بے ریا قائد
14 اکتوبر 2020 (11:55) 2020-10-14

سماجی بہبود ایسی نیکی اور کارِ خیر ہے جس کے تمام مذاہب قائل ہیں بلکہ مذہب پر یقین نہ رکھنے والے اصحاب بھی اس کاز کے لیے کام کرکے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ اسلام میں سماجی بہبود عبادت کا اعلیٰ درجہ ہے۔ بندوں کی خدمت کرکے بندہ اللہ کا مقرب بن جاتا ہے۔ علم کی روشنی پھیلانا سماجی بہبود کے کاموں میں سب پر فوقیت رکھتا ہے۔ حصولِ علم ہر فرد پر فرض ہے۔ علم نافع کے لئے کام کرنا، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور غیر مراعات یافتہ طبقہ کے افراد کی معاشی ضروریات کا خیال رکھنا مسلم معاشرہ پر فرض ہے۔ ایسی سماجی خدمات کرنے والے بے ریا لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔ اُن میں سے ایک معروف شخصیت کا نام منظور حسین سیال ہے جو عدلیہ سے وابستہ رہے اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک جج کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ وہ اپنی دیانت داری اور قانون میں مہارت کی وجہ سے معروف تھے لیکن اُن کی شہرت اور خاص و عام میں مقبولیت کی اصل وجہ اُن کا تعلیمی مقاصد سے شغف اور کوالٹی تعلیم پھیلانے کا عزم صمیم ہے۔ اس میدان میں اُن کی کارکردگی سے سیکڑوں طلبا و طالبات اعلیٰ تعلیم سے آراستہ ہوئے۔ وہ جھنگ، چنیوٹ آفیسرز ایسوسی ایشن کے صدر الصدور تھے۔ اُن کی بلندیئ فکر اور سخن دل نواز تمام ارکان کے لیے ایک تحریکی اور ترغیبی محرک کا کام کرتا تھا۔ وہ جھنگ ایجوکیشنل ٹرسٹ کے روح رواں تھے۔ اِس ٹرسٹ کے تحت ابتدا میں چناب کالج جھنگ قائم کیا گیا جو کوالٹی ایجوکیشن کے اعتبار سے پورے پنجاب میں سرِ فہرست ہے۔ اِس کے بعد اِس کالج کی شاخیں بتدریج چنیوٹ، شورکٹ اور احمد پور سیال میں قائم کی گئی ہیں جوخوش اسلوبی سے چل رہی ہیں۔ 

جسٹس منظور حسین سیال نے ایجوکیشن ٹرسٹ کو فعال تنظیم بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہ اس ٹرسٹ کے فنڈز میں اضافہ کرنے کے لئے بیرونِ ملک بھی اپنے اخراجات پر جاتے تھے۔ کئی مخیر حضرات نے جن کا تعلق جھنگ، چنیوٹ سے ہے اِس ٹرسٹ کے لئے خطیر رقم دی ہے۔ یہ ٹرسٹ ہر سال جھنگ کے تعلیمی اداروں میں نمایاں پوزیشنیں حاصل کرنے والے طلبا و طالبات اور اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے اساتذہ کو انعامات اور شیلڈز دیتا ہے۔ نمایاں پوزیشنیں حاصل کرنے والے مستحق طلبا و طالبات کو اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے لئے ماہانہ وظائف دیتا ہے۔ اب تک متعدد طلبا مستفید ہوکر انجینئرنگ، میڈیکل سائنس اور دیگر شعبوں میں اپنی تعلیم مکمل کر چکے ہیں۔ 

جسٹس منظور حسین سیال کا مقاصدِ تعلیم اور فروغِ علم سے گہرے شغف اور اُن کی تعلیمی بصیرت اور محنت شاقہ کا نتیجہ ہے کہ اُن کو انجمن حمایتِ اسلام کا صدر چن لیا گیا اور انہوں نے اپنے فرائض خوش اسلوبی اور محنت سے سرانجام دیئے۔ اُن کی کارکردگی کو انجمن حمایتِ اسلام کے پلیٹ فارم پر کئی بار سراہا گیا۔ 

چند دن پہلے یہ عظیم شخص جس پر سرزمینِ جھنگ کو ناز تھا اس جہان فانی سے رخصت ہوگئے۔ ایسا با صلاحیت، خوش اخلاق، منکسر المزاج اور با اثر انسان کبھی کبھی نصیب ہوتا ہے۔ وہ جھنگ ایسے پسماندہ علاقے کے لئے نشان رحمت، علم کی روشنی کا مینار اور تابناک مستقبل کا پیغام تھے۔ میری اُن سے ہر سال دو تین ملاقاتیں ہوجاتی تھیں۔ سال میں ایک ملاقات تو ایسوسی ایشن کے سالانہ اجلاس میں ضرور ہوتی تھی۔ گذشتہ سال میری اُن سے ملاقات مہر جیون خان کے جنازے میں ہوئی۔ وہ اور میں شانہ بشانہ کھڑے تھے۔ نماز ِ جنازہ کے بعد اُنہوں نے تاکید کی کہ ہم سب ٹرسٹ کے کالجوں کے معیارِ تعلیم اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لئے کوشاں رہیں اور ٹرسٹ کو زیادہ سے زیادہ با ثروت بنائیں۔ میں ذکر کرتا جاؤں کہ اُنہوں نے لاہور میں اپنی زمین کا ایک قطعہ ٹرسٹ کے لئے وقف کیا تھا جس پر آج ایک عالیشان ہال، مہمان خانہ اور کچھ دفاتر اُن کی فیاضی کی گواہی دے رہے ہیں۔ 

جب اُن کی عمر 85سال سے بھی زیادہ تھی اُس وقت بھی اُن کا عزم جواں اور اُن کے ارادے بلند تھے۔ وہ مستقبل کے منصوبوں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے فکر مند ہو جاتے تھے اور ارکان کو تلقین کرتے تھے کہ وہ ان منصوبوں کو کامیاب کرکے سرزمین جھنگ کو علم اور معاشی ترقی میں ایک نمونہ بنائیں۔ اُن کی مقناطیسی شخصیت کی طرف ہر شخص کھچا ہوا چلا آتا تھا۔ جھنگ کے کاشتکاروں کے لئے اُن کے گھر کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے تھے۔ وہ اُن سے ملتے اور اپنے مسائل پیش کرتے، وہ خندہ پیشانی سے پیش آتے اور حتی المقدور اُن کے مسائل حل کرتے۔ ہر ایک اُن سے ملنے کا مشتاق رہتا تھا اور مل کر بہت خوش ہوتا تھا۔ اُن کی محفل میں عجیب اطمینان اور انبساط کا کیف طاری ہوجاتا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اُن کو بارگاہِ ایزدی سے ولایت عطا ہوئی ہے۔ وہ زاویہ نشین صوفی نہ تھے وہ سماجی تصوف پر عمل کرتے تھے۔ وہ بھرپور زندگی گزارنے کے قائل تھے جو اخلاق کریمانہ، صداقت، بے لوثی، عفو و درگزر اور مروّت و احسان سے عبارت ہو۔ 

اُن کی وفات سے نا صرف اُن کے عدلیہ سے وابستہ دوست و احباب مغموم ہیں بلکہ جھنگ، چنیوٹ ایسوسی ایشن کے تمام ارکان اس ناقابلِ تلافی نقصان سے پریشان ہیں۔ جھنگ اور چنیوٹ کے اساتذہ، طلبا و طالبات اور خواص و عوام اُن کی بلندیئ درجات کے لئے دست بہ دعا ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُن کے بیٹے اور دیگر لواحقین کو صبرجمیل عطا کرے اور ہمیں اُن کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔


ای پیپر