پر اجے قیامت نہیں آئی
14 اکتوبر 2018 2018-10-14

وزیر اعظم کا کہنا بجا کہ اتنی سی مہنگائی سے کوئی قیامت نہیں آگئی، بقول منو بھائی مرحوم ’’پراجے قیامت نہیںآئی‘‘ مگر قیامت کے آثار تو نمودار ہونے لگے ہیں علامات صغریٰ ظاہر ہو رہی ہیں کچھ عرصہ بعد (یہی لیل و نہار رہے تو) علامات کبریٰ کا ظہور ہوگا تب واقعی 22 کروڑ عوام پر قیامت ٹوٹ پڑے گی، بجلی گیس کی قیمتیں بڑھا دی گئیں، سی این جی کے دام پیٹرول سے دس گیارہ روپے زیادہ، آئندہ ماہ تک پیٹرول بھی سی این جی کے برابر آجائے گا، ڈالر ایک ہی دن میں 9 روپے مہنگا ہوگیا ریکارڈ اضافہ، روپیہ چاروں شانے چت، ایک ڈالر 137 روپے کا، ساری غیر ملکی کرنسیوں میں ہوش ربا اضافہ، غیر ملکی قرضے ایک ہی دن میں 9 سو ارب بڑھ گئے ،گھر میں کچھ بچا ہی نہیں، زر مبادلہ کے ذخائر 8 ارب 30 کروڑ 78 لاکھ رہ گئے کبھی 28 ارب ڈالر ہوا کرتے تھے، روز مرہ اخراجات کے لیے قرضوں پر انحصار، یکم جولائی سے 28 ستمبر 2018ء تک ساڑھے 17 کھرب سے زائد قرضے لیے (سابق حکومتوں پر لعن طعن کیوں، ایک حمام میں سارے ننگے) اسٹیٹ بینک کے مطابق حکومت نے قومی بینک سے 441 ارب 38 کروڑ کا نیا قرضہ لیا، اس میں سے 220 ارب 41 کروڑ روپے کمرشل بینکوں کو قرض کی واپسی پر خرچ ہوگئے جبکہ 211 ارب 95 کروڑ سے دیگر اخراجات پورے کیے گئے، سابق حکومت نے ایک سال میں 12 کھرب قرض لیا تھا تو گالیوں کا سارا اسٹاک ختم کردیا گیا، کہا گیا ملک تباہ کردیا کھا گئے لوٹ لیا لیکن اقتدار میں آتے ہی اندازہ ہوگیا کہ آٹے دال کا بھاؤ کیا ہے، 3 ماہ میں 17 کھرب کا قرضہ سر پر چڑھا لیا، ’’پراجے قیامت نہیں آئی‘‘ روزمرہ استعمال کی تمام اشیا ء کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا، بچوں کے دودھ کے ڈبے میں 50 روپے اضافہ، موبائل مہنگے، پھل سبزیوں، دالوں اور دیگر اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں بڑھ گئیں، یوٹیلٹی بلوں میں ہزاروں کا اضافہ، کسی نے کہہ دیا، ’’اف یہ مہنگائی اس سے پہلے اتنی مہنگائی تو کبھی نہیں ہوئی تھی، تو اسے آڑے ہاتھوں لیا گیا تبدیلی کا دشمن، ملک کا دشمن، مہنگائی مجبوری ہے کوئی قیامت نہیں آگئی، یہ ایک فرد واحد کی آواز ہے، ٹھنڈے دل سے سوچیے تو ہر فرد بشر موجودہ صورتحال سے پریشان ہے،کیا مہنگائی کرنے والے اس سے متاثر نہیں ہوتے؟ یقیناًہوتے ہوں گے ان کے گھروں میں تو بیوی بچوں سمیت ہر چیز درآمدی ہے لوکل آئٹمز تو پسند ہی نہیں آتےِِ، درآمدی اشیا کی قیمتیں بڑھی ہیں تو ان کے گھروں کے بجٹ میں بھی اضافہ ہوا ہوگا مگر انہیں ایک ایک کروڑ کے واؤچرز کی شکل میں عبوری امداد میسر آگئی، اخراجات کی کسے پروا۔

بیرونی قرضوں کے لیے بھاگ دوڑ اکارت گئی ،جن پر تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے، دو حکومتوں سے رابطہ ہوا، دونوں تسلیاں دے کر رخصت ،مجبورا آئی ایم ایف کے در دولت پر ’’ دستک دینا ‘‘کرنی پڑی انڈونیشیا گئے حکام سے ملاقاتیں کیں انہوں نے دس سالہ قرضوں کی تفصیلات، موجودہ قرضہ کا حجم مانگ لیا کہا کہ چند ہفتوں میں وفد پاکستان آئے گا مذاکرات ہوں گے مذاکرات میں کڑی شرائط پیش کی جائیں گی شرائط میں قیمتوں میں اضافہ اور روپے کی قدر میں مزید کمی پر روز دیا جائے گا، شرائط مجبورراً تسلیم کرنی پڑیں گی لوگ پھر مہنگائی کا رونا روئیں گے تو آواز آئے گی کوئی قیامت نہیں آگئی، یہی تبدیلی ہے یہی نیا پاکستان ہے ، اسٹیٹ بینک اپنی مالیاتی رپورٹ میں خطرے کی گھنٹیاں بجا رہا ہے فیصلے کون کر رہا ہے اتنے وزیر مشیر کیا کر رہے ہیں، ٹاپ کے مشیر اور اقتصادی ماہرین نے اعتراف کیا کہ روپے کی قدر گرانے کے علاوہ بھی کئی آپشنز تھے استعمال کیوں نہ کیے گئے۔ ڈالر اس سے قبل چند پیسے یا ایک دو روپے بڑھتا تھا ، ایک دم 9 روپے تو کبھی نہیں بڑھا اب کسی شیخ رشید کی چیخ و پکار سنائی نہیں دی، سب تاریک اور بند سرنگ میں داخل ہوگئے ہیں اجالا کہاں ہوگا کیا صرف باتوں، روزانہ تقریروں، اجلاسوں اور مخالفین کو چور ڈاکو کہنے سے تبدیلی آجائے گی؟ اب تک تو یہی ہو رہا ہے، ہر طرف تقریریں، پریس کانفرنسیں، دھواں دھار بیانات، جوش خطابت نمایاں۔ غور تو کیجیے روپے کی قدر کیوں گر رہی ہے، بجٹ خسارہ بڑھتا جائے گا درآمدی اخراجات آؤٹ آف کنٹرول، برآمدات میں روز بروز کمی، گھٹیا معیار کی برآمدات کون خریدے گا، روئی کی بوریوں میں پتھر بھر کر بھیجنے والوں کو کسی نے نہیں پوچھا کون پوچھے گا ہر حکومت میں شامل ہوتے ہیں اور اسمبلیوں میں جا بیٹھتے ہیں، سن کوٹے پر ایک حکومت میں وزیر تجارت تھے حکومت جانے لگی تو کشتی سے چھلانگ لگا کر لانچ میں سوار ہوگئے ،کشتی والوں کو چار گالیاں دیں اور لانچ کے کپتان کا اعتماد حاصل کرلیا حکومت میں پھر وزیر تجارت، عرض کر رہے تھے درآمدات میں اربوں کا اضافہ، برآمدات میں اربوں کی کمی، بیرون ملک پاکستانیوں کے ترسیلات زر سے ملکی اخراجات پورے کیے گئے زر مبادلہ نچلی سطح پر آگیا، اربوں کھربوں نوٹ چھاپیں، افراط زر بڑھے گا، افراط زر سنگل ڈیجٹ میں رکھنے کا شوق تو مہنگائی میں اضافہ ہوگا، مہنگائی اپنا مسئلہ نہیں عوام کا مسئلہ ہے کوئی قیامت نہیں آگئی، سنا کرتے تھے کہ ایران اور افغانستان میں سبزی لانے کے لیے بوری بھر کر رقم لے جانی پڑتی ہے اپنے یہاں کیا ہو رہا ہے پوری تنخواہ ماہانہ گروسری کی نذر دیگر اخراجات کے لیے غریب آدمی آئی ایم ایف سے نہ سہی اپنے ہمسائے سے قرض لے کر مہینہ گزارتا ہے۔ ملک کا قرض اترے گا نہ ہمسائے کا قرض، غریبوں میں اتر کر دیکھیں کس حال میں ہیں یاران وطن، آئندہ بجٹ کے لیے ٹیکس ایبل آئٹمز کی فہرست تیار ہو رہی ہے ہر چیز پر تو ٹیکس لگ گیا کیا چیز باقی رہ گئی۔

تدفین مفت میں نہیں ہوتی، بقول منشی پریم چند گھر بک جاتے ہیں حکومت تو قبر کے لیے بھی مفت جگہ نہیں دیتی ’’دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں‘‘ قبضہ مافیا نے قبرستانوں کے لیے بھی جگہیں گھیر رکھی ہیں قبر کی قیمت علاقہ کے لحاظ سے ادا کرنی پڑتی ہے، مثلا ڈیفنس میں قبر 50 ہزار میں دستیاب ہے، پہلے آئیے پہلے پائیے، اس سے کم قیمت علاقہ میں 25 سے 35 ہزار، تیسرے درجے میں 20 سے 30 ہزار، پیسے ہیں تو دفن کردیں، ورنہ میت کو ایدھی کے سرد خانے میں رکھوادیں، وہ خود ہی تدفین کردیں گے، بے چارگی کی انتہا ہے جینا آسان نہ مرنا ،کیا تبدیلی کے نقیبوں کو بھی اس کا احساس ہے؟ طبقاتی تفریق کبھی مٹی ہے جو اب مٹے گی مگر اس سب کے باوجود ’’پراجے قیامت نہیں آئی‘‘ مگر غالب زندگی بھر جس قیامت سے گزرتے رہے اس پر کہتے تھے ’’کیا اور قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور‘‘


ای پیپر