نوٹ کو عزت دو!
14 نومبر 2020 2020-11-14

مزار قائدؒ پر کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کی جارحانہ نعرہ بازی کی مذمت اپنے ایک گزشتہ کالم میں میں کر چکا ہوں‘ ایسے مقدس مقامات کو اپنی ”مفاداتی سیاست“ سے پاک ہی رکھنا چاہئیے‘ کیپٹن صفدر مزار قائد پر نعرے ایسے بلند کر رہے تھے جیسے قائداعظمؒ سے ”ووٹ کو عزت دو“ کا وہ مطالبہ کر رہے ہوں۔ اصولی طور پر یہ مطالبہ انہیں جنرل ضیاءالحق کی قبر پر جا کر کرنا چاہئیے جن کی زندگی کا بنیادی مقصد ہی ووٹ کو عزت نہ دینا تھا ان کے اس مقصد سے شریف خاندان نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور بھی جو جو کچھ اٹھایا اس کی تفصیل میں بیان نہیں کر سکتا‘ ان کے اصل ”قائد اعظم“ تو جنرل ضیاءالحق ہیں وہ اگر غیرآئینی طور پر اقتدار پر قابض نہ ہوتے شریف خاندان کی ناپاک سیاست سے یہ ملک شاید پاک ہی رہتا.... شریف خاندان جب سے اقتدار سے باہر ہوا ہے ان کے خلاف کچھ لکھنے سے میں گریز ہی کرتا ہوں۔ میرے نزدیک یہ بھی ”غیبت“ ہی کی ایک قسم ہے۔ ویسے بھی جو قدرت کے انتقام یا آزمائش کی زد میں ہوں ان کے بارے میں تھوڑی بہت شرم و حیا والا کوئی شخص کیا لکھے اور کتنا لکھے؟ پر کبھی کبھی کچھ معاملات میں ان کی انتہا پسندی اس قدر بڑھ جاتی ہے مجبوراً کچھ نہ کچھ لکھنا پڑ جاتا ہے جیسے حال ہی میں کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے معاملے میں آئی جی سندھ سے کی جانے والی بدسلوکی کے حوالے سے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کو انہوں نے مکمل طور پر مسترد کر دیا‘ پتہ نہیں کیوں کبھی کبھی مجھے یوں محسوس ہوتا ہے وقتاً فوقتاً بیانیہ بدل نواز شریف اپنے جس بیانیے پر فی الحال قائم ہیں اس کے نتیجے میں وہ یہ چاہتے ہیں اپنے بڑھاپے اور سزاﺅں کی صورت میں وہ اب اقتدار میں نہیںآ سکتے تو ان کے خاندان کا کوئی اور فرد بھی اقتدار میں نہ آئے‘ جتنے وہ اقتدار پرست ہیں وہ کہیں یہ ”وصیت“ بھی نہ کر دیں‘ میرے بعد میرے خاندان کا کوئی فرد اقتدار میں نہیں آئے گا.... شریف برادران نے اپنے اقتدار میں کچھ اچھے کام بھی کئے‘ پاکستان کی وہ بڑی بڑی شاہراہیں‘ پل و دیگر شعبوں کی جن سہولیات سے ہم استفادہ کرتے ہیں وہ یقیناً اپنے پلے یا جیب وغیرہ سے انہوں نے نہیں بنائیں‘ نہ اپنی جیب سے کوئی بنا سکتا ہے‘ پر اب جو حالات ہیں ہم یہ توقع بھی نہیں کر سکتے ”منہ کھلے مین ہولوں“ پر ڈھکنے ہی کوئی رکھوا دے گا‘ اس عالم میں شریف برادران کے کچھ کارنامے ظاہر ہے ہمیں یاد آتے ہیں یہ الگ بات ہے ایک تاثر ان کے بارے میں یہ بھی ہے جو بڑی بڑی شاہراہیں یا پل وغیرہ انہوں نے بنائے ان میں بہت کمائی انہوں نے کی‘ اس حوالے سے کچھ دلچسپ واقعات بھی ہم نے سنے ہیں‘ کہتے ہیں ایک بار نوازشریف جب وزیراعظم تھے اپنے وزیراطلاعات شیخ رشید کے ساتھ موٹروے پر سفر کر رہے تھے موٹروے کی خوبصورتی و کشادگی کی تعریف کرتے ہوئے نوازشریف سے انہوں نے کہا ”میاں صاحب آپ اس دور کے شیرشاہ سوری ہیں....“ میاں صاحب نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا اور پوچھا ”کون ہے یہ شیرشاہ سوری؟ یہ نام میں نے پہلے بھی سنا ہے‘ یہ ہماری مسلم لیگ میں ہے؟ شیخ رشید بولے ”میاں صاحب یہ زندہ ہوتے تو یقیناً ہماری نون لیگ میں ہی ہوتے‘ پر یہ فوت ہو چکے ہیں‘ یہ بڑی تاریخی شخصیت ہیں انہوں نے برصغیر میں سڑکوں کے جال بچھا دیئے تھے.... میاں صاحب نے بے ساختہ فرمایا: اچھا پھر تو بڑا مال کمایا ہو گا انہوں نے.... ہمارے موجودہ حکمران چونکہ اس طرح کی ”کمائیوں“ پر یقین نہیں رکھتے لہٰذا ان کے نزدیک شاہراہیں اور پل وغیرہ بنانے سے صرف الو وغیرہ بنانا ہی زیادہ مناسب ہے‘ وہ اپنی ”نیک کمائی“ صرف اپنی بدزبانیوں کو ہی سمجھتے ہیں‘ پاکستانی معاشرہ بداخلاقی کے جس بدترین مقام پر اب کھڑا ہے ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی‘ ہم نے سنا تھا جیسی قوم ہو گی ویسے حکمران اس پر مسلط کر دیئے جائیں گے‘ سو قوم عرف ”ہجوم“ اور اس جیسے حکمران اپنے اپنے حال بلکہ ”بدحالی“ یا بداخلاقی میں مست ہیں شرم و حیا والے لوگ انہیں کیا سمجھا سکتے ہیں؟.... جہاں تک شریف برادران کا تعلق ہے میں یہ عرض کرنا چاہ رہا تھا جس طرح یہ ایک حقیقت ہے انہوں نے سرکاری خزانے سے ملک بھر میں بے شمار شاہراہیں اور پل وغیرہ بنائے اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے ”لفافے“ کی سیاست و صحافت کے یہ ”بانی پاکستان“ ہیں۔ ماضی میں اپنے اقتداری و مالی مفادات کے لئے وہ کسی آئینی و اخلاقی تقاضے کو خاطر میں نہیں لائے‘ آج اگر وہ کچھ اداروں کو آئینی حدود میں رہنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ان کا یہ عمل ایک خاص تناظر میں چاہے درست ہی کیوں نہ ہو مگر انہیں چاہیئے اپنے ”تازہ بیانیئے“ کو وہ باقاعدہ عزت دینا چاہتے ہیں‘ تو ماضی میں کچھ اداروں خصوصاً ایک خاص ادارے سے وابستہ کچھ شخصیات جن کے غیرآئینی وغیراخلاقی اقدامات کی بھرمار سے کئی طرح کے فائدے وہ اٹھاتے رہے‘ پہلے ان کا کھل کر وہ اعتراف کریں، اس کی باقاعدہ معافی مانگیں پھر حلفاً یہ وعدہ کریں مستقبل میں ایک بار پھر ”ووٹ کو عزت دو“ کے بیانیے کو وہ فروخت نہیں کر دیں گے‘ مزید یہ کہ اس بیانیے کو مزید تقویت پہنچانے کے لئے وہ اپنے ”گونگلوﺅں“ سمیت پاکستان واپس آ جائیں گے.... ویسے میں اکثر سوچتا ہوں ان کے مطالبے کے مطابق کسی ادارے نے ووٹ کو واقعی عزت دینا شروع کر دی ممکن ہے یہ عزت شریف براداران کو راس نہ آ سکے کیونکہ ضروری نہیں ووٹ کو عزت دینے سے ہمیشہ یا صرف ان ہی کا خاندان اقتدار میں آئے‘ ابھی بھی وقت ہے وہ اپنے اس نعرے یا مطالبے سے تھوڑا پیچھے ہٹ کر دوبارہ ”نوٹ کو عزت دو“ کے راستے پر آ جائیں‘ اپنی مرضی کے انصاف سمیت ہر شے خریدنے کی انہیں عادت پڑی ہے یہ ان کے لئے مشکل دور ہے کیونکہ کچھ ادارے فی الحال ”نوٹ“ کو عزت نہیں دے رہے‘ شریف برادران کچھ عرصہ مزید اقتدار میں رہتے نوٹ کو مزید عزت دینے کے لئے نوٹوں پر انہوں نے اپنی تصویریں چھاپ لینی تھیں۔ چھوٹے میاں صاحب نے تو ترچھی ٹوپی پہن کر اس کی باقاعدہ پریکٹس بھی شروع کر دی تھی.... اب اگر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آئی جی سندھ کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کا نوٹس لے کر خلاف توقع آئی ایس آئی اور رینجرز کے کچھ لوگوں کو ان کے عہدے سے ہٹا کر ان کے خلاف باقاعدہ انکوائری کا حکم دے کر ہمارے کلیجوں میں تھوڑی بہت ٹھنڈ ڈال ہی دی ہے تو میاں محمد نوازشریف کو اس کا کچھ لحاظ کرنا چاہیئے تھا‘ جس روایتی فرعونی و جارحانہ انداز میں آرمی چیف کے اس اقدام کو انہوں نے مسترد کیا اس سے اس تاثر کو مزید تقویت ملی ایک خاص طرح کی انتقامی ذہنیت سے ابھی بھی وہ نجات حاصل نہیں کر سکے ۔اللہ جانے ان کی یہ انتقامی ذہنیت جنرل قمر جاوید باجوہ کو ”مدت جرنیلی“ میں توسیع دینے کے معاملے میں کہاں گم ہو گئی تھی؟ وہ کچھ بھی کر لیں جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف ان کے ہر موقف کو مسترد ہی کیا جاتا رہے گا جب تک وہ اس راز سے پردہ نہیں اٹھاتے کس مجبوری کے تحت ان کی ایکسٹینشن کی انہوں نے حمایت کی تھی؟؟؟


ای پیپر