رستم زماں کی نواسی ہو کر بھی ہار گئی؟
14 ستمبر 2018 2018-09-14

”اللہ نے بلا لیا ہے“ یہ بیگم کلثوم نواز کے الفاظ ہیں، جب ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، اور مسرت و انبساط کے تاثرات ان کے چہرے سے لے کر ان کی چال ڈھال تک نمایاں تھے، اس وقت غالباً عمرے یا حج کی سعادت دینے کے لئے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انہیں بلایا تھا، اللہ تعالیٰ کی یہ مہمان اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے میزبانی کے مشرف منتخب کر لی گئی ہیں۔
دنیاوی زندگی میں لوگوں کی منتخب کردہ ممبر قومی اسمبلی حلف اس لئے نہیں اٹھا سکی تھیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انتخاب میں انہیں ”منتخب“ کر لیا تھا۔ اسی لئے تو اللہ تعالیٰ نے سورة القمر میں فرمایا ہے کہ اے نفس مطمئنہ، چل اپنے رب کی طرف، تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی، شامل ہو میرے بندوں میں اور داخل ہو جا میری بہشت میں عملی زندگی کے آغاز میں، میں عمرہ ادا کرنے سعودی عرب چلا گیا تھا وہاں پہ مقیم میرے ”سعودی نیشنل“ قریبی رشتہ داروں نے مجھے مشورہ دیا کہ سعودیہ میں کوئی ملازمت یا تجارت شروع کر دیں، ان دنوں میرے خالو سعودی حکومت کی طرف سے یونان میں سفیر تھے ان کے دوست کنگ عزیز یونیورسٹی جدہ کے وائس چانسلر تھے جو بعد میں موتمر عالم اسلامی کے سربراہ بنے، مجھے نہیں معلوم کہ شاید ابھی تک وہ اسی عہدے پر برقرار ہیں کہ نہیں؟ ان کا نام ڈاکٹر عبدالنعیف ہے انہوں نے میرا انٹرویو خالصتاً پاکستانی انداز میں کیا کیونکہ ”سفارش“ لگ چکی تھی مجھ سے انہوں نے پوچھا کہ آپ کا مکمل نام کیا ہے؟ میں نے اپنا پورا نام بتایا تو انہوں نے پوچھا آپ کتنے بہن بھائی ہیں جب میںنے یہ بھی بتا دتا تو انہوں نے پوچھا کہ والدین زندہ ہیں میں نے بتایا کہ والدہ صاحبہ زندہ ہیں والد صاحب فوت ہو گئے ہیں، یہ سن کر انہوں نے جو جواب دیا وہ نہ صرف میری بلکہ مسلمانوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے انہوں نے یہ سن کر والد صاحب فوت ہو گئے ہیں کہا ”الحمدللہ“ میں یہ سن کر ہکا بکا رہ گیا کہ دیکھنے میں یہ شخص کتنا شریف لگ رہا ہے چہرے پر کتنی اچھی داڑھی ہے، ماتھے پر محراب ہے، گفت و شنید کا انداز بڑا مشفقانہ ہے مگر اندر سے یہ کرتوت ہے، قارئین میں آپ کو اس وقت کے جذبات شباب و نوجوانی سچ سچ بتا رہا ہوں کہ میرا باپ فوت ہو گیا ہے، اور یہ الحمدللہ کہہ رہا ہے انہوں نے اس کو کیا تکلیف پہنچائی تھی؟
قارئین مگر بعد میں مجھے اندازہ ہوا، کہ کسی کی پیدائش ہو ، یا کسی کی موت ہو ، عربی بات بات پر الحمدللہ کہتے ہیں، اور شاید یہی وجہ ہے کہ سعودیہ ابھی تک عالمی طاقتوں کی حریصانہ نظروں سے کسی حد تک بچا ہوا ہے ، اس وقت سے لے کر اب تک الحمدللہ کہا، مجھ میں بھی رچ بس گیا ہے کسی کے انتقال پر سعودی بلکہ خطہ عرب میں الحمدللہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ اللہ کا شکر ہے کہ وہ یہ دنیا جس کو اللہ تعالیٰ نے پسند نہیں فرمایا اور اللہ کے محبوب نے بھی پسند نہیں کیا یہ اسے چھوڑ کر جنت الفردوس میں چلا گیا ہے۔ میڈیا کی خوشامد دا اندازہ لگائیں خبر چل رہی تھی حکومت نے بڑے پن کی شاندار مثال قائم کر دی اور نوازشریف کو تجہیز و تکفین کی اجازت دے دی، میں بیگم کلثوم نواز صاحبہ کو اس وقت سے جانتا ہوں جب ان کی شادی ہوئی تھی کیونکہ اپنی والدہ محترمہ کے فرمان کے مطابق میں نے سعودیہ میں ملازمت نہیں کی تھی اور پاکستان واپس آ گیا تھا اور پھر کلثوم صاحبہ کے بھائی محمد لطیف کے ساتھ کاروباری تعلقات سے وابستہ ہو گیا میاں محمد نوازشریف، میرے بہنوئی کے دوست کے دوست تھے، اور وہ سعودیہ میں ہوتے تھے جن کے گھر میاں صاحب کا اور کلثوم صاحبہ کا آنا جانا رہتا تھا کیونکہ اس خاندان میں عمرے و حج پہ جانے کی سعادت حاصل کرنے کا شوق ہی نہیں والہانہ پن شروع ہی سے موجود ہے، کلثوم نواز صاحبہ کی والدہ صاحبہ جو رستم زماں گاماں کی اہلیہ تھیں ان سے بھی میری ملاقات تھی زرہ زرہ کیونکہ وہ اپنے جیل روڈ اور شادمان کے سنگم پر واقع گھر میں مصری شاہ والے گھر سے لطیف صاحب کے پاس منتقل ہو گئے تھے ان کا ایک گھر گارڈن ٹاﺅن میں بھی ہے کلثوم نواز صاحبہ کے والد محترم ڈاکٹر حفیظ صاحب ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھے اور وہ جنرل پریکٹس کرتے تھے۔ وہ پینٹ کوٹ پہنتے تھے، انہیں واک کرنے کا بے انتہا شوق تھا اور وہ اکثر مصری شاہ سے شادمان جوگر پہن کے آ جاتے تھے، کلثوم نواز صاحبہ کی والدہ محترمہ بھی پابند صوم و صلاة تھیں بہت ہی دھیمے مزاج کی سانولی رنگ اور اچھے ڈیل ڈول کی یہ خاتون بہت خاموش طبع، کسی کے معاملات سے بڑی حد تک دور رہنے والی تھیں، ان کے بھائی بھولو پہلوان بھی بین الاقوامی شہرت یافتہ تھے، اور انہیں بھی رستم زمان کہا جاتا ہے، درمیانی قدوقامت کی یہ شخصیت بہت ہی سادہ طبیعت کے مالک تھے جن میں فخر و غرور نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ کلثوم نواز صاحبہ کے اس ماموں کو میں اپنی گاڑی میں شاہ جمال چھوڑنے گیا تھا، تو راستے میں ان کی شریفانہ گفت و شنید و خیالات سے میں بہت متاثر ہوا تھا۔ ان کا مخالف گروپ جن سے پیشہ وارانہ رقابت شروع سے موجود تھی ایک دفعہ حاجی افضل پہلوان میرے گھر تشریف لائے تو میں ان کی باتیں سن کر ششدر رہ گیا انہوں نے مجھے کہا کہ اللہ گواہ ہے جس کو میں نے جان دینی ہے مقابلہ بازی اپنی کیونکہ حاجی افضل صاحب ان کے حریف تھے۔ مگر یہ پہلوانوں کا خاندان انتہائی شریف النفس اور پرہیزگار ہے قارئین یہ بات دراصل انہوں نے اپنے ہم عصر پہلوانوں کیلئے کہی تھی کسی وقت ان سے مکمل انٹرویو کر کے میں ان شاءاللہ اپنے قارئین تک ضرور پہنچاﺅں گا میں بیگم کلثوم نواز کے خالہ زاد بھائیوں بالخصوص دلیر پہلوان المعروف پری پہلوان کو بھی جانتا ہوں جو گوجرانوالہ کے رہائشی ہیں، اور جن کی والدہ محترمہ کلثوم صاحبہ کی خالہ ہیں ان سے ملاقاتیں رہی ہیں، ہم جب مری جاتے تھے تو دلیر صاحب اور ان کی والدہ صاحبہ کے اصرار پر گوجرانوالہ ضرور رکتے تھے۔ حفیظ صاحب کا مری میںبھی گھر تھا جو بعد میں میاں صاحب نے خرید لیا یا کلثوم صاحبہ کو حصہ ملا۔ مگر بعد میں ہم نے یہ سلسلہ دانستہ ختم کر دیا کیونکہ وہ اسقدر مہمان نوازی کرتے، اور تکلف رکھ رکھاﺅ کا مظاہرہ کرتے کہ ہم شرمندہ ہو جاتے مگر ان کا گلہ بدستور جاری رہتا کہ آپ نے ہمیں خدمت کا موقع نہیں دیاقارئین چونکہ میں کلثوم صاحبہ کے پورے خاندان سے متعارف ہوں، میرے لکھنے کا مقصد محض اتنا ہے کہ کلثوم صاحبہ کا پورا خاندان مشرقی روایات کا حامل ہے جس میں غروروتکبر کا دور دور تک کہیں شائبہ بھی نہیں، کلثوم صاحبہ کی بڑی بہن ڈاکٹر خدیجہ اور ان کے شوہر بھی ڈاکٹر ہیں اور ان کی چھوٹی بہن جنکا نام مجھے یاد ہے وہ بھی اپنی بڑی بہن کی تربیت یافتہ ہیں، موجودہ دور میں جب ہمارے ملازمین کے بچے بھی ممی ڈیڈی کہتے ہیں لیکن اس خاندان میں امارت کے باوجود امی ابو کہا جاتا ہے میں نے اپنے خدا کو جان دینی ہے اور آپ سب نے بھی میں نے ہمیشہ اس خاندان کو محافل نعت، درود پاک، لنگر کی تقسیم کرتے ہی دیکھا ہے، کلثوم صاحبہ ہزاروں کی تعداد میں مستحق خاندان کو اپنی زیرنگرانی وظیفے بھجوایا کرتی تھیں۔ حدیث مبارکہ ہے کہ ایک جنازے کو لوگوں نے اچھا کہا اور میت کی تعریف فرمایا اس پر جنت واجب ہو گئی لوگو تم زمین پر خدا کی طرف سے گواہ ہو ، تم جس کو اچھا کہہ دیتے ہو خدا اسکو جنت میں داخل کر دیتا ہے (بخاری،مسلم) حدیث بخاری میں ہے اگر میت کو چار، تین حتیٰ کہ دو شخص بھی اچھا کہہ دیں تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتا ہے اور اگر مولانا طارق جمیل جیسے ولی اللہ میت کی تعریف بھی کریں اور نماز جنازہ بھی پڑھائیں اور وہ بھی جمعے کے مبارک دن اللہ تعالیٰ اپنی شان رحیمی و کریمی کے صدقے ان شاءاللہ انہیں ضرور بخش دے گا۔ میری یہ بھابھی برطانیہ میں فوت ہوئی ہیں اور میری دوسری بھابھی مسز طلعت قادر امریکہ میں فوت ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ کا یہ بھی فرمان ہے کہ جو مریض ”سکتے“ کومے میں چلا جائے تو اللہ تعالیٰ اسے بغیر حساب کتاب بخش دیتا ہے قارئین آپ سے گزارش ہے کہ ان دونوں کے ایصال ثواب اور بخشش کے لئے سورة الفاتحہ اور قل شریف پڑھ لیں، مجھ پر آپ کا احسان ہو گا بزرگ کہتے ہیں کہ یہ وہ عمل ہے کہ زندگی میں پڑھا ہوا خود اپنے لئے آخرت میں کام آتا ہے۔
آخر میں میری غمزدہ خاندان سے گزارش ہے کہ اللہ کے رحم و کرم کے سہارے اور توکل کرتے ہوئے غم نہ کریں کیونکہ مرضی خدا اور مشیت ایزدی سے جب بھی انسان اختلاف کرتا ہے تو غم میں لگ جاتا ہے، لہٰذا اللہ کی مرضی کو مانتے ہوئے معاملہ اللہ کے سپرد کر دیں، رستم زماں کی نواسی نے ڈیڑھ سال ملک الموت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا عزرائیل صرف اس لئے جیت گیا کہ جبرائیل علیہ السلام نے بھی اس سے ہارنا ہے اور اسرافیل نے بھی ایک دن خود عزرائیل نے بھی اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر دینی ہے، بس رہے نام اللہ کا، میری خواہش تھی کہ انہیں جنت البقیع میں دفنایا جاتا۔ کلثوم نواز نے اپنی جان دے کر جنرل مشرف کے ظرف کو بے نقاب کر دیا جنہوں نے سید ہونے کے باوجود دو کلمات مغفرت اور تعزیت کہنا بھی مناسب نہ سمجھا۔


ای پیپر