کلثوم نوازکا ادبی وسیاسی مقام
14 ستمبر 2018 2018-09-14

کلثوم نواز نے (سیشن:۱۹۶۹ء سے ۱۹۷۱ء میں) اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ’’رجب علی بیگ سرور کا تہذیبی شعور‘‘کے موضوع پرمقالہ لکھ کر ایم ۔اے اردو کیا۔ان دنوں معروف نقاد اور محقق ڈاکٹر عبادت بریلوی(سابق صدرِ شعبہ اردو) اورینٹل کالج کے پرنسپل تھے۔یہ مقالہ ۱۹۸۵ء میں سنگِ میل نے کتابی شکل میں بھی شائع کیا۔اس کے کچھ ہی عرصہ بعد کلثوم نواز نے پی ایچ ڈی میں رجسٹریشن کروائی اور ان کے نگران ڈاکٹر سہیل احمد خان مقرر ہوئے مگر کلثوم نواز اپنی ذاتی مصروفیات کی وجہ سے پی ایچ ڈی نہ کر سکیں۔اس وقت پی ایچ ڈی کا پروسیجر آج سے کافی مختلف تھا۔ ایم کے بعد پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا جاتا تھا اور صرف رجسٹریشن کروانی پڑتی ‘کلاس ورک کے مسائل سے بھی آذادی تھی‘ صرف ریسرچ ورک ہوتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ محترمہ ایم ۔اے کے بعد پی ایچ ڈی میں انرول توہوئیں مگر جیسا کہ شادی کے بعدلڑکیاں بہت ساری قربانیاں دیتی ہیں‘اپنے شغل اشغال تک کو چھوڑ دیتی ہیں‘ایسا ہی کلثوم نواز کے ساتھ ہوا اوران کا پی ایچ ڈی کا مقالہ نامکمل رہ گیا۔مگر ایک بات تو طے ہیں کلثوم نواز کی ادبی شخصیت

کے اثرات نواز شریف سمیت ان کے بچوں پر بھی بہت گہرے ہیں۔میں نے کئی کانفرنسوں میں نواز شریف کی گفتگوؤں میں کلثوم نواز کی ادبی شخصیت کی تعریف کرتے سنا۔نواز شریف کہتے تھے کہ میں جب بھی سیاسی بھاگ دوڑ سے تنگ آجاتا ہوں کلثوم کے ساتھ موسیقی‘ شاعری اور فلم پر بات کرتا ہوں‘ کلثوم فنونِ لطیفہ کا بہت زیادہ شوق رکھتی ہیں۔مسلم لیگ نون سے لاکھ اختلاف سہی مگر کلثوم نواز کی تعریف نہ کرنا نا انصافی ہوگی۔ایچی سن میں جن دنوں نواز شریف کے بیٹے حسن زیرِ تعلیم تھے‘وہاں استادِ محترم ڈاکٹر زاہد منیر عامر اردو کے استاد تھے۔ان کے بقول ’’تمام سیکشنز میں جن چند ایک بچوں کی اردو بہت اچھی تھی ان میں حسن نواز بھی تھا۔مریم نواز کے بارے میں بھی یہی مشہور ہے کہ انہیں موسیقی سے خاصا لگاؤ ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ نواز شریف کے بچوں کی فنونِ لطیفہ سے اس قدر دلچسپی یقیناًماں( کلثوم نواز)کی تربیت کا اثر ہے۔ مجھے جب کلثوم نواز کے انتقال کی خبر ملی‘میں ان کی کتاب(ایم اے کا مقالہ)پڑھنے لگا‘انتہائی شستہ اور خوبصورت اردو استعمال کی اور پھرمشرقی تہذیب و ثقافت اور دہلی اور لکھنو کے ثقافتی اثرات پر ان کی تحقیق سے بہت زیادہ متاثر ہوا۔میں خود بھی چونکہ ان دنوں تہذیب و ثقافت پر تحقیق میں مصروف ہوں لہٰذا ا ن کے مقالے نے مجھے بہت متاثر کیا۔ایم اے کی سطح پر عموما اتنے پیچیدہ موضوعات پر بہت کم سٹوڈنٹس کام کرتے ہیں کیونکہ ایم اے کے مقالہ کو ادب میں کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی مگر پھر بھی کلثوم نواز کا کام نہایت پیچیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ اہم بھی ہے جو تہذیب و ثقافت کے ریسرچر زکے لیے نایاب چیز ہے۔

کلثوم نواز کی جہاں ادبی زندگی قابلِ قدر ہے وہاں سیاسی سطح پر بھی انہوں نے باکمال کردار ادا کیا۔نواز شریف کے مشکل وقت میں جس طرح کلثوم نواز نے سنبھالا اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔میرے نون لیگی صحاٖفی اس بات سے بخوبی واقف ہوں گے کہ جب بھی میاں صاحب پر برا وقت آیا‘ کلثوم نواز نے نہ صرف ان کو سنبھالا بلکہ ان کو سنجیدہ مشوروں سے بھی نوازا۔پرویز مشرف کے دور میں بھی جس طرح پارٹی کی قیادت سنبھالی اور جس طرح نون لیگ کو بطور صدر متحرک کیا اس کی مثال بھی کم ہی ملتی ہے۔نون لیگ سے لاکھ اختلاف سہی مگر کلثوم نواز کی ادبی اور سیاسی زندگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔وہ ایک سنجیدہ ‘نڈر اور پڑھی لکھی خاتون تھی جس کے اثرات شریف خاندان پر ہمیشہ رہیں گے۔مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ شہباز شریف کی اہلیہ کتنی ادبی ہے(اس بارے میں میرے نون لیگی صحافی دوست بہتر جانتے ہوں گے) مگر شہباز شریف کو بھی ادب سے لگاؤ ہے جس کا اظہار کئی موقعوں پہ راقم نے دیکھا اور سنا۔میں آج سارے اختلاف بھلاتے ہوئے کلثوم نواز کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے شریف خاندان کے ساتھ جتنی بھی زندگی گزاری وہ شریف خاندان کے لیے قابلِ فخر ہونی چاہیے۔میں نے آج تک کلثوم نواز کے منہ سے کوئی بھی غیر سنجیدہ اور معیار سے گری ہوئی بات نہیں سنی اگرچہ نواز شریف کے ساتھ کئی ایک ملاقاتوں میں وہ موجود بھی ہوتی تھیں۔مشرف دور میں شریف خاندان جن مسائل سے دوچار ہوا وہ آج سے بھی ذیادہ برے تھے مگر ایسے میں بھی کلثوم نواز انتہائی بردباری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی رہیں۔اس کے برعکس مریم نواز کی گفتگوؤں اور تقریروں کا پروفائل نکال کر دیکھ لیں‘آپ جان جائیں گے کہ وہ سیاسی حوالے سے ماں کی کاپی ہیں یا نہیں۔میرا ذاتی خیال ہے کہ اس خطرناک موڑ تک پہچانے میں بھی مریم نواز نے نمایاں کردار ادا کیا‘جس طرح فوج اور پاکستانی اداروں کے خلاف پے در پے تقریریں کرتی رہیں اور کچی بیان بازی کی‘اسی کی وجہ سے آج نون لیگ پر اتنے برے حالات آئے۔خیر میں میاں نواز شریف اور شہباز شریف ان کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کرتا ہوں‘واقعی مجھے دلی افسوس ہوا کہ شریف خاندان ایک سائبان سے محروم ہو گیا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا شریف فیملی دوبارہ اپنے آپ کو سیٹل کر پائے گی۔کیونکہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا کہ کلثوم نواز سابق نااہل وزیر اعظم میاں نواز شریف کے لیے ایک دوست‘مصلح اور خیر خواہ کا درجہ رکھتی تھیں اور اس طرح ان کا اس دنیا سے اٹھ جانا شریف فیملی کے لیے انتہائی خطرناک دھچکا ہے‘ایک ایسا نقصان جس کا ازالہ اب کبھی بھی نہ ہو پائے گا۔جب جب نواز شریف اکیلے ہوئے یہ ساتھ دٹ کر کھڑی ہو گئی۔مشرف دور میں جب آرمی نے ٹیک اوور کیا تھا‘اس کی ساری کہانی کلثوم نواز نے’’جبر اور جمہوریت‘‘کے عنوانھ سے تحریر بھی کی کہ کیسے انہیں پارٹی اور شریف فیملی کی فکر ہے۔ان کی وفات کے

بعد میاں نواز شریف انتہائی اکیلے ہو جائیں گے اگر چہ جیل میں وہ پہلے بھی اکیلے ہیں مگر کم از کم اتنا تو احساس تھا کہ کلثوم زندہ ہیں اور جلد صحت یاب ہو جائیں گی۔رہائی کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویر سے بھی اندازہ ہو رہا کہ نواز شریف کی صحت انتہائی گرتی جا رہی ہے اور اب اتنا بڑا صدمہ۔ خیر نواز شریف‘مریم نواز اور کیپٹن صفدر پیرول پر رہا کر دیے گئے مگر یہاں ایک اور سوال اٹھ کھڑا ہوا کہ جو ریلیکس ایشن آج شریف فیملی کو ملی‘کیا اب ہر پاکستانی کو ملے گی۔کیا آئندہ سے ہر قیدی کو پیرول پر رہائی مل جائے گی جس کا کوئی قریبی عزیز چل بسے۔یہ سوال یقیناًبہت مشکل ہے مگر ہماری حکومت کو آج یہ بھی فیصلہ کرنا ہے کہ یہ بینفیٹ صرف شریف فیملی کے لیے ہے یا آئندہ ہر پاکستانی کے لیے۔کیونکہ اس سے قبل ایسی کوئی مثال کسی متوسط طبقے کے قیدی کے لیے ایسی سہولت نہ دیکھی‘نہ سنی۔اگر تو یہ سہولت صرف قومی سطح کے مجرموں کے لیے ہے تو پھرعمران خان کا برابری کا نعرہ پہلے مہینے ہی فلاپ ہو گیا۔مجھے اب انتظار رہے گاکہ آئندہ پیرول پر رہائی کی درخواست کسی غریب قیدی کی بھی قبول ہوتی ہے یا نہیں ۔


ای پیپر