا اس لیے بنتا ہے کہ انہوں نے ایک جابر اور مضبوط آمر کے سامنے یہ کوششیں جاری رکھیں۔ ضیاء الحق کے دور میں آنکھیں دکھانا اور سر اٹھانا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔

محترمہ کلثوم نواز کینسر جیسے موذی مرض سے لڑتے لڑتے آخر کار زندگی کی بازی ہار گئیں۔ کلثوم نواز ایک پڑھی لکھی، مہذب، نڈر ، بے باک اور سوبر خاتون تھیں۔ انہوں نے 1986 ء میں ڈاکٹر پروفیسر عبادت بریلوی کے زیر نگرانی اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ رجب علی بیگ سرور کی ایک نثری جہت پر مکمل کیا۔ اس سے ثابت ہوا کہ کلثوم نواز کو اردو ادب سے خاصی دلچسپی تھی اور وہ اکثر و بیشتر منعقدہ اردو کانفرنسوں میں بھی شرکت کرتی تھیں۔ محترمہ کلثوم نواز بھرپور مشرقی خاتون تھیں۔ انہیں اس دنیا سے رخصت ہوئے ابھی چند دن ہی گزرے ہیں اور آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ہم نے ابھی سے تنقیدی چھریاں اور کلہاڑیاں نکال لی ہیں۔ بہت سے اینکروں نے، بہت سے جمہوریت کے دلداروں نے اور باقی ماندہ مفاد پرستوں نے بیگم کلثوم نواز کو مادر جمہوریت قرار دے دیا حتیٰ کہ ان کے لندن میں جنازے پر الوداع الوداع مادرِ جمہوریت کے نعرے لگائے۔ محترم کلثوم نواز کو مادر جمہوریت کا خطاب دینے پر مجھے کوئی اعتراض نہ ہے۔ مگر محترمہ کلثوم نواز کا پاکستان کی سیاست میں اتنا کنٹری بیوشن نہیں ہے کہ انہیں مادر جمہوریت کا خطاب دیا جائے۔ ہاں محترمہ کلثوم نواز نے دوسرے بڑے آمر جناب پرویز مشرف کے دور میں نواز شریف کو ملک بدر کیے جانے پر تحریک ضرور چلائی تھی۔ یہ بات یاد رہے اور یہ امر بھی واضح رہے کہ نواز شریف نے پرویز مشرف سے ڈیل کر کے جلاوطنی قبول کی تھی۔

نواز شریف وطن پاکستان کو خیر آباد کہہ کر سعودی عرب میں شہزادوں کے پاس جا بسے تھے۔ انہی شہزادوں کے پاس جن کے خطوط آج بھی نواز شریف کے پاس ہیں اور عدالت میں پیش کر چکے ہیں۔ جلاوطنی کے بعد محترمہ کلثوم نواز نے نواز شریف کی وطن واپسی کے لیے بے گناہی کے مسلم لیگ ن کے چند حامیوں کے ساتھ ایک تحریک چلائی تھی۔ وہ تحریک بھی خالصتاً ذاتی تحریک تھی۔ ان میں ملک و قوم سے محبت کسی عوامی مسائل اور کسی بھی نئے عوامی منشور نام کی چیز نہ تھی۔ اس کے علاوہ بیگم کلثوم نواز کی 1985 ء سے لے کر تادم آخر کوئی ملکی ، سماجی ، معاشرتی اور سیاسی خدمت نظر نہیں آتی۔ یہاں تک کہ بیگم کلثوم نواز کسی فلاحی ادارے، کسی ویلفیئر تنظیم یا کسی ٹرسٹ کی چیئر پرسن بھی نہ تھیں۔ یعنی عرف عام میں کہا جا سکتا ہے کہ کلثوم نواز کو انسانی خدمت کا کوئی اعزاز حاصل نہیں ہے۔ اس طرح انہیں سیاسی اور جمہوری طور پر بھی کسی بڑی اذیت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ جس کی بناء پر انہیں اتنے بڑے لقب سے نواز اجائے۔

اس ضمن میں عرض کرتا چلوں کہ محترمہ فاطمہ جناح نے قیام پاکستان سے قبل اور قیام پاکستان کے بعد بھی اپنی پوری زندگی اس ملک اور عوام کی بہتری کے لیے بسر کر دی۔ اس ملک کی خدمت کو ہی اپنا اوڑھنا اور بچھونا رکھا۔ حتیٰ کہ اپنی جان بھی اس ملک اور عوام کے لیے نثار کر دی۔ تب جا کر محترمہ فاطمہ جناح مادر ملت کہلائیں اور اس خطاب کی حق دار ٹھہریں۔ اسی طرح محترمہ فاطمہ جناح کو اس خطاب کو حاصل کرنے کے لیے ایک طویل عرصے کا سفر طے کرنا پڑا اور ملک وقوم کی خدمت کو اپنا شعار بنانا پڑا۔ اسی طرح محترمہ بے نظیر بھٹو کی کئی خدمات ایسی ہیں جو نا قابل فراموش ہیں۔ بی بی نے تو جان بھی آپ سب کے سامنے ہتھیلی پر رکھ کر اس ملک پر قربان کردی اور ہم اسے شہید جمہوریت کا لقب بھی عطا نہ کر سکے۔ میرا مطمع نظر سوال فقط یہی ہے کہ بغیر خدمات کے کسی کو بھی کوئی لقب یا خطاب عطا کرنا مناسب نہیں اور نہ ہی تہذیب یافتہ قوموں کا خاصا ہے۔ بیگم کلثوم نواز کو اللہ اپنی جوار رحمت میں جگہ دے، اللہ ان کی منزلیں آسان کرے اور اللہ اپنے حبیب کی طفیل جنت عطاء کرے۔ ان کے لیے دعا ہی سب سے بڑا لقب اور سب سے بڑا خطاب ہے۔ میڈیا پر ،سوشل میڈیا پر یا پھر بذات خود گھر بیٹھے اپنی مرضی سے کسی کو کوئی خطاب اور لقب سے نوازنا انتہائی غیر مناسب اور غیر شائستہ فعل ہے۔ اپنی پسند اور نا پسند کو کسی دوسرے پر ٹھونسنے کا کسی کو کوئی حق نہیں ہے۔ خطاب اور لقب عطاء کرنے کے حقوق فقط حکومت کو ہونے چاہئیں۔ حکومت بھی انصاف کے تقاضوں اور میرٹ کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اور موجودہ شخص کی اعلیٰ ترین صلاحیتوں اور خدمات کو نظر میں رکھتے ہوئے فیصلہ دینے کا اختیار رکھتی ہو۔ بغیر جنگ لڑے شہید ہوئے کو تو نشان حیدر یا کسی دوسرے اعزاز سے تو نہیں نوازا جا سکتا ۔ لہٰذا بغیر قومی اور سیاسی خدمات کے کسی کو مادر جمہوریت جیسے خطاب سے نواز نا بھی زیادتی ہے۔ وماعلینا الالبلاغ۔


ای پیپر