بدنامی کے ڈھول.... 
14 اکتوبر 2020 2020-10-14

 مصور ہوتی تو بے وفائی کو پینٹ کرتی آنکھوں میں اُترے اجنبیت کے لمحے کو قید کرتی لوگوں کو لینڈ سکیپ پورٹریٹ اور ابسٹریکٹ میں اظہار ملتا ہے مگر ہم آفاقی جذبوں کی پامالی پرخون کے آنسو روتے ہیں صبر، تشکر اور رواداری تو نہ جانے کہاں ہوا ہو گئے اب تو رسوائیوں، برائیوں اور تذلیل کے نئے نئے عنوان سوچے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ”ڈھول“ پیٹے جائیں گے تھانوں میں تصویریں لگیں گی بدنامیوں کے باب تحریر ہوں گے۔

انجان زمانوں میں دادا، نانا کے نام سے پکارے جانے والوں کو کسی جرم کے ارتکاب پر ڈھونڈا جاتا تو تھانے میں تصویر اس لئے لگتی کہ تب گھر گھر تصویر بذریعہ ٹیلی ویژن نہیں پہنچتی تھی اب رٹے رٹائے چہروں اور دن میں چھتیس بار دہرائے جانے والوں کے نام کاڈھول پیٹنا اور تصویریں و اشتہار چسپاں کرنا ضرورت نہیں رسوا کرنے کی خواہش ہے اس سے انصاف کا کوئی تقاضا پورا ہونا ہے اور نہ مجرم پکڑے جانے ہیں مگر جذبہ انتقام کی تسکین کا قدرے اہتمام ہوتا ہے۔

مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی ”انتقام“ تمام جذبوں و جبلتوں پر سبقت کیسے لے گیا چلو معافی و درگزر تو گزرے وقتوں کی کہانیاں ہیں، لاتعلق رہنا بھی نعمت ہے اور بھی تو جبلتیں تھیں مگر سوائے بچوں کی چیر پھاڑ اور بڑوں کے سیاسی انتقام کے باقی سب مفقودہو گئیں کبھی کبھار کوئی محبت میں زہرکھاتا ہے معاشرے نے محبت میں شادی کرنے والوں کو ایسا نشانِ عبرت بنا دیا ہے کہ اب کبھی کسی کے ”بھاگنے“ کی خبر تک نہیں سنی کہ اب لڑکی لڑکا مخالف سمت بھاگتے ہیں۔ 

عاشق کی جگہ ”ٹھرکی“ پیدا ہو گئے ہیں اور محبوبہ کے ہاتھ میں ”رقعوں“ والا موبائل ہے جس کے تمام رقعے پل میں ڈیلیٹ کر کے پکڑے جانے کا کوئی امکان ہی نہیں۔ آدھا کھلا آدھا بند معاشرہ کنفیوژن کی دھند میں اپنی پہچان کھو رہا ہے۔ہم معاشرے کی اصلاح کی بات کرتے گمشدہ تربیت کو روتے ہیں یہ جانے بغیر کہ حکومتیں اپنے پنج سالہ دور میں اڑھائی تین برس تو محض گزشتہ حکومت کی برائیوں میں گزار دیتی ہیں۔ جیلیں ،قیدیں، مقدمے کیا ملتا ہے ان سب سے عوام کو؟ ماضی کا کوڑا کرکٹ ہے کہ ڈونگرے کے ڈونگرے بن کر برس رہا ہے ہر پیدا ہونے والا بچہ اپنے ملک کی کرپشن کا رولا اذان سے بھی قبل سنتا ہے پہلا احساس ہم بچوں کو یہی تحفے میں دیتے ہیں کہ ہم نہایت کرپٹ ملک کے باسی ہیں۔ گزشتہ سے پیوستہ بدنامی سفر کرتی ہوئی نسل در نسل بدتمیزی کے درجات میں بلندی کے ساتھ جاری وساری ہے۔

”میڈیاکر“ ذہانت نے ملک میں فکری و نظریاتی طبقہ پیدا ہی نہیں ہونے دیا جُزوقتی مفادات نے ہمارے لیڈروں کو یہ سوچنے کی مہلت ہی نہیں دی کہ اُن کی الزامات بھری مارپیٹ سے بھرپور گفتگو ملک کے بچے بھی سنتے ہیں وحشت سفر کرتی ہے چیختی چلاتی سیاست کے زیرسایہ ریاست کس طرح پُرسکون ہو سکتی ہے انتخابات جو سدا دھاندلی شدہ ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں آنے والی حکومت اور جانے والی حکومت مناظرہ لگا کر باقی اداروں کوبدنام کرنا شروع کر دیتی ہے یہ سمجھے بغیر کہ مضبوط لیڈروں کی کارکردگی میں نہ زمانہ دخل دے سکتا ہے اورنہ ”ادارے“۔ منیر نیازی کا شعر یاد آگیا:

مجھ میں ہی کچھ کمی تھی کہ بہتر میں سب سے تھا

میں شہر میں کسی کے برابر نہیں رہا

بے یقینی کا ایسا عالم کہ بقول عدم

ایسا لگتا تھا کہ اُن کے حسن پر مرتا ہوں میں لالچی ہوں اکتسابِ روشنی کرتا ہوں میں

اب حالات سنورنے کی امید یوں پیدا ہوتی دکھائی دیتی ہے کہ نئی عمارتیں بننے سے قبل مکمل ڈھے جاتی ہیں اور جس تیزی سے سیاسی اداکاری کی فلم تنزلی کا شکار ہوئی ہے وہاں سے نئی چنگاریاں پھوٹنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں کیونکہ اس سے زیادہ اخلاقی تنزلی ممکن نہیں جس چوراہے پر ڈھول بجانے کی تیاری ہو رہی ہے وہیں پر آخری ہنڈیا بھی پھوڑ دی جائے گی خود سے نفرت کروانے والے آخری سانسیں لے رہے ہیں۔

مجھے بچپن میں سیالکوٹ کی گلیوں میں بگڑے ہوﺅں اور نشئیوں کے انجام کے سین بخوبی یاد ہیں ہذیان بکتے نشئیوں کو لوگ گدھے پر بٹھا کر منہ کالا کر کے گلے میں جوتوں کا ہار پہنا کر گلی گلی گھمایا کرتے تھے۔ سیاست میں فرق اتنا ہے کہ دیا سلائی کہیں اور سے دکھائی جاتی ہے اور ہوا کا رُخ بدلنے والا آلہ کہیں اور سے کنٹرول ہوتا ہے وہی بدنامی کے ڈھول رسوائی کے ہار اور چور چور کے نعرے لگوائے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر شیرافگن اور دیگر مشیروں کے عوامی اجتماع میں چیر پھاڑ اور ”جُتی کھوسڑا“ اتنا بھی Unplained نہیں تھا۔

پھر جب تقریروں میں چہروں پر جوتے بازی کا رجحان ہوا تو ہوتا چلا گیا چہروں پر کالک پھینکنے کا رجحان اور اب مداریوں کی پٹاریوں سے ڈھول نکل رہے ہیں یہ ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ رواج اچھا نہیں وڈیوز تو اُن کی بھی رقصاں ہیں جو سزائیں دیتے ہیں جن کے سروں پر انصاف کا تاج ہے مگر کون سمجھے گا یہ خطرناک کھیل ہے۔ مجھے اپنے کام کے سلسلے میں ایک مرتبہ سنسر ریہرسل دیکھنے کا اتفاق ہوا جس طرح ادھورے رقص سے خواتین کو دھتکار کر کہا جاتا جاﺅ اگلا سین آن ہو تو مجھ سے یہ توہین محض اس لئے برداشت نہ ہوئی کہ میں بھی ایک خاتون ہوں اور خواتین چاہے سٹیج ڈراموں کی ہوں اُن کی تذلیل برداشت نہیں (باقی صفحہ 3 بقیہ نمبر1)

کر سکتی۔ بچے کے ساتھ زیادتی پر اس لئے چپ نہیں رہ سکتے کہ ایسی نہ ختم ہونے والی خبریں شروع ہو جاتی ہیں۔

سیاست دانوں سے یہ تو امید عبث ہے کہ وہ ملکی بہبود کا سوچیں فقط اتنی ہی گزارش ہے کہ آپ سب کولیگ بھی تو ہیں ایک دوسرے کی اس درجہ پگڑی نہ اچھالیں اپنے شعبے کی بچی کھچی عزت رہنے دیں۔ پیر صاحب پگاڑا، نوابزادہ نصراللہ، مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمدنورانی کو یاد کیجئے اور خادم و مخدوم کا تقدس بچا رہنے دیں۔ ڈاکٹر ڈاکٹروں کی حمایت کرتے ہیں، بیوروکریٹ بیورکریٹ کی، تاجر طبقہ بھی فیصل آباد میں متحد دیکھا۔ پولیس تک اپنے پیٹی بند بھائیوں کو بچا لیتی ہے کیا آپ سیاستدان اخلاق کے آخری نچلے طبقے پر متمکن ہونا چاہتے ہیں۔


ای پیپر