آئی ایم ایف اور ناتجربہ کار حکومت
14 اکتوبر 2018 2018-10-14

قارئین کرام! یہ سوال میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا صرف باتوں کے مقابلے میں جیت کر ملکی صورت حال کو سنوارا جاسکتا ہے؟ جانتا ہوں کہ آپ کا جواب نہیں میں آئے گا۔ مگر موجودہ حکومت تو صرف باتوں میں جیت کر عوام کو مطمئن کرنا چاہ رہی ہے۔ اب ذرا ملاحظہ فرمائیے کہ جب انہیں احساس دلوایا گیا کہ آپ کی کابینہ ناتجربہ کار افراد پر مشتمل ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ جی ہاں پچھلی کابینہ تجربہ کار افراد پر مشتمل تھی، اور تجربہ کاری کا پھل آپ کے سامنے ہے۔ قارئین کرام! اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ وہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ملک کی موجودہ بگڑی ہوئی صورتِ حال صرف کابینہ کے افراد کے تجربہ کار ہونے کی بنا پر ہے۔ اب سمجھ میں نہیں آتا کہ موجودہ حکو مت کے اس جواب پر ہنسا جائے یا پھر اپنا سر دیوار میں پھوڑا جائے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ تجربے کا کوئی نعم البدل نہیں ہوسکا، جبکہ ناتجربہ کاری زندگی کے معاملات کو سمجھنے اور سلجھانے میں ایسی کمی کا نام ہے جو کسی صورت دور نہیں کی جاسکتی۔ مگر عمران خان حکومت بضد ہے کہ ناتجربہ کار افراد ہی سے حکومت چلائی جائے گی، خواہ ڈالر کی قیمت بڑھتے بڑھتے نہ تھکے اور روپے کی قیمت گرتے گرتے نہ رکے۔ اس سب کی ناتجربہ کار حکومت کو پرواہ اس لیے نہیں کہ یہ ناتجربہ کار حکومتی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک سب کے سب متمول زندگی گزار رہے ہیں۔ ان سب کے بینک اکاؤنٹس ڈالروں میں ہیں۔ یوں روپے کی اس طور بگڑتی ہوئی صورتِ حال سے انہیں الٹا فائدہ پہنچ رہا ہے۔ کیا مجھے کوئی ان ناتجربہ کار چہروں میں کسی ایک ایسے چہرے سے متعارف کرائے گا جو ایک لاکھ روپے ماہوار سے کم میں اپنا گھر چلا رہا ہو؟ جس مہنگائی نے اس ملک کے بائیس کروڑ عوام کے لیے زندگی کو بوجھ بنادیا ہے وہ ان ناتجربہ کار حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کے لیے اس لیے بے معنی ہے کہ وہ عوام کے دکھ کو سمجھنے سے مکمل طور پر عاری ہیں۔ کسی بھی ملک کی اقتصادی صورتِ حال کو ماپنے کا بڑا پیمانہ اس ملک کی سٹاک مارکیٹ کا انڈیکس ہوتا ہے۔ وطن عزیز کی آبادی کے درمیانے طبقے کے افراد اپنے محدود سرمایہ کی حد میں رہتے ہوئے سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ سٹاک مارکیٹ کی مسلسل گرتی ہوئی صورتِ حال کی بنا پر ایک طرف درمیانے طبقے کے افراد کے سرمایہ میں مسلسل کمی ہوتی جارہی ہے، تو دوسری جانب روپے کی قیمت کی مسلسل گرانی ان کی عمر بھر کی بچی کچی جمع پونجی کو زیرو کردینے کے درپے ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے تو کہہ دیا کہ آئی ایم ایف کے پاس جا کر کوئی گناہ نہیں کیا مگر خود آئی ایم ایف اس دفعہ آسانی سے پکڑائی دیتا نظر نہیں آرہا ا و ر اس نے حکومت پاکستان سے تمام قرضوں کی تفصیل طلب کرلی ہے۔ بقول غالب ؂

قرضے کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں

رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

چنانچہ آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹن گلارڈ نے پیغام دیا ہے کہ پاکستان کو چین سمیت تمام قرضوں میں مکمل شفافیت لانا ہوگی۔ آئی ایم ایف کی ایم ڈی نے استدلال باندھا کہ کسی بھی ملک کو بیل آؤٹ پیکج دینے سے پہلے اس کے تمام قرضوں کے بارے میں آگاہی ضروری ہوتی ہے۔ یہ تو وہی بات ہے کہ سود پہ قرضہ دینے والے کاروباری حضرات پہلے قرض لینے والے کی مالی حیثیت کا اندازہ کرتے ہیں کہ آیا وہ قرض ہم سود کے لوٹا بھی سکے گا یا نہیں۔ سو دنوں میں ملک کی اقتصادی صورت حال کو بہتر کردینے کا وعدہ کرنے والے ملک کے وفاقی وزیر خزانہ اب حکومت کے قریباً ساٹھ یوم پورے ہونے پر عوام کو سمجھا رہے ہیں کہ پاکستان اس وقت اپنے انتہائی مشکل وقت سے گزر رہا ہے۔ یاد دلادوں کہ اس سے قبل پاکستان آئی ایم ایف سے درجن سے زائد مالی تعاون کے پیکجز لے چکا ہے۔ اس کا چھ ارب چالیس کروڑ روپے کا آخری پیکج اگست 2016ء میں پورا ہوا تھا۔ آئی ایم ایف اپنی یکطرفہ شرائط پر پاکستان کو قرضہ فراہم کرتا رہا ہے، اس دفعہ بھی ایسا ہی ہوگا۔ آئی ایم ایف کی شرائط کو ماننے کا سیدھا سیدھا مطلب ہوگا مہنگائی میں مزید اضافہ۔ اسد عمر کی ناتجربہ کاری کا یہ عالم ہے کہ انہیں ملک کی درآمدات اور برآمدات میں توازن تک کا بھی ادراک نہیں۔ اس وقت ہماری درآمدات اور برآمدات میں عدم توازن کی حا لت یہ ہے کہ اس عدم توازن کے باعث زرِ مبادلہ کی شکل میں کئی بڑے بڑے قرضوں کی واپسی کے لیے کم از کم دس ارب سے زیادہ تو اگلے چند ماہ میں عالمی مارکیٹ سے ہر صورت میں لینا پڑیں گے۔ نظر میں رہنا چاہیے کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کا تجارتی خسارہ گیارہ کھرب روپے ہوچکا ہے۔

اور یہ اب ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معاشی صورت حال انتہائی خستگی کا شکار ہے اور مالی پالیسی سخت کرنے سے اخراجات کے ساتھ ترقی میں کمی کا امکان ہے۔ تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے حکومت کو چاہیے کہ چھوٹے چھوٹے عرصوں پہ محیط وعدے کرنے کی بجائے طویل المدت پالیسیاں بنائے۔ تاہم اب جبکہ حالات کی سختی سے نکلنے کے لیے طویل المدت پالیسیاں بنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں، عوام اس کے لیے ذہنی طور پر اس لیے تیار نہیں کہ ان سے جو سو دن کے اندر اندر حالات ٹھیک کردینے کا وعدہ کیا گیا تھا اس کے تحت وہ ڈالر کو سو روپے سے نیچے آتا دیکھ رہے تھے۔ آمد و رفت کے کرایوں میں واضح کمی دیکھ رہے تھے اور پٹرول کو ساٹھ روپے پر دیکھ رہے تھے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب دیکھنے میں عوام کا اپنا قصور تھا؟ نہیں حضور ایسا نہیں ہے۔ عوام معاشی فارمولوں پہ دماغ کھپانے کی بجائے اس طرح کے وعدوں پر یقین کرنے ہی میں عافیت سمجھنے لگتے ہیں۔ مگر یہاں تو کچھ ایسا ہوا ہے کہ نہ صرف ان وعدوں کو پورا نہ کرنے پہ کوئی خفت کا اظہار نہیں کیا گیا بلکہ یہ کہا جارہا ہے کہ ہم نے آئی ایم ایف کے پاس جا کر کوئی گناہ نہیں کردیا۔ ان حالات میں عوام کیا حکومت کے مزید وعدوں پہ یقین کرلیں گے؟ اس سوال کا جواب دینے کی بجائے میں وزیر اعظم عمران خان کے عوام کے لیے پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے وعدے پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کے ااس ریمارکس پر کالم کا اختتام کرتا ہوں جس میں انہوں نے فرمایا کہ پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کوئی خالہ جی کا گھر نہیں۔ یہ صرف اعلان سے نہیں بن جائیں گے۔ پہلے کچی آبادیوں کے لیے کچھ کرنا ہوگا۔ وزیر اعظم عمران خود کچی آبادیوں کا دورہ کریں اور یہ بھی دیکھیں کہ ڈالر کا ریٹ کہاں پہنچ گیا ہے۔

عوا م کو طفل تسلی دینے والے شا ئد یہ کہیں کہ عمر ا ن خا ن جو کر رہا ہے، نیک نیتی کے جذ بے کے تحت کر رہا ہے۔ مگر نیک نیتی کو ئی اور شے ہے، اور زمینی حقا ئق کچھ اور شے ہیں۔ ز مینی حقا ئق بہت تلخ ہو تے ہیں اور و ہ کسی نیک نیتی کے پا بند نہیں ہو تے۔


ای پیپر