معاشی مریض
14 اکتوبر 2018 2018-10-14

کیا ایسا ممکن ہے کہ مریض اپنے لواحقین کے ہمراہ ایک ڈاکٹر کے پاس جائے مکمل طور پر ڈاکٹر کو اپنے مرض سے متعلق آگاہ کرے کہ میرے جسم میں فلانے فلانے مقام پر مرض لاحق ہے براہ مہربانی صحیح تشخیص کرکے دوا کا درمان کردیں۔ عام طور پر ڈاکٹر سطحی طور پر چیک اَپ کرتا ہے پھر اگر مرض میںپیچیدگی پائے تو کچھ لیب ٹیسٹ تجویز کیے جاتے ہیں پھر بھی معاملہ کلیئرنہ ہوپائے تو ایکسرے، MRI، -CT SCAN اور نہ جانے کیا کیا طریقے ہیں جس کے بعد باقاعدہ علاج کا آغاز کیا جاتا ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی مریض ہو جوالٹا ڈاکٹر کو 'تجویز' دینے کی اہلیت رکھتا ہو کہ محترم ڈاکٹر صاحب مجھے یہ نہیں دوسرا مرض لاحق ہے۔ آپ کی بتائی گئی دوا درست نہیں ہے مجھے فلانے فلانے ٹیسٹ کی ضرورت ہے۔ نہیں یقیناً ایسا ممکن نہیں ہے۔

یہی حال ڈاکٹر کی شکل میں IMF اور مریض کی شکل میں پاکستان کا ہے۔ ملکی تاریخ میں ڈالر کی قدر میں ہوش ربا اضافہ ہوا اور پھر کیا تھا ڈالر137 کاہوگیا، سونا 1700 روپے فی تولا مہنگا ہوکے تپنے لگا۔ راتوں رات قرضوںمیں 900 ارب کا اضافہ ہلکان کرنے کے لیے کافی ہے، مہنگائی کی شرح 10 فیصدبڑھنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے، خزانے میں صرف ڈیڑھ ماہ کے ذخائر باقی رہ گئے، حکومتی امور کے لیے 28 ارب ڈالر درکار ہیں اور قرض واپسی کے لیے8 ارب ڈالر چاہیئں۔ یہ سب وہ شہ سرخیاں ہیں جو مریض (پاکستان) نے ڈاکٹر(IMF) سے ابھی صرف ملنے کا قصد کیا ہے۔

وفاقی حکومت نے اپنے مرض یعنی اقتصادی و مالی بحران سے نکلنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اوراگلے ہفتے میں ڈاکٹر اپنے ہفتہ وار راو¿نڈ کے لیے مریض کو چیک کرنے کے لیے آنے کا وعدہ بھی کرچکا ہے۔الیکشن مہم میں لاکھ دعوے کرنے کے بعد بالاخر وزیراعظم کو ہارماننا پڑی اور عالمی مالیاتی فنڈ سے فوری مذاکرات کی منظوری بھی دے دی۔ یعنی حکومت نے ملک کی موجودہ اقتصادی اور مالی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اقتصادی ماہرین کی مشاورت کے بعد آئی ایم ایف پروگرام میں جانے کا فیصلہ کیا۔

وزیر خزانہ انڈونیشیا کے جزیرہ یعنی مریض کے لیے پر فضا مقام بالی میںIMF اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاس میں شرکت بھی فرما چکے ہیں۔ جہاںIMF کے ساتھ سائیڈ لائن میٹنگز بھی ہوچکی ہیں جس میں پاکستان کے لیے 7اشاریہ 1 ارب ڈالر کے بیل آو¿ٹ پلان ڈیمانڈ کیا گیا۔ شاید اس مریض (پاکستان) کو یہ اجازت ہو کہ جناب ڈاکٹر صاحب (IMF) مجھے ادھر نہیں دوسری جگہ پر علاج کی ضرورت ہے لیکن ڈاکٹر اپنی مرضی سے ہی علاج تفویض کرے گا۔یوں کہیے کہ کچھ برسوں کے لیے ملکی معیشت وزیراعظم عمران خان یا وزیرخزانہ اسد عمر کے ہاتھوں سے نکل گئی ہے۔پاکستان کا معاشی بحران کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ حکومت کے پاس کھربوں کا بیرونی قرضہ اتارنے کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ حالانکہ سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات سے دیگر انوسٹمنٹ پلانز پر بات چیت چل رہی ہے لیکن اس بیل کو منڈیر چڑھتے ابھی وقت لگے گا۔ ایسے میں IMF کے پاس جانے کے سِوا کوئی راستہ نہیں تھا۔میرے خیال میں حکومت نے یہ راستہ اختیار کرکے دانشمندی کا مظاہرہ کیا۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ IMF سے جو قرضہ ملے گا اس کے ساتھ بہت کڑی شرائط جڑی ہونگی مثلاً ٹیکس نیٹ بڑھانے، گردشی قرضہ کم کرنے، گیس اوربجلی کی قیمتوں میں اضافہ، سرکاری اداروں کے خسارے میں کمی کے لیے نجکاری پروگرام پر عملدرآمد، روپے کی قدر کم کرنے، شرح سود میں اضافہ، سبسڈیز ختم کرنے جیسی گولیاں اور کیپسول ہمیں نگلنے پڑیں گے۔ویسے بھی دنیا میں بڑھتی ہوئی شرح سود کی وجہ سے پاکستان کو بہت زیادہ بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ آئندہ دو برس میں کرنٹ اکاو¿نٹ اور تجارتی خسارہ اور بڑھے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے دنیا میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بننے والی پالیسیز مرتب کی جائیں۔ اس قرضے کوبہترین استعمال میں لایا جائے۔ معاشی سرگرمیوں کے لیے حالات سازگار بنائے جائیں۔ سیاسی کشیدگی پر قابو پایا جائے اور کوشش کی جائے کہ IMF کی کڑی شرائط کے عام آدمی پر مہنگائی سمیت کم سے کم اثرات مرتب ہوں جو کہ فی الحال مشکل نظر آرہا ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔

وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے سے قبل عمران خان یہ دعویٰ کرچکے تھے کہ میں جب بھی وزیراعظم بنا تو ہمیشہ اپنی عوام کے سامنے سچ بیان کروں گاپھر یہ وزیروں کی فوج ظفرِ موج مایوس زدہ نِت نئے بیانات دے کر 71 سال کی پیاسی عوام کی گردن پر الٹی چھری کیوں چلائی جارہی ہے؟عمران خان صاحب کو ہر معاشی معاملے میں خود سامنے آکر عوام کو اعتماد میںلینا ہوگا۔ کوئی شک نہیں عوام نے جو ووٹ کے ذریعے آپ کی حکومت کو مینڈیٹ دیا ہے وہ ٹماٹر پیاز اور دھنیے کی قیمتوں میں کمی کے لیے نہیں بلکہ کرپشن کے ذریعے لوٹے ہوئے مال کو بازیاب کرانے کے لیے دیا ہے۔ لیکن خان صاحب کی ٹیم بے تکے بیانات کے ذریعے ملک میں افراتفری کا سبب بن رہی ہے۔اگر حکومت کے چوٹی کے لوگ یہ کہنا شروع کردیں خزانہ خالی پڑا ہے، ہر وقت بحران بحران کا راگ الاپا جائے گا تو پھر ہر طرف افراتفری ہی تو پھیلے گی۔ سٹاک مارکیٹ کا کریش کاروباری طبقہ کی پریشانی کی وجہ سے ہی ہوا۔

ڈالر کی قیمت جو تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہے انہی بیانات کی مرہونِ منت ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک ایسے ہیں جو معاشی بحران کا شکارتھے لیکن دو تین برسوں میں ہی بحران سے نکل گئے کیونکہ انکے حکمرانوں نے اپنی پالیسیوں کے ذریعے ذمہ داری اور سمجھداری سے کام لیا۔ عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد حاصل کیے رکھا، ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کااعتماد متزلزل نہیں ہونے دیا اور چند برسوں میں ہی معاشی بحران سے نکل گئے۔ رہی بات چھ ماہ کے انتظار کی تو ہم تو قسمت بدلنے کا انتظار 71 سال سے کررہے ہیں۔ جیسے تیسے یہ چھ ماہ بھی گزر جائیں گے۔اگر بیانات سے زیادہ کام پر توجہ دی جائے تو پاکستان کے معاشی مرض کو شِفا مل جائے گی۔


ای پیپر