file photo

’پب جی ‘ گیم کھیلنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے:فتویٰ
14 اکتوبر 2020 (10:13) 2020-10-14

کراچی:جیسے جیسے دنیا ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہی ہے ویسے ہی کئی ایسے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے جس کے بارے عام انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ وہ انجانے میں وہ کام کر چکا ہوتا ہے جو کہ مذہبی اور اخلاقی طور پر جائز اور مناسب نہیں ہوتا ۔

ایسا ہی کچھ پاکستان میں تیزی سے مقبولیت کے جھنڈے گاڑنے والی ویڈیو گیمپب جی‘ کے ساتھ بھی ہوا جسے پی ٹی اے کی جانب سے بلاک کرنے کے بعد عدالتی حکم پر دوبار ہ بحال کردیا گیا تھا ۔تاہم اب گیم کے بارے ایسا فتویٰ آگیا ہے جس کے بعد ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔

 نجی ٹی وی چینل کی ویب سائٹ پر ایک رپورٹ شائع کی گئی جس کے بعد کراچی کی معروف دینی درسگاہ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن نے فتویٰ دیا ہے کہ ’ پب جیگیم کھیلنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔

یہ فتویٰ اس وقت جاری کیا گیا جب دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن سے ایک شہری نے سوال پوچھا اور جامعہ کی جانب سے اس سوال کے جواب میں آنے والے فتویٰ کو ویب سائٹ پر جاری کیا گیا ۔

فتوے کی نقول سوشل میڈیا پر بھی بڑی تعداد میں پوسٹ کی گئی ہیں اور اس معاملے پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ایک شہری کی جانب سے سوال کیا گیا تھاکہ ' گزشتہ جمعےکو ہماری مسجد کے امام صاحب نے بیان میں فرمایا تھاکہ جو شخص پب جی (pubg) گیم کھیلتا ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اور اس کا نکاح باقی نہیں رہتا، یعنی جو احکام اسلام سے نکلنے کی صورت میں لگتے ہیں وہ سب بیان کیے، براہ مہربانی اس بارے میں رہنمائی فرمائیں‘۔

  دارالافتاء کی جانب سے سوال کا جواب دیا گیا کہ 'معلومات کے مطابق پب جی گیم میں بعض اوقات’پاور‘ حاصل کرنے کے لیے   گیم کھیلنے والے کو  بتوں کے سامنے پوجا کرنی پڑتی ہے اور گیم کھیلنے والے شخص کا اپنے کھلاڑی کو  پاور حاصل کرنے کے لیے بتوں کے سامنے جھکانا اور بتوں کی پوجا کروانا اس کا اپنا فعل ہے‘۔

فتوے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ گیم میں نظر آنے والا کھلاڑی اسی گیم کھیلنے والے کا عکاس اور ترجمان ہے اور مسلمان کا توحید کا عقیدہ ہوتے ہوئے بتوں کے سامنے جھکنا شرک  ہے‘۔

 فتوے میں کہا گیا ہے کہ ’ گیم میں یہ عمل کرنے سے رفتہ رفتہ بتوں کے سامنے جھکنے کی قباحت بھی دل سے نکل جائے گی، لہٰذا یہ گیم کھیلنا ناجائز ہے اور پب جی گیم میں بتوں کے سامنے جھک کر پاور حاصل کرنا شرک ہے، اور عمدًا اس کوکرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے گا، ایسے شخص پر تجدیدِ ایمان اور شادی شدہ ہونے کی صورت میں تجدیدِ نکاح بھی ضروری ہے‘۔

فتوے کے آخر میں کہا گیا ہے کہ  ’اگرکوئی شخص پب جی گیم میں شرک کا کوئی عمل نہیں کرے تو پھر بھی شرک پر راضی رہنے اور کئی اور مفاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے پب جی گیم کھیلنا جائز نہیں ہے‘۔

 واضح رہے کہ پب جی دنیا بھر کی طرح پاکستانی نوجوانوں میں کافی مقبول ہے۔پی ٹی اے نے یکم جولائی کو ’ پب جیگیم پر عارضی طور پر پابندی عائد کردی تھی جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامرفاروق نے 24 جولائی کو پب جی پر پابندی کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے آن لائن گیم کو فوری بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔


ای پیپر