الجھی مسافتوں کا سلجھا مسافر
14 ستمبر 2018 2018-09-14

انسانی زندگی جانے کتنے تضادات، رویوں اور مزاجی موسموں کا مجموعہ ہے۔۔۔ مادی اور روحانی مسافتوں میں الجھا انسان کائنات کے راز ڈھونڈتے ہوئے اپنی ہستی کے راز سے بے خبر رہتا ہے۔ ۔۔گوشت پوست کا بنا یہ ہائی ٹیک روبوٹ اپنے سے کمتر اشیاء بنا کر شاداں ہے۔۔۔۔ ا نسانی صلاحیتوں کی کوئی حد ہے نہ کنارا۔۔۔ایک شخص جانے انجانے میں اپنے اندر اور باہر بہت ساری زند گیاں جیتا ہے ۔۔۔بہت سے لوگ اپنی آئس برگ جیسی شخصیت سے واقف نہیں ہوتے مگر دیکھنے والی آنکھ سطح آب کے نیچے چھپے حصے کو بھی دیکھ لیتی ہے۔۔۔

ہم قلم اور الفاظ کی دنیا کے لوگ کچھ زیادہ ہی حساس ہوتے ہیں ( سب نہیں ) رشتوں ناتوں، جذبات ، آنسو مسکراہٹوں کو خود پر زیادہ طاری کر لیتے ہیں۔۔۔یہی تخلیقی کرب تخلیق کا با عث بن جاتا ہے۔۔ کہ واردات دنیا واردات قلبی ہو جاتی ہے۔

کئی برس گزرے ایک دوسرے شہر سے ایک کتاب وصول ہوئی۔۔۔روتین ہے قلم بردار وں کے لئے ۔۔۔صرف فرق اتنا تھا کہ یہ افسانوی مجموعہ ایک باوردی افسر کا تھا عنوان تھا،’’ جنگل جنگل الجھے ہم‘‘۔۔۔ تعارف نہ تھا سوچا ہوں گے روایتی دشت و صحرا کے معرکوں کے قصے۔۔۔ لیکن جوں جوں اوراق پلٹتی گئی۔۔۔توں توں باوردی گائیڈ مجھے زندگی کے جنگل کی جانب لے جاتا گیا، جہاں خودرو جھاڑیاں ، ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیاں کہیں اندھیرا کہیں چمکتا سویرا ۔۔۔ اور یہ خاموش سا گائیڈ جو چلتا جا رہا ہے ۔۔۔اس کی روح کبھی کھلکھلاتی ، کبھی متجسس کبھی چوکنی اور کبھی اداس۔۔۔۔خوشبوؤں اور تعفن کے بیچ اپنا راستہ بناتی چلی جا رہی ہے

بس اس دن سے ڈاکٹر طلعت شبیر اور میں دوست بن گئے۔۔۔اندر غضب کی طغیانیاں۔۔ باہر سبک رو نرم لہریں۔۔۔ جب بھی کہا ، کمال کے ایکٹر ہیں آپ ؟تو جواب میں ایک بھرپور قہقہہ اور بس ۔۔۔ گھر گاؤں شہر وطن کے رشتے ہوں یا پیشے کے ۔۔ ہاتھ مییں ہتھیار ہو یا قلم،سب سے نبھانے اور نبٹنے والا یہ لکھاری، شاعری افسانہ اور کالم تینوں اصناف میں طبع ازمائی کرتا ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ میرا شروع دن سے مؤقف رہا کہ جناب شاعری سے شوق فرمائیں تو بہتر ہو گا، جبکہ موصوف کی رائے مختلف ہے۔ سو ہم دونوں اپنی اپنی بات پر اڑے ہوئے ہیں لیکن ایک بات طے ہے طلعت شبیر اپنے گرد پھیلے ماحول ، جزبوں اور سوچوں کو شعر افسانے یا کالم کے قالب میں ڈھالنے کا فن جانتے ہیں ۔سلسلے مسافت کے۔۔۔زندگانی کے مسافر کی شعری کتھا۔۔جو بھٹکتے، الجھتے کڑی مسافتوں کی عکس بندی خوبصورتی کے ساتھ اپنی غزلوں نظموں میں کرتا چلا جاتا ہے۔۔۔ محبتوں اور کدورتوں کی ڈوریاں سلجھاتے کبھی وہ گاؤں کی گلیوں میں بھٹکتا ہے ، کبھی دیواروں سے لپٹی مرجھائی بیلوں سے سرگوشیاں کرتا ہے ، کبھی دھرتی کی محبت اسے کوہ و دمن کی آبلہ پائی پر مجبور کرتی ہے۔۔۔کسی کسی مقام پر ناسٹلجیا کی فضا ،بچھڑی رتوں کا نوحہ من کو چھو لیتا ہے ۔۔۔نظم دیکھئے

ابو ۔۔۔

برسوں گزرے ۔۔۔گاؤں کے گھر کے دروازے۔۔۔ادھ کھلی سرمئی کھڑکی ۔۔۔ہنستی روتی دیواریں۔۔۔ سوندھی مٹی ۔۔۔ شبنم پھول کیارے۔۔۔ سارے۔۔۔ مجھ سے پوچھتے ہیں۔۔۔ ننگے سر تم دھوپ میں جھلسے۔۔۔خالی ہاتھ کیوں لوٹے ہو ؟

طلعت شبیر یورپ میں ہوں یا واشنگٹن کی یخ بستہ ہواؤں میں،اپنی دھرتی اور روایتوں کی نرم گرم گود سے آزاد نہیں ہو پاتے

دسمبر مسکراتا ہے ۔۔۔مہینوں موسموں کی بحث میں ۔۔۔یوں تو کبھی ۔۔۔الجھا نھیں تھا ۔۔۔مگر اس بار جاڑے میں ۔۔۔ دسمبر ساتھ ہے میرے۔۔۔خزاں آلود سردی میں۔۔۔میں تنہائی سے لڑتا ہوں۔۔۔ بہت ویران رستوں پر ۔۔۔ خموشی ساتھ چلتی ہے۔۔۔ میں رستہ بھول جاتا ہوں۔۔۔

مغربی روایات کا بیان اور اندر کی سرسراتی تنہائی اپنوں سے دوری کا احساس قاری کو بھی اداس کر دیتا ہے ۔۔۔اور یہی اچھی تحریر کی پہچان ہے کہ وہ پڑھنے والے کے اپنے احساس کا حصہ بن جائے ۔کتابوں اور حرفوں سے محبت نے ہمارے مسافر لکھاری کو ریٹائرمنٹ کے قریب پی ایچ ڈی بھی کروا دی۔ کئی بار پوچھا اب اس مغز ماری کا فائدہ ؟ مگر وہی دھیمی سی معنی خیز مسکراہٹ ۔۔ بس شوق ہے ۔۔۔اور شوق تو شوق ہے کوئی مول نہیں اس کا ۔۔۔اور شوق بھی ایک فوجی کا ۔۔۔دو آتشہ نہیں سہ آتشہ ۔۔۔چارہ گر تھا وہ کبھی تسلیم ہے ۔۔۔اب مسلسل وار کرتا جا رہا ہے ۔۔۔شہر کے حاکم کو کیسا خوف تھا ۔۔۔ہر طرف دیوار کرتا جا رہا ہے

یہ اشعار ایسے ذہن کی پیداوار ہیں جہ ایک خاص ڈسپلن میں زندگی بسر کرنے کے باوجود ایک منطقی سوچ کا حامل رہا۔ اپنی منفرد شخصیت کے باعث ہر چیلنج سے نپٹتا رہا لیکن اپنے اندر ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کو خود ہی سمیٹتا اور جوڑتا رہا،اسے زخموں کی نمائشی پسند نہیں ۔۔ اس نظم کا مزاج دیکھئے

تذبذب ۔۔۔ تم ۔۔۔میری زندگی سے نکل جاؤ ۔۔۔اس نے یہ کہہ کر۔۔۔ مجھے گہری الجھن میں ڈال دیا۔۔۔ سوچ رہا ہوں ۔۔۔اب میں ۔۔۔ اپنی زندگی سے کیسے نکل جاؤں ؟

سادہ مگر کس قدر گھرائی اور کرب لئے ہوئے ہیں یہ چند مصرعے جو شاعر کی مہارت اور الفاظ کے برتاؤ میں سلیقے کے غماز ہیں۔۔ایک ضدی دل جو فرض شناس وردی والے جسم میں دھڑکتا ہے یہ بھی کہتا ہے

پندار محبت سے بھی جانے نہیں دوں گا ۔۔۔ کچھ طاق میں یادیں ہیں مٹانے نہیں دوں گا۔۔۔اس گھر میں مساوی ہوئی تقسیم محبت۔۔۔اس صحن میں دیوار اٹھانے نہیں دوں گا ۔۔۔

گھر کی اکائی سے لے کر قومی کینوس تک پھیلا ھوا یہ قطعہ مشترکہ آنگنوں اور دھرتی پر چاہتوں کی بارش کا متمنی ہے

اسی طرح مادی دور کے المیے جہاں اقدار اور جذبے خالی خولی الفاظ کا روپ دھارنے لگتے ہیں ۔۔ان کا نوحہ کچھ یوں بیاں ہوتا ہے

میں اپنے بس میں اب کیسے رہوں گا

کہ ھاتھوں سے نکلتا جا رہا ہوں

کھلا ہے نرخ ہندسوں میں ہمیشہ

میں لفظوں میں سمٹتا جا رہا ہوں

ذمے داریوں کے بو جھ تلے دبی نا انصافیوں سے نبرد اازما ھمارے معاشرے کی اکثریت کا دکھ ۔۔۔سچائی کے راستے کے مسافر کا گلہ ان الفاظ میں سمو دیتے ہیں

گھر گیا ہے حصار میں رستہ

اب رہے گی یہ رہ گزر تنہا

جب سے تقسیم کر دیا خود کو

عمر گزری ادھر ادھر تنہا

نظم جاگنگ مشین کتنی سادگی سے کتنی بڑی حقیقت کا احاطہ کر لیتی ہے

کبھی کبھی

مجھے کیوں گماں ہوتا ہے

کہ جیسے زندگی

اک جاگنگ مشین ہے

جس پر ہم

بھاگتے تو رہتے ہیں

مگر فاصلے طے نہیں ہوتے

رشتوں ناطوں کی خوشبو میں بسی نظمیں غزلیں ، ، انسان کے اندر کے موسموں کا پتہ دیتی دھیمی دھیمی سرگوشیوں جیسی ہیں ۔۔۔بہت لطف دیتی ہیں

سلسلے مسافت کے ۔۔۔ شاعر کے من کے کسی کسی نہ سفر کی روداد ہیں

کچھ راستے اس کے وجود اور سوچ کا احاطہ کرتے ہوئی باہر کی جانب جا نکلتے ہیں ۔۔۔کچھ پگڈنڈیاں اور ٹیڑھے میڑھیرستے اس کے وجود میں بسے مرغزاروں ، صحراؤں اور پانیوں کی طرف چل پڑتے ھیں ۔۔۔سوچوں کی یلغار الفاظ کو فتح کرتی ہے۔۔۔

سلسلے مسافت کے ۔۔۔ہمیں بھی سوچ کی کسی نئی ڈگر پر روانہ کر دیتے ہیں


ای پیپر