اصغر خان کیس: کس ملزم کے خلاف قانونی کارروائی ہوئی؟
14 ستمبر 2018 2018-09-14

یادش بخیر!19اکتوبر2012ء کو اصغر خان کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور عارف حسین خلجی پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 1990 ء کے انتخابات میں آئی جے آئی بنانے سے متعلق16 سال پرانے اصغر خان کے مقدمے کا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’1990ء کے انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کے بنائے گئے سیاسی سیل کے ذریعے دھاندلی ہوئی‘۔ سپریم کورٹ نے اْس وقت کے آرمی چیف جنرل(ر) مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی چیف جنرل(ر) اسد درانی کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دیا اور عدالت نے یہ بھی کہاکہ ’جو سیاستدان اس سے مستفید ہوئے ان کی تحقیقات کی جائیں‘۔ عدالت نے رقوم لینے والے افراد کے بارے میں تحقیقات کرنے اور ان سے

یہ رقوم واپس لینے کا بھی حکم دیا تھا۔ عدالتی فیصلے کے پیراگراف 14میں سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ ان سیاست دانوں کے خلاف شواہد اکٹھے کرے جنہوں نے 1990ء کے انتخابات سے قبل آئی ایس آئی سے رقوم وصول کی تھیں۔یاد رہے کہ ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان نے یہ درخواست1997ء میں دائر کی تھی، جس کا فیصلہ 16 برس بعد سنایا گیا۔ البتہ سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ سعیدالزمان صدیقی کے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں کہ انہوں نے 11 اکتوبر 1999ء کو اصغر خان کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا مگر ایک دن بعد نواز شریف کی حکومت ٹوٹنے کے باعث وہ فیصلہ سنایا نہ جا سکا۔ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آنے کے بعد اس دور کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اسی شام ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’1990ء میں ہونے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ کو چرانے والی اسٹیبلشمنٹ کا چہرہ آج بے نقاب ہوگیا ہے اور 22 سال بعد تاریخ نے سچ عیاں کر دیا ہے، اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ دار افراد کو نہیں بخشا جائے گا جو افراد اس سارے عمل سے مستفید ہوئے انہیں قوم سے معافی مانگنی چاہیے تاہم اگر وہ معافی مانگ بھی لیتے ہیں تب بھی قانون ان سے نمٹے گا، وفاقی تحقیقاتی ادارہ اس معاملے کی تحقیقات کرے گا اور عوام کو ان تحقیقات سے آگاہ رکھا جائے گا‘۔

یاد رہے کہ 9مارچ 2012ء کو چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی عدالت میں اس وقت سناٹا چھا گیا تھا جب حبیب بینک کے سابق سینئر وائس پریذیڈنٹ یونس حبیب نے انکشافات کرنا شرو ع کیے کہ ان سے سابق صدر غلام اسحاق خان اور جنرل اسلم بیگ نے ایک ارب 48کڑور روپے ’’عظیم تر قومی مفاد‘‘ میں لیے تھے اور 35 کروڑ روپے آئی ایس آئی کو دیے گئے جبکہ بچ جانے والے ایک ارب 15کروڑ روپے کو بروئے کار لاتے ہوئے ’خاکی لوگوں‘ نے جعلی کمپنیاں بنا کر خود جائیدادیں بنا لیں۔یونس حبیب کا بیان غور سے پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے مارچ 2012ء کو عدالت عظمیٰ کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ ’کیسے اس وقت کے آرمی چیف اور روئیداد خان نے جو بعد ازاں عدلیہ بحالی تحریک کے ہراول دستے میں شامل ہو گئے تھے ، ان دنوں انہیں ہراساں کر کے یہ کام کرایا۔ یہ امر لائق توجہ ہے کہ عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ایئر مارشل اصغر خان نے 21دسمبر 2013ء کوسپریم کورٹ کے فیصلے کے ایک سال کے بعد ایف آئی اے نے جب تحقیقات کا با قاعدہ آغازکیا تو سب سے پہلے اپنا بیان ریکارڈ کرایا ۔ہر کہ و مہ جانتا ہے کہ 14اکتوبر2014ء کو اصغر خان کیس میں مہران بینک کے صدر یونس حبیب نے اپنے بیان میں جن سیاست دانوں اور دیگر افراد کو رقوم دینے کا الزام لگایا تھا، ان میں سابق وزیر اعظم نواز شریف سمیت کئی اہم شخصیات شامل ہیں۔

اصغر خان کیس کی 16سالوں پر محیط عدالتی کارروائی پر کروڑوں روپے کا خرچہ ہوا جو یقیناًعوام کے ٹیکسوں سے ادا ہوا۔ مقام حیرت ہے کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے6برس گزرنے کے قریب ہیں مگر اس کے باوجو سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور ایئر مارشل اصغر خان کے علاوہ کیس میں نامزد سیاست دانوں، ریٹائرڈ فوجیوں اور صحافیوں میں سے کسی سے بھی پھوٹی کوڑی بھی وصول نہیں کی جا سکی۔لازم ہے کہ مقتدر لوگوں کو بھی تحقیقاتی عمل میں تعاون پر مجبور کیا جائے اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے ایک ایک حرف پر عمل درآمد کیا جائے، اب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جانا چاہیے۔


ای پیپر