امر یکہ بہا در کا پر ا نا کٹّا !
14 نومبر 2019 2019-11-14

وہ جو بنجا بی میں کہتے ہیں، ’نئے کٹّے کا کھل جا نا ،‘ مگر یہا ں تو امر یکہ بہا در نے اپنا پر انا کٹّ ا پھر کھو ل دیا ہے۔تفصیل ا ِس اجما ل کی کچھ یو ں ہے کہ امریکہ کے محکمہ خارجہ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم نہیں کرسکا۔ پاکستان کی حکومت اگرچہ طالبان سے مذاکرات میں مدد کررہی ہے تاہم حکومت شدت پسند تنظیموں لشکر طیبہ اور جیش محمد کو فنڈز حاصل کرنے اور انہیں نئی بھرتیاں کرنے سے روکنے میں ناکام رہی ۔ مگر ذرا ٹھہر یئے۔ابھی چند ما ہ پہلے ہی تو وزیرِ اعظم عمرا ن خان کے دورہِ امر یکہ کے مو قع پر صد ر ٹر مپ نے اعتر ا ف کیا تھا کہ دہشت گر دی کے خلا ف جنگ میں سب سے ز یا دہ قر با نیا ں پا کستا ن نے دی ہیں۔ چنا نچہ امر یکہ بہا در کی اس حا لیہ رپورٹ پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے دفتر خارجہ نے اسے حقائق کے برعکس قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق رپورٹ میں پاکستان کی قربانیوں کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ہماری کوششوں سے خطے سے القاعدہ کا مکمل خاتمہ ہوا۔ پاکستانی اقدامات سے نہ صرف خطہ بلکہ دنیا محفوظ مقام بنی ہے۔ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ امریکہ کے محکمہ خارجہ کی پاکستان مخالف رپورٹ نہ صرف زمینی حقائق سے متصادم ہے بلکہ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ پاکستان سمیت خطے کے تزویراتی اور سیاسی صورتحال کے گہرے، معروضی اور حقیقت پسندانہ تجزیئے اور منظرنامے کی اساسی ڈائنامکس سے نابلد ہے اور امریکہ نے پاکستان کی بے مثال قربانیوں کو فراموش کرکے اب ٹامک ٹوئیاں مارنے کو حقیقت و معروضیت کا نام دیا ہے۔ امریکہ کی طرف سے اس کے محکمہ خارجہ کی زیر نظر رپورٹ اسی اندازنظر کی عکاسی کرتی ہے۔ رپورٹ پر پاکستان کا رد عمل بروقت ہے اور اس کے خلاف دفتر خارجہ نے جو معروضے پیش کی ہیں وہ قومی امنگوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ حقیقت تلخ سہی مگر اس کا اظہار ہمارے امور خارجہ کے ماہرین کے اولین فرائض میں شامل ہے۔ رپورٹ کی جزئیات کا مطالعہ کرتے ہوئے اندازہ ہوجاتا ہے کہ امریکہ ابھی تک ڈومور کے نفسیاتی چکر سے باہر نہیں نکل سکا۔ رپورٹ کے حقائق سے لاعلم مرتبین پر بھارتی غلبہ ایک ہی اور کہانی کے کردار سے اہل وطن کو آگاہ کرتے ہیں۔ یہ وہی طرزِ فکر ہے کہ پاکستان لاکھ دہشت گردی کی جنگ میں اپنے شہریوں اور فوجی جوانو ںکے قیمتی جانوں کی قربانی دے کر اسے بیک جنبش قلم رد کردیا جائے، لغو تجزیوں سے رپورٹ کے خاکے میں فرضی اور مبالغ آمیز رنگ بھرے جائیں۔ پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرایا جائے، عالمی برادری کے سامنے ایک ایسی تصویر پیش کی جائے کہ جمہوری قوتوں کے لیے خطے کی حقیقی صورتحال کے سیاق و سباق سے پاکستان کا لازوال عسکری کردار محدود ہو اور پاکستان مخالف قوتوں کو سیاسی، مذہبی، فرقہ وارانہ اور اقتصادی کمک پہنچا کر پچھلی صفوں میں دھکیلا جائے۔ پاکستان نے نائن الیون کے بعد نمودار ہونے والی مجروح، کمزور اور بے سمت دنیا کی ترتیب، تعمیر اور تشکیل نو میں جو بنیادی کردار اد اکیا اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ دنیا جانتی ہے کہ نائن الیون کے سانحہ سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ سارے دہشت گردانہ کردار، منظر نامہ، اسکرپٹ اور کردار غیر پاکستانی تھے۔ مگر پاکستان کو اس جنگ میں جس انداز میں فرنٹ لائن کردار ملا اس کو ادا کرنے میں ہمارے عوام، پاک فوج اور سیاسی و جمہوری قوتوں نے باہم مل کر دنیا کو محفوظ بنانے کی جدوجہد میں ہراول دستے کا کام کیا۔ کیا ایک ملک سے جو امریکہ کا بااعتماد اور نان نیٹو حلیف ہے، ایسی بے وفائی اور بے رخی درد انگیز نہیں؟ کم از کم اتنا تو ٹرمپ انتظامیہ کو ادراک کرنا چاہیے تھا کہ القاعدہ کو کس نے صفحہ ہستی سے مٹایا، دہشت گردی کے خلاف کون سے ملک نے ایسی شاندار جنگ لڑی جس میں 70 ہزار پاکستانیوں نے جان نثار کی۔ فاٹا کے عوام نے دہشت گردی کے کتنے عذاب سہے۔ اربوں ڈالروں کا ملک کو نقصان ہوا۔ ان حقائق کو نظر انداز کرنا نہ صرف پاکستانی عوام کی دل آزاری کا باعث بن سکتا ہے بلکہ خطے میں ان قوتوں کو امن دشمنی کی شہہ مل سکتی ہے جو پاکستان کے ہر اچھے اقدام کو غلط قرار دینے کی عارضہ میں مبتلا ہیں۔ ضرورت اس رپورٹ کے مندرجات کی تصحیح اور زمینی حقائق کی گمراہ کن توجیحات پر معذرت کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان اب کیسے یقین دلائے کہ اس کی دہشت گردی کی جنگ کے خلاف کارکردگی خطے ہی نہیں دنیا کے ہر ملک کی قربانیوں اور بے مثال کردار سے زیادہ حقیقت افروز ہی ہے۔ دنیا کو پاکستان کی تعریف کرنی چاہیے، اسے دہشت گردی کے ٹھکانوں کے خاتمے میں ایک نامکمل کردار ولاملک ثابت کرنا شدید بے انصافی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا یہ کہنا صائب ہے کہ پاکستا ن نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خلاف موثر اقدامات کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ پاکستان نے اپنی عالمی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف موثر قانونی اور انتظامی اقدامات کیے ہیں۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے سلامتی کونسل کے 1267 سیکشن کے تحت دہشت گردی میں ملوث افراد اور اداروں کے اثاثے منجمد کیے جب کہ ایسے اداروں سے منسلک افراد کے اکاﺅنٹس کو بھی منجمد کیا گیا۔ پاکستان ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد کررہا ہے۔ پاکستان نے کہا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے رپورٹ کو تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کو طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں سے خطرہ ہے۔ لیکن رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ شدت پسند گروہ پاکستان کے خلاف سرحد پار سے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اسی کوتاہی کا ازالہ ہونا ناگزیر ہے۔ترکی نے امریکی رپورٹ کو اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔ ترک دفتر خارجہ کے ترجمان حامی آکسوئے نے امریکی وزارت خارجہ کی دہشت گردی سے متعلق رپورٹ کا تحریری جواب دیتے ہوئے کہا کہ ترکی پر حملے کرنے والی دہشت گرد تنظیم کے سربراہ کو امریکہ جلاوطن مذہبی رہنما کے طور پر پیش کرتا ہے اور ترکی میں مذموم فوجی بغاوت کی کوشش کو نہ صرف نظرانداز کیا بلکہ ایک طرح سے اس کی حمایت کی ہے۔ ترکی میں دہشت گردی میں ملوث وائی پی جی کا تذکرہ تک نہیں کیا گیا جس سے اس رپورٹ کے متنازع اور جانبدار ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی قوتیں دنیا کے تبدیل شدہ حالات کا ادراک کریں۔ پاکستان کو بے پناہ چیلنجز درپیش ہیں۔ امریکی حکام اور ماہرین جنگ اس تاثر کو ختم کریں کہ پاکستان کے تناظر میں محکمہ خارجہ اور پنٹا گان کا بیانیہ ایک پیج پر نہیں۔ پاکستان مخالف قوتوں کی بدنیتی کا عالم یہ ہے کہ ایک بھارتی وزیر ویرت اگروال شاردا نے کہا ہے کہ بھارت میں جو فضائی آلودگی ہے اس کا سبب یہ ہے کہ پاکستان اور چین نے زہریلی گیس بھیجی ہے۔ ادھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خواتین، امن اور سلامتی پر اجلاس کے دوران بھارت کی فرسٹ سیکرٹری پالومی تریپاٹھی نے الزام در الزام لگائے اور بھارتی کشمیری خواتین کی ترقی، استحکام اور نسوانی سربلندی کے ایسے جھوٹے افسانے گھڑے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ امریکی ماہرین اس رپورٹ کو بھی نگاہ کا مرکز بنائیں جس میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں آمرانہ اور جمہوری قوتیں انٹرنیٹ کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ کرتے ہوئے ویب سائٹس کو عوام سے متنفر کررہی ہیں۔ انٹرنیٹ کا جھکاﺅ آمریت اور ظلم پرستی کی طرف ہے۔ عراقی عوام امریکہ سے فریاد کررہے ہیں کہ اہل عراق نے امریکہ کی بھرپور مدد کی۔ اب ہماری التجا ہے کہ ہمیں امریکہ پھر سے فراموش نہ کرے۔ یہ زبان خلق ہے، امریکی انتظامیہ اسے نقارہ خدا سمجھے۔ پاکستان کی قربانیوں سے نظریں چرا کر امریکہ عالمی برہمی کا نشانہ بن رہا ہے۔


ای پیپر