آزادی مارچ ختم : اب کیا ہونے جارہا؟
14 نومبر 2019 2019-11-14

مولانا فضل الرحمٰن دو ہفتے تک اسلام آباد کو محاصرے میں رکھنے کے باوجود وہ کوئی مثبت نتیجہ حاصل نہ کر سکے۔ بالآخر انہیں آزادی مارچ ختم کر کے پلان بی کی طرف آنا پڑا۔ جو ملک کی شاہراہیں بلاک کرنے سے متعلق ہے۔ ان کے خالی ہاتھ لوٹنے کی وجہ یہ تھی کہ کوئی موثر حمایت حاصل نہیں تھی۔ یعنی یہ سب کچھ اسکرپٹ کیا ہوا احتجاج نہیں تھا۔ آزادی مارچ ایک ایسے نازک موڑ پر پہنچ گیا تھا کہ ان کو کوئی گوشہ عافیت نہیں مل رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بدھ کے روز مارچ ختم کرنے کا اعلان کو فیس سیونگ کا نام بھی دیا جارہا ہے۔

یہ مارچ ملکی تاریخ کا بہرحال ایک بڑا واقعہ تھا، جس کے بعض فوری اور بعض دور رس اثرات نکلنا ناگزیر ہیں۔آئندہ چند روز تک بحث کا یہی موضوع رہے گا کہ مولانا نے مجموعی طور پر ملک کی جمہوری تحریک کے لیے کیا کھویا کیا پایا؟

تجزیہ کاروں کا خیال ہے مولانا کی اسلام آباد ے خالی ہاتھ واپسی سے لگتا ہے کہ ان کے ساتھ کوئی بڑا ہاتھ ہوگیا ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ جے یو آئی ف کے اس فیصلے سے حکومت کو فائدہ پہنچا اور اپوزیشن کمزور ہوئی، یہ تاثر بنے کہ زیادہ سے زیادہ احتجاج اتنا ہو سکتا ہے کہ آپ وفاقی دارالحکومت میں دھرنا دیں، اور وہ دھرنا بھی دے کر دیکھ لیا۔ کسی نے نہیں سنی، تو اب ہر احتجاج بے اثر ہو جائے گا، یا پھر اس سے بھی بڑا یا سخت احتجاج کیا جائے گا تب مقتدرہ حلقے سنیں گے۔ لیکن ایک خیال یہ بھی ہے کہ جو بھی ہوا، خوب ہوا، کسی نے تو حکومت کو للکارا۔ یہ بارش کے چند پہلے قطرے تھے۔

بعض حقائق کو نہیں جھٹلایا جاسکتا۔ ایک پارٹی کا سب سے بڑا شو تھا۔ شرکاءکی تعداد کے اعتبار سے یہ مارچ ماضی کے مارچوں میں سب سے بڑا تھا۔ یہ مارچ ماضی کے تمام احتجاجوں سے اس لئے بھی مختلف تھا کہ یہ آخر تک پرامن رہا۔نہ کسی پولیس والے کو زخمی کیا گیا نہ کوئی شیشہ ٹوٹا، اس مارچ نے شرکاءکی تعداد کے ساتھ ساتھ منظم ہونے کو بھی ثابت کیا یعنی مارچ ایسے بھی کیا جاسکتا ہے۔

آزادی مارچ کے تین بڑے سبق ہیں۔ اول یہ کہ مولانا بین الاقوامی برادری کو نہیں سمجھا سکے کہ دراصل وہ کیا چاہتے ہیں۔ اسکو یوں بھی لیا جاسکتا ہے کہ عالمی اور خطے کی صورتحال مولانا کی قیادت میں موجودہ حکومت کے خلاف تبدیلی کے حق میں نہیں تھیں۔اس میں افغان مسئلے سے لیکر آئی ایم ایف ، امریکہ اور چین تک سب فریقین شامل ہیں۔ یہی بات وہ اپنے اتحادیوں خاص طور پر دو بڑی پارٹیوں نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کو بھی نہیں سمجھا سکے۔ دوم پندرہ سولہ ماہ کے اندر کسی منتخب حکومت کو ختم کرنا آسان کام نہیں ہوتا۔ کسی بھی حکومت کو غیر مقبول ہونے یا عوام کی مکمل بیزاری کے لئے وقت چاہئے۔ سوم یہ کہ کہ اگر اتنا جلدی تحریک انصاف کی حکومت کو ختم کیا گیا، تو مستقبل میں عمران خان ہر آنے والی حکومت کے لئے مشکل بھی پیدا کرےگا اور اس کے پاس کسی حد تک ہمدردی کا کارڈ کہ مجھے کام کرنے نہیں دیا گیا، وقت نہیں دیا گیا وغیرہ کا جواز موجود رہے گا۔ لہٰذا اس تحریک کو قبل از وقت قرادیا جارہا ہے۔ لہٰذا سیاسی جماعتوں کے نزدیک یہ تحریک قبل از وقت تھی۔

ملکی معیشت کا معاملہ خاص طور پر قابل توجہ ہے ، مقتدر حلقوں کی جانب سے مذاکرات کرنے والے چوہدری شجاعت حسین نے بھی اس کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ’ موجودہ ملکی حالات میں 6ماہ میں کوئی بھی وزیراعظم بننے کےلئے تیار نہیں ہوگا‘حکومت بے روزگاری اور مہنگائی کے خاتمے پر توجہ دے‘ عمران خان ان ہاتھوں میں نہ کھیلیں جو انہیں تباہ کردیں۔ صاحبِ اقتدار لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنی توانائی مہنگائی اور بے روزگاری ختم کرنے پر صرف کریں۔‘ غالبا چوہدری صاحب، صاحب اقتدار کو یہ پیغام دینا چاہ رہے ہیں کہ معاشی مسائل پر اٹھنے والی تحریک حکومت کے لئے خطرناک ہو سکتی ہے۔ مولانا کی تحریک میں یہ ایشو اتنا مضبوط نہیں تھا۔ وہ ایک مخصوص مکتبہ فکر یا سیاست کی تحریک تھی جس کے ساتھ عوام کے وسیع تر حلقے نہیں جڑے تھے۔

مارچ نے یہ تو ثابت کیا کہ مولانا فضل الرحمٰن پاکستانی سیاست کا ایک لازمی جز ہیں۔لیکن اس کا فوری طور پر انہیں کوئی فائدہ نہیں مل سکے گا۔ فوری طور پر نواز لیگ کو یقینا فائدہ ملا، کس حکومت کو نواز شریف کا بیرون ملک علاج کے لئے قبول کرنا پڑا۔ چونکہ مولانا دھرنا ختم کرنے جارہے تھے، لہٰذا سابق وزیراعظم کا ای سی ایل میں نام کا معاملہ لٹک گیا۔ یہ حکومتی کوشش تھی کہ وہ پنجاب کو مولانا کی تحریک سے دور رکھ سکے۔ یہی صورتحال پیپلزپارٹی کے ساتھ ہے، جس کے تین معاملات پھنسے ہوئے ہیں، یعنی سندھ حکومت، سابق صدر آصف علی زرداری کی بیماری اور قیادت کے خلاف مقدمات۔ رہبر کمیٹی کی چھتری کے باوجود جے یو آئی سمیت اپوزیشن کی تینوں جماعتوں یعنی نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کو بھی الگ الگ ہینڈل کیا ۔ ایک ساتھ مذاکرات نہیں کئے۔

جے یو آئی نے بی پلان کے تحت مواصلاتی نظام مفلوج کرنے کی دھمکی دی ہے، جس سے عام زندگی متاثر ہوسکتی ہے، سیاسی افراتفری مچ سکتی ہے۔اگر یہ صرف فیس سیونگ کے لئے نہیں، تو یہ صورتحال کوتشدد اور تصادم کی طرف لے جائے گا۔ اس کے نتائج کیا ہونگے؟ اس کے مخالفین اور اتحادی کس طرح سے ردعمل دیں گے؟ یہ بھی لمحہ¿ فکریہ ہے ۔یہ صورتحال مولانا کو سیاسی طور پر تنہا کر سکتی ہے۔ اس کا ایک اظہار ابھی سامنے آچکا ہے کہ سندھ حکومت نے کہا ہے کہ وہ صوبے میں روڈ بلاک کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ پلان بی کا پنجاب سے کوئی بڑا جواب آنے کی کم امید ہے۔ ابھی تک کی رپورٹس کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان کا پختون آبادی والے علاقے اس پلان میں جاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جس طرح جنرل ضیاءالحق کے خلاف ایم آرڈی کی تحریک کو ملک گیرجمہوری تحریک کے بجائے سندھ کی تحریک بنادیا گیا تھا، لگتا ہے کہ جے یو آئی کی تحریک کو پختونوں کی تحریک بنادیا جائے۔


ای پیپر