وہ بات کیوں کہتے ہو جوکرتے نہیں؟
14 اکتوبر 2018 2018-10-14

مجھے دوسرے مسلمان ملکوں کے عوام کا تو نہیں پتہ، مگر میں بائیس کروڑ مسلمانوں کے ملک کا المیہ یہ سمجھتا ہوں کہ ہمیں کتابیں پڑھنے کا شوق ہی نہیں ہے، اور اس کی ساری ذمہ داری مشرف پہ ہے، کہ جس نے اپنے بیٹے کے بزنس کی خاطر بچے بچے کے ہاتھوں میں موبائل پکڑادیئے جبکہ دانشور کہتے ہیں کہ اکثر ہم نے دیکھا ہے، کہ کتابوں کے مطالعے نے قوموں اور ملکوں کے مستقبل سنوار دیئے ہیں۔ آکسفورڈ، اور ہاروڈیونیورسٹی کے پڑھے لکھوں کو کوئی سرخاب کے پر نہیں لگے ہوتے ان کی قابلیت، عقلمندی اور معاملہ فہمی کاراز صرف یہی ہے، کہ ان کو ایک ایک دن میں پڑھنے کے لیے کئی کئی کتابیں دی جاتی ہیں، اور پھر ان کا ٹیسٹ لیا جاتا ہے مگر ان کے پڑھنے کا انداز ہماری طرح ایک ایک سطر اور دائیں سے بائیں پڑھنے کا نہیں ہوتا، ان کااوپر سے نیچے کی طرف بظاہر انداز طائرانہ ہوتا ہے، مگر وہ اس کا مفہوم اور نقطہ نظر پورا سمجھ لیتے ہیں، اکثر یونیورسٹیز کے ممتحن بھی، اور اخبارات کے ایڈیٹر اور سب ایڈیٹرز بھی اسی طرح سے اور اسی طریقے سے نمبر لگاتے ہیں۔ ہمارے ملک کا ایک اور المیہ بھی ہے کہ ہمارے پروفیسر صاحبان ، جو پیپرز چیک کرتے ہیں، ان کی اپنی اہلیت وصلاحیت اتنی نہیں کہ جتنی آج کل کے بعض ذہین طلبا کی ہوتی ہے۔ اس حوالے سے میراایک نہایت تلخ تجربہ ہے، میری بیٹی کے انگلش کے پرچے میں نمبر کم آئے۔ حالانکہ اس کے خیال کے مطابق اور گھروالوں کا یہ خیال تھا کہ بیٹی کی انگلش بہت اچھی ہے، بہرحال بڑے بحث مباحثے کے بعد یہ طے ہوا کہ پیپر نکلوایا جائے، میں بیٹی کو لے کر پنجاب یونیورسٹی پہنچا، اور مطلوبہ رقم ادا کرنے کے بعد کنٹرولر ایگزامینیشن کے کمرے میں پہنچے، اور ان سے گفتگو شروع ہوئی، تو بغیر مجھے دیکھے، انہوں نے مجھے پہچان لیا، اور منہ اوپر اٹھائے بغیر کہا کہ میں آپ کے بولنے سے آپ کو پہچان گیا ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ مجھ سے جونیئر تھے، اور دوسرے میں یہ سمجھا کہ میں خبریں سن رہا ہوں، ان دنوں میں پی ٹی وی اور ریڈیو سے خبریں پڑھا کرتا تھا، بہرکیف چائے منگوانے کے ساتھ انہوں نے پرچہ بھی منگوا لیا، اور بڑے سلیقے اورطریقے سے باتوں باتوں میں بڑے مہذبانہ انداز میں بیٹی کی کلاس لینی شروع کردی، اور کہا کہ صبح سے شام تک ہمارا یہی معمول ہے، اورہرکوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، بیٹی ہمیں کسی کے نمبرز کاٹنے سے کیا دل چسپی ہوسکتی ہے، اور دوسرے یہ کہ ممتحن کیا طلبا سے کم پڑھے لکھے ہوتے ہیں ؟
بہرکیف جب پرچہ سامنے آیا، تو آٹھ جگہ پر لال پنسل سے بڑے سے کراس لگے ہوئے تھے، اور آٹھ نمبرز کاٹے ہوئے تھے، بچی نے جب وہ ایک ایک کرکے دیکھے تو وہ کہنے لگی کہ میرے نمبر غلط کاٹے گئے ہیں یہ آٹھ نمبر لینا، میرا حق ہے، بحث لمبی ہوئی، بیٹی کے اصرار پر ڈکشنری منگوائی گئی، تو بیٹی کی بات بالکل صحیح نکلی.... اور بیٹی نے کہا کہ انکل مجھے بڑا دکھ ہوا کہ جس سے پرچے چیک کرائے گئے، ان کی قابلیت ہی اتنی نہیں تھی اور جب مزید پتہ کیا تو پتہ چلا کہ کسی دور دراز گاﺅں کے استاد سے پرچہ چیک کرایا گیا تھا، بہرحال نہایت ہی افسوس کا مقام ہے، بلکہ ظلم کی انتہا ہے کہ چیف کنٹرولر نے بتایا کہ یہ نمبر ہم درست نہیں کرسکتے۔ اس کے لیے آپ کو ہائی کورٹ رٹ کرنی پڑے گی، اور اس کے بعد بھی بڑا لمبا ”پروسیجر“ بتادیا، اس پر بیٹی بولی، ابو دفع کریں، اب میری قسمت ۔میں نہیں چاہتی کہ آپ میری خاطر عدالتوں میں جائیں، بہرحال یہ ایک الگ داستان ہے، مگراس کے باوجود ماشاءاللہ بیٹی نے گولڈ میڈل لے لیا تھا۔ میری اس داستان کا مقصد یہ ہے کہ تحریک انصاف کا ایک نعرہ تھا کہ یکساں نظام تعلیم، اور ایک ہی جیسا امیروں اور غریبوں کا نصاب اس کی شروعات تو کرلی جائیں مگر آج میں بات کررہا تھا، کہ ہم نے اپنے بچوں کو کتابیں پڑھنے کی ترغیب دینی چھوڑ دی ہے، ہمیں اپنے اسلاف کے کارناموں کا نہیں پتہ دنیا کے مستند دانشور برنارڈ شا کہتے ہیں کہ جو شخص اچھی کتابیں پڑھنے کا شوق نہیں رکھتا، وہ معراج انسانی سے گرا ہوا ہے، یہ تو ایک غیرمسلم کا قول ہے کہ جوکتاب کو معراج انسان سے منسوب کردیتا ہے، ہمارے تو اللہ نے پہلا درس عبد کو یہ دیا ہے اور سورة القلم میں قلم کی قسم کھاکر کہا ہے اور کتاب کا ذکر کیا ہے کتاب سے مراد قرآن کریم ہی ہوسکتا ہے یہی قلم جب ہم جیسوں یعنی لکھنے والوں کے ہاتھ آجاتا ہے، تو وہ خدا کو گواہ بنا کر قرطاس کا استعمال کریں، قارئین کرام جہاں تک میرا خیال ہے، ہماری تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ دومنصب ایسے ہیں کہ ایک سچا مومن ، موت کو گلے لگا لیتا ہے، مگرحکمرانوں کے اصرار کے باوجود ظلم وستم ، قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرتے کرتے مرتو جاتاہے مگر ملک کا چیف جسٹس یعنی قاضی القضاہ بننے پہ آمادہ نہیں ہوتا۔ اور وہ شخص کوئی معمولی آدمی نہیں بلکہ امام وقت تھا۔ جن کے کروڑوں پیروکار اس بات کے گواہ ہیں اور دوسرا منصب ہے مسلمانوں کا امیر بننا، یعنی حاکم بننا، کیونکہ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ دوبھوکے بھیڑیے اگر بکری کے گلے میں چھوڑے جائیں، تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے، جتنی تباہی انسان کے دین کو مال اور بڑائی کی محبت کرتی ہے حتیٰ کہ عام آدمی کی تو بات درکنار، آج کل کے علماءاپنے آپ کو اس کے لیے پیش کردیتے ہیں۔
البتہ اللہ کسی کو بڑائی دیتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ اس سے دین کاکام لے، اور دین کے مطابق چلے، اسلام کی خدمت کرنا اللہ کا بہت بڑا انعام ہے، جیسے حضرت موسیٰؑ کو وجاہت والا بنایا، جیسے حضرت عیسیٰؑ کو دین اور آخرت میں وجاہت والا بنایا، حتیٰ کہ بعض انبیائؑ کو سلطنت عطا فرمائی جیسے حضرت داﺅدؑ اور حضرت سلیمانؑ اور حضرت یوسفؑ ، سلطنت کے حصول کی کوشش اسلامی احیا کے نقطہ نظر سے جائز ہونے کے باوجود خطرے سے خالی نہیں، کیونکہ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول پاکﷺ نے فرمایا کہ جو شخص دس آدمیوں پر بھی اگر حکومت کرے گا یعنی کفالت کرے گا اگر اس کا کاروبار ہے اور اس کے دس ملازم ہوں، تو قیامت کے دن ایسی حالت میں حاضر ہوگا کہ اس کی مشکیں کسی ہوں گی اگر تو دنیا میں اس نے انصاف کیا ہوگا تو وہ انصاف اس کی مشکیں کھلوا دے گا، اور اگر بے انصافی کی ہوگی تو وہ اس کی مشکیں کسنے کے علاوہ مزید ہلاکت میں ڈال دے گی ، موت ہرشخص کو آنی ہے، خواہ حاکم ہو خواہ محکوم ، چاہے عوام ہوں، چاہے خواص روزمحشر ہرایک کا حساب ہونا ہے، اس وقت روز محشر خوف خدا نے حضرت عمرؓ ، حضرت صدیقؓ ، حضرت علیؓ، حضرت عثمانؓ سے لے کر تمام بزرگان کی بھی نیندیں اکارت کی ہیں، حتیٰ کہ حضور فرماتے تھے کہ قیامت کے دن اللہ کو کیا جواب دوں گا۔ ہمارا مسئلہ تو ذاتی جواب دہی کا ہے، لیکن ذرا سوچئے کہ جس شخص نے بائیس کروڑانسانوں کی جانب سے بھی جواب دینا ہوگا، تو اسے کتنا وقت درکار ہوگا، وہ حساب کتاب قائداعظمؒ سے لے کر عمران خان اور صدرعارف علوی سبھی کو دینا ہوگا۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ حضرت عمرؓ خواب میںکسی ہم عصر دوست سے ملے اور فرمایا کہ میں حساب دے کر ابھی فارغ ہوا ہوں جن کے بارے میں عمران خان اکثر حوالہ دیتے رہے کہ اگر فرات کے کنارے کتا بھی بھوک سے مر جائے گا تو مجھے اللہ تعالیٰ کو جواب دینا پڑے گا۔ سوئی گیس بجلی ، اور ہرچیز کی قیمتیں بڑھنے سے پچھلی حکومتوں میں غریبوں نے تین وقت کے بجائے دووقت پہ کھانا شروع کردیا تھا، اب وہ کتنے وقت کھائیں گے، عمران خان بھی آکسفورڈ کے پڑھے ہوئے ہیں، بیس سال سے وہ کہہ رہے تھے پاکستان کا بچہ بچہ مقروض ہے ان کو یہ بھی معلوم تھا کہ کتنا قرض ہے، تو پھر انہوں نے ہوم ورک کیوں نہیں کیا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ میں کسی قیمت پہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاﺅں گا۔ ایسی صورت میں میں خودکشی کرلوں گا، تو کیا پاکستان نے اب خودکشی کرلی ہے ؟ اس لیے اسلام یہ کہتا ہے، کہ تم وہ بات کیوں کہتے ہو ، جو خود کرتے نہےں؟ اقتدار سنبھالنے کے بعد اگر کوئی پاکستانی غربت کی وجہ سے خودکشی کرے گا یا فٹ پاتھ پہ مر جائے گا تو اللہ آپ سے حساب لے گا، کیا آپ کا ظرف، اتنا بلند ہے، کہ آپ اللہ جبار وقہار کے سامنے، فواد چودھری بابر اعوان ، اسدعمر، فیاض چوہان وغیرہ کے بغیر اپنی وکالت ، آپ کرسکیں گے؟ جناب چیف جسٹس ثاقب نثار کی فرمائش پہ یا تو آپ فلم ”ہچکی“ کے ہیروبن جائیں یا پھر مملکت ، کو” معشوقہ“کا درجہ دے دیں، میرے خیال میں آپ مملکت کے میاں بننا پسند کریں گے، کیونکہ ایسا کرنے سے فاعل اور مفعول کی بحث میں پانچ سال گزر جائیں گے۔


ای پیپر