کرونا اور سموگ… جائیں تو جائیں کہاں
14 نومبر 2020 (11:30) 2020-11-14

کرونا کی دوسری لہراورسموگ کی شدت میں ایک ساتھ اضافہ ہورہا ہے ساتھ ہی ساتھ ڈینگی، ملیریا اور ٹائیفائیڈ نے بھی مستقل ڈیرے ڈال لیے ہیں۔ گھر، سکول، سڑک، بازار، دکانیں کوئی جگہ محفوظ نہیں، بچہ ہو یا بوڑھا کوئی بھی گلے کی خراش،کھانسی، زکام اور بخار سے محفوظ نہیں رہا۔ 

ایسا لگتا ہے ہماری بداعمالیوں اور ناشکری کے نتیجے میں اللہ کی مفت میں دی گئی سانس کی نعمت بھی ہم سے چھنتی جا رہی ہے، ایک سانس ہی تو تھا جو ہم مفت لیتے تھے مگر اب ہمیں اس معاشرے میں تحفظ، سکون، خوش حالی کے بعد اب تازہ اور خالص سانس کی دستیابی بھی ممکن نہیں رہی۔ پتہ نہیں ہمارے کن گناہوں کی سزا ہے ۔ ناجانے اللہ ہم سے کتنا ناراض ہے کہ اس کی زمین پر کھل کر تازہ ہوا میں سانس بھی نہیں لے سکتے۔

ویسے کرونا اور سموگ بھی بہن بھائی لگتے ہیں کیونکہ دونوں کے اثرات کافی حد تک ملتے جلتے ہیں۔ دونوں کا حملہ ایک جیسا ہے اوردونوں  سے بچائو صرف ماسک پہن کر ہی ممکن ہے۔ دونوں ہمارے سانس کے دشمن ہیں اور پھیپھڑوں کو ناکارہ بنا دیتے ہیں۔

 یہاں پر علامہ اقبال کا ایک شعر یاد آگیا۔ 

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نِگہبانی

یا بندہ صحرائی یا مردِ کُہستانی

عقل دنگ رہ گئی یہ سوچ کر کہ واقعی بندہ صحرائی اور مرد کوہستان ہی قدرت کے محافظ ہیں کیونکہ صحرا اور پہاڑ دونوں زندگی کی کٹھن امتحان گاہیں جہاں قدم قدم پرحادثات،مشکلات، ناگہانی آفات منہ کھولے کھڑی ہیں۔ یہ پہاڑی اور صحرائی لوگ غیرمعمولی جسمانی صحت، مسلسل محنت اور ان تھک حوصلے کی بدولت آج بھی فطرت کے قریب ہیں اس کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتے اسی لئے ان کو تازہ سانس، خالص غذا اور فضا میسر ہے۔ یہ محنتی اور جفا کش لوگ فطرت کی 

حفاظت کے لیے صدیوں سے کوشاں ہیں۔ 

مگر ہمارے جیسے شہری جنہیں اپنے ماڈرن ہونے، بڑی بڑی عمارتوں، گاڑیوں اور ٹیکنالوجی پر بڑا غرور تھا آج وقت نے ثابت کیا کہ فطرت کے قریب رہنے میں ہی بھلائی تھی انسانیت کی۔ جوں جوں ہم مصنوعی پن کے قریب ہوئے ہماری زندگی، رہن سہن، خوراک، رشتے سب مصنوعی ہو گئے۔ ہماری نسل نوعیش پرست ہوگئی جو دو قدم بھی نہیں چل سکتی۔ باقی کام انٹرنیٹ، برائیلراور سوڈا ڈرنک نے تمام کردیا ہے۔ ہم تو وہ بدقسمت ہیں جو سورج سے مفت ملنے والے وٹامن ڈی کو بھی گولیوں کی شکل میں کھاتے ہیں۔ 

 تعلیم کی بات کروں تو یہاں بھی اندیشوں اور وسوسوں کے سائے ہیں۔

تعلیمی سلسلہ 7 ماہ معطل رہنے کے بعد ابھی ایک ماہ پہلے ہی شروع ہوا ہے اور پھر تعلیمی دارے بند کرنے کا عندیہ دیا جارہا ہے۔

سال بھر بچے کھیل میں حصہ لے سکے نہ پارکس میں جا سکے ذہنی کے ساتھ جسمانی نشوونما بھی متاثر ہوئی ہے بچوں کی تخلیقی صلاحیتیں بہت کم ہوتی جا رہی ہیں۔  والدین نے بچوں کو سکول تو بھیج دیا ہے مگر کوئی ایسا بچہ نہیں جس کو فلو زکام گلے میں خراش کا مسئلہ درپیش نہ ہو۔ ایسے میں کیا بچوں کا سکول جانا ٹھیک ہے اورکیا سکولز میں ایس اوپیز پر عمل ہورہا ہے اس سلسلے میں ہم نے لاہور کے ایک نامور سکول کی پرنسپل مس عافیہ تنویر سے بات چیت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں ایس او پیز پر بہت ہی کامیابی سے عمل ہورہا ہے کیونکہ اساتذہ ہمارے معاشرے کا باشعور طبقہ ہے اور بچے بھی اساتذہ کی بات پر من وعن عمل کرتے ہیں۔ بچے سکول میں ماسک پہنتے ہیں سماجی فاصلے کو یقینی بناتے ہیں بار بارہاتھ دھوتے ہیں۔ سینی ٹائزرز کا استعمال کرتے ہیں۔ سکول میں اس بات کا دھیان رکھا جاتا ہے کہ اگر کوئی بچہ بخار میں مبتلا ہے تو اسے باقی بچوں سے الگ کردیا جاتا ہے اور ایک ہفتہ کے لیے اسے گھر پر رہنے کی تجویز دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سکول کی طرف سے کرونا بارے آگاہی کی مختلف مہم بھی چلائی جاتی ہیں اور بچوں کو ایک نیا پیغام دے کر بھیجا جاتا ہے۔ والدین کو بھی کرونا الرٹ کے پیغامات کی ترسیل کی جاتی ہے۔ ایک سوال پر کہ کیا کرونا سے بچوں کا کوئی تعلیمی حرج ہوا ان کاکہنا تھا کہ بلاشبہ بچوں کی  تعلیم، لکھائی، یادداشت، تخلیقی صلاحیتیں، ہم نصابی سرگرمیاں، سماجی میل جول سب کچھ متاثر ہوا ہے اور یہ چیزیں ان کی شخصیت سازی کے لیے لازمی تھیں۔ خاص طور پر میل جول کا کلچر جو ان کے ادارے کا خاصہ تھا۔ بہت سے ایونٹس کینسل ہوگئے اور ابھی فی الوقت تعلیم برائے تعلیم کا عمل جاری ہے۔  

مس عافیہ کا کہنا تھا کہ ہفتے میں تین دن آن لائن اور تین دن فزیکل کلاسز ہوتی ہیں جن کے لیے بہت اچھی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ لیکن بعض اوقات والدین کے پاس اتنے ذرائع نہیں ہوتے یا انٹرنیٹ کی سہولت نہیں ہوتی جس کی وجہ سے ہماری منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ تمام کلاسز کا تیس فیصد نصاب کم کردیا گیا ہے تاکہ بچوں کو زیادہ بوجھ محسوس نہ ہو لیکن یہ بہت سمارٹلی کم گیا گیا ہے جس میں کوشش کی گئی ہے کہ ان کو تمام کانسیپٹ پڑھائے جائیں تاکہ کوئی پہلو تشنہ نہ رہے۔  مس عافیہ نے کرونا اور سموگ کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں حکومت کا جو بھی لائحہ عمل ہوگا ہم اس کے ساتھ ہیں اور ہر چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں کیونکہ ہمارے لیے اس وقت بچوں اور اساتذہ  کی صحت سے قیمتی کوئی چیز نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا ادارے نے ہر قسم کی صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے مکمل منصوبہ بندی کر رکھی ہے تاکہ بچے ایک محفوظ انداز میں تعلیمی عمل جاری رکھ سکیں۔ 

اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ کرونا اور سموگ کب ہماری جان چھوڑتے ہیں۔ آئیں ہم سب اللہ سے 


ای پیپر