بابری مسجد، سپرےم کورٹ فےصلہ اور مودی
14 نومبر 2019 2019-11-14

شہنشاہ ظہےر الدےن بابر ہندوستان پر حملہ کرنے سے پہلے فقےر کے بھےس مےں کابل سے ےہاں آئے تھے اور فےض آباد مےں اےک بلند ٹےلے پر ان کی ملاقات اس دور کے مقتدر بزرگوں شاہ جلال الدےن ؒ اور حضرت موسیٰ عاشقانؒ سے ہوئی ان بزرگانِ دےن نے بابر کی التجاپر اس کی امدادِ باطنی کے لئے دعا کی اور حکم کےا کہ اگر اس کی تمام مرادےں پوری ہوئےں تو اس ٹےلے پر اےک مسجد تعمےر کرنا۔ ظہےر الدےن بابر نے 1528ءمےں جب رانگا سانگا اور ابراہےم لودھی کو شکست دے کر ہندوستان فتح کےا تو اس نے اودھ مےں اپنے گورنر مےر باقی کے ذرےعے اس وےران ٹےلے پر اےک مسجد تعمےر کروا دی جو بابری مسجد کے نام سے موسوم ہوئی۔ ہندوو¿ں کا ہمےشہ سے ےہ موقف رہا ہے کہ ظہےرالدےن بابر کے سپہ سالار مےر باقی نے رام کی جنم بھومی پر اس کی تعمےر کی تھی، 1853ءمےں واجد علی شاہ کے عہد کے اودھ مےں فرقہ وارانہ فساد ہوا نتےجتاً کئی ہزار جانوں کا ضےاع ہوا، مغلےہ سلطنت کے آخری اےام مےں اےک اےسے گروہ نے سر اٹھاےا جسے نرموہی کے نام سے جانا جاتا ہے، ےہ وہی جماعت ہے جس نے اولاً بابری مسجد کی تقدےس پر سوالےہ نشان لگاےا تھا اور اسے غصب کردہ اراضی قرار دےا نےز رام جنم بھومی کا تصور اسی فرقہ پرست گروہ نرموہی کا دےا ہوا ہے۔ 1857ءکی جنگِ آزادی کے بعد مسجد مےں ہندوو¿ں نے اےک چبوترہ بنا دےا، 1883مےں اس چبوترے مےں مورتی نصب کر دی گئی۔

1885ءسے1947ءتک بابری مسجد تنازعہ پر مقدمہ بازی ہوتی رہی، عدلےہ مےں اپےلےں دائر کی جاتی رہےں کہ بابری مسجد کی زمےن اصلاً رام جنم بھومی ہے لےکن جو بھی اپےل دائر کی جاتی وہ عدلےہ کی جانب سے خارج کر دی جاتی۔ برِ صغےر کی تقسےم پر ہندوستانی مسلمان بھارت مےں اقلےت مےں آ گئے، فرقہ پرست طاقتےں ان کے خلاف متحد ہو گئےں، 22دسمبر1949ءکی رات وشوا ہندو پرےشد اور دےگر تنظےموں کے ارکان نے بابری مسجد کا تالا توڑ کر اس مےں مورتےاں رکھ دےں جس کے بعد نقصِ امن کے نام پر مسجد کو دوبارہ تالا لگا دےا گےا۔ 1984ءوشوا ہندو پرےشد اور دےگر تنظےموں نے رام جنم بھومی کی ملک گےر تحرےک چلائی جس کی قےادت لال کرشن اےڈوانی نے کی اور اشتعال انگےز تقارےر سے ہندوو¿ں کو مشتعل کرنے مےں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ےہ تنازعہ بڑھتا گےا ےکم فروری کو ڈسٹرکٹ جج نے حکم دےا کہ بابری مسجد کا تالا کھول دےا جائے اور ہندوو¿ں کو درشن اور پوجا پاٹ کی اجازت دی جائے۔ اس سے قبل وہاں صرف ہندوو¿ں کو سالانہ اجتماع کی اجازت تھی لےکن اب بابری مسجد کے اےک حصہ پر ہندوو¿ں کو مالکانہ حق حاصل ہو گےا اور 6دسمبر 1992 ءکو لاکھوں ہندوو¿ں نے بابری مسجد کو شہےد کر دےا۔ اےودھےا کی اس زمےن پر جہاں آج کل رام مندر کا عارضی ڈھانچہ کھڑا ہے کبھی رام مندر ےا دوسرا مندر نہےںتھا ےہ بات تارےخی کتب اور مستند حوالوں سے ثابت ہے۔

بھارتی سپرےم کورٹ کے حالےہ غےر منصفانہ فےصلہ کہ مسجد کی زمےن ہندوو¿ں کو دے دی جائے اور مسلمانوں کو اس کے متبادل جگہ فراہم کر دی جائے سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔ بھارتی سپرےم کورٹ کو ےہ احساس کرنا چاہئے تھا کہ مسئلہ صرف بابری مسجد کے کھوئے جانے کا نہےں بلکہ اس سے کہےں زےادہ گہرا ہے۔ مسلمان جو کہ تقسےم کے بعد شکوک و شبہات اور تعصب کی فضا مےں سانس لے رہے ہےں ان کے دل سے بھارت کے اس دعوے پر سے اعتماد ختم ہو رہا ہے کہ اس ملک مےں اےک سےکولر معاشرہ قائم کےا جائے گا۔ اگر ےہ فےصلہ ان کے حق مےں آ جاتا تو ان کا اعتماد کافی حد تک بحال ہو سکتا تھا۔ اس حوالے سے بھارت کو پاکستان سے سبق سےکھنا چاہئے جہاں 1948ءمےں پرائےوی کونسل کے فےصلے کے بعد سے گوردوارہ شہےد گنج لاہور مےں اےک گوردوارے کے طور پر قائم ہے اور اسلامی رےاست پاکستان نے گوردوارے کے ڈھانچے اور اس کے تقدس کی حفاظت کی ہے اور مذہبی عناصر نے کبھی بھی اس فےصلے کی خلاف ورزی نہےں کی۔

آج سے 27برس قبل اس وقت بھارت کے سےکولر اسٹےٹ ہونے کا شےرازہ بکھر گےا تھا جب اےنٹوں اور گارے سے بنی مسجد کی کئی سو سال پرانی عمارت کے ساتھ ساتھ بھارت کی ہزاروں برس پرانی رواےات کی بھی دھجےاں اڑائی گئی تھےں، دنےا بھر کے مسلمان بالعموم اور بھارت کے مسلمان بالخصوص بابری مسجد کی شہادت کو آج اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی فراموش نہےں کر پائے اور امےد کرتے تھے بھارتی سپرےم کورٹ سے انہےں انصاف ملے گا اور ابھی تک اس انتظار مےں تھے کہ مسجد کو شہےد کرنے والوں کو بھارتی عدلےہ اپنے آئےن و قانون کی رو سے سزا دے گی۔ سپرےم کورٹ کے فےصلے نے ان کی امےدوں پر پانی پھےر دےا۔ بابری مسجد مقدمہ مےں انصاف بھی کےسے ملنا تھا کےونکہ 6دسمبر1992ءکو لال کرشن اےڈوانی اور مرلی منوہر جوشی کی قےادت مےں جن لاکھوں لوگوں نے اےودھےا مےں جمع ہو کر بابری مسجد شہےد کی تھی ان مےں اےک نرےندر مودی آج بھارت کے وزےرِ اعظم ہےں۔ وہ اسی بی جے پی کے کارکن ہےں جو بدستور فرقہ وارےت کی آگ بھڑکانے مےں مشغول ہے۔


ای پیپر