پولیس والوں کو بھی عزت دیں
14 نومبر 2019 2019-11-14

وہ منظر قلب و روح میں اضطراب کے نشتر پیوست کر رہا تھا، معلوم ہوتا تھا وہ میری بیٹی مائدہ ہے ۔ وہی چہرہ، وہی جذبات اور باڈی لینگوئج، درداور غم میں مبتلا وہ ننھی پری اپنے معصوم اور چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اپنے شہید باپ کا چہرہ سہلاتی تو کبھی اس کے ماتھے پر پیار کرتی اور پھر روتے روتے طویل سسکیاں اس سارے منظر کو اور بھی درد ناک بنا دیتی ہیں۔ مزید ایک ایسی ہی تصویر بھی نہ چاہتے ہوئے بھی نظروں سے اوجھل نہیں ہو پارہی جس میں دو ننھے معصوم، بظاہر خاموش، لیکن اپنے اندر کرب کا ایک طوفان چھپائے ہوئے اپنے شہید باپ کے لاش کے سر ہانے بیٹھے ہیں اور مجھ سے اور آپ سے یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا اب بھی آپ لوگ میرے پاپا جیسے لوگوں کو بُرا بھلا کہتے رہیں گے جو اپنی زندگیوں ، گھر والوں اور ہم جیسے معصوم فرشتوں کی پرواہ کئے بغیر صرف آپ کی زندگیوں، گھر والوں اور بچوں کی حفاظت پر معمور ہوتے ہیں ۔ہر طرح کے خوف، حزن اور دہشت گردوں اور ان کے آلہ کاروں کی دھمکیوں کے باوجود وہ فرنٹ لائن پر کھڑے اپنے فرض منصبی سر انجام دے رہے ہوتے ہیں۔

قارئین ! راجن پور کے علاقے ٹرائیبل ایریا میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پران کی گرفتاری کے لئے جانے والی پولیس ٹیم کی وین پر کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں نے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں آٹھ کے قریب پولیس والے شہید ہو گئے اور یہ بچے ان پولیس اہلکاروں کے تھے جو اپنے معصومانہ انداز میں اپنے باپ کی لاشوں کے سرہانے بیٹھ کر ، صبح سے شام پولیس کے خلاف بولنے والے لوگوں سے سوال کررہے تھے کہ جنہیں آپ اتنا بُرا بھلا کہتے ہو یہ اُن کے لاشے ہیں اور ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ معاشرے کو معاشرے کے مجرموں سے آزاد کر نا چاہتے تھے ۔

قارئین محترم !یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بطور معاشرہ ہم اخلاقی پستی کی اس سطح پرپہنچ چکے ہیں جس کی وجہ سے سابقہ اقوام تباہ و بر باد کر دی گئیں۔ اگر میں یہ لکھوں کہ بطور قوم ہم میں وہ تمام اخلاقی بیماریاں پائی جاتی ہیں جوتباہ وبر باد اور صفحہ ہستی سے مٹنے والی تمام اقوام عالم میں پائی جاتی تھیں ، غلط نہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم کسی کے اچھے کام کی تعریف کر نے کی بجائے ، از حد محنت کر کے اس میں موجود کمی و کوتاہی کو تلاش کر کے طو فان بد تمیزی بر پا کر ردیتے ہیں ۔ ہم بطور قوم ایک ایسی مکھی بن چکے ہیں جو صرف گندگی پر بیٹھنا پسند کرتی ہے اور یہی ہمارے تمام مسائل کی جڑ بھی ہے ۔ میں چونکہ ایک طویل عرصے تک پولیس اور صحت کے شعبے سے بطور رپورٹر وابستہ رہا اور میں نے ان دونوں محکموں کو بہت قریب سے دیکھا ہے ۔ محکمہ پولیس میں کئی ایسے ہیرے جیسے لوگ موجود ہیں جن کا دامن ہر طرح کی کرپشن سے پاک ہے ۔ جو لوگوں کی داد رسی کے لئے آخری حد تک جاتے ہیں اور اس گئے گذرے دور میں جب خون کے رشتوں میں وفا ختم ہوگئی ہے وہ لوگ اپنا فرض سمجھتے ہوئے مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوکر ظالم کو للکارتے ہیں ۔ چند کالی بھیڑوں جنہیں ہم نے ہی رشوت، حرام خوری اور اس جیسی لعنتوں کا ”ٹیسٹ “لگایا ہوتا ہے کہ وجہ سے ہم پورے محکمے کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں اوریوں جو اچھے لوگ ہوتے ہیں وہ اس قدر احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں کہ آہستہ آہستہ ہمارے جھوٹے طعنے سن کر وہ بھی پھر مجبور ہو جاتے ہیں کہ لوگوں کو ان کی سوچ اور روئیوں کی طرح ہی ڈیل کیا جائے ۔

میں اس بات کا بھی شاہد ہوں کہ جن پر ہم حرام خوری کے بڑے بڑے فتوے صادر کرتے ہیں پولیس کے وہ جوان کسی سانحے میں شہید ہوتے ہیں تو جب ان کے گھر جانا ہوتا ہے تو دیکھ کر دل دکھی ہو جاتا ہے ۔ کسی دور دیہات میں کچا مکان ، ٹوٹی پھوٹی چارپائیاں، چند عدد برتن ، مٹی کا چولہا اور جس میںلکڑی کے بقایاجات سے اٹھنے وا لا دھواں آنکھوں کو جلا رہا ہوتا ہے ۔چھوٹے چھوٹے معصوم بچے ، جن کی آنکھوں میں بھی ہمارے بچوں ہی کی طرح بڑے بڑے خواب ہوتے ہیں لیکن فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ ہم ان خوابوں کو پورا کر دیتے ہیں جبکہ پولیس کا وہ اہلکارعید تہواروں پرصرف جھوٹے دلاسے دے کر ہماری حفاظت پر معمور ہوتا ہے ۔ غربت، افلاس اور زندگی کو ایک عذاب کی مانند گذارنے کے باوجود بھی اسی جذبے اور جانقشانی کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دیتا ہے ۔

قارئین کرام !پچھلے کچھ مہینوں سے جان بوجھ کر پولیس کے مورال کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس میں پوری پلاننگ کے ساتھ حکومتی اہلکار بھی ملوث ہیں جنہوں نے پولیس ریفارمز کے نام پر صرف مذاق کرنے کے اور کچھ نہ کیا اور یہی وجہ ہے کہ پولیس کا ایک بڑا طبقہ اس سوال کا جواب مانگ رہا ہے کہ ڈیرہ غازی خان اور روجھان میں پولیس کے آٹھ جوان شہید ہوئے، یعنی آٹھ خاندان اُجڑ گئے، ایک تو اپنے ہی محکمے کی اعلٰی قیادت نے اُن جوانوں کو اے پی سی کے بغیر چلتی گولیوں کے سامنے تاریکی میں بھیجا اوپر سے عسکری ڈرامہ سیریل میں کہا گیا کہ پولیس ڈاکو¶ں سے مِلی ہوئی ھے، کیا پولیس کی وردی میں ملبوس جوان اس دھرتی کا مُحافِظ نہیں ہوتا؟ کیا اُس جوان کے لہو کا رنگ سُرخ نہیں ہوتا؟ کیا خُون میں لِتھڑی ہوئی یہ آٹھ لاشیں جِن کی ابھی تکفین و تدفین بھی نہیں ہوئی، ڈاکو¶ں سے مِلی ہوئی ہیں؟ کیا یہی ہیں نئے پاکستان کی پولیس ریفارمز؟ ۔یہ سوالات اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں اور اگر ہم پولیس کے مورال کو بلند دیکھنا چاہتے ہیں تو ان سوالات کی روشنی میں آئندہ کا کوئی جامع اور موثر پلان تشکیل دیتے ہوئے حقیقی معنوں میں پولیس ریفارمز کا آغاز کر نا ہو گا اور عوام میں موجود پولیس کے حوالے سے غلط فہمیوں کا تدارک کرتے ہوئے عوام اور پولیس میں بڑھتے ہوئے فاصلے کو کم کر نے کے لئے بھی بطور مشن سمجھتے ہوئے آج سے ہی اس پر کام شروع کر نا ہو گا۔


ای پیپر