عقل مند میاں بیوی
14 نومبر 2019 2019-11-14

دوستو، میاں بیوی دو طرح کے ہوتے ہیں، یا تو عقل مند ہوتے ہیں یا بے وقوف ہوتے ہیں۔۔ لیکن مشاہدے میں آیا ہے کہ میاں بیوی میں سے کوئی نہ کوئی ایک فریق بے وقوف اور دوسرا عقل مند ہوتا ہے، اس لئے ان کا گھر بھی چلتا ہے۔۔جہاں دونوں ہی بے وقو ف ہوں تو پھر وہ گھر بستا نہیں اجڑہی جاتا ہے۔۔چلیں پھر آج آپ کو میاں بیوی کی دونوں اقسام کے بارے میں کچھ مفید معلومات فراہم کرتے چلیں۔۔

عربی زبان کی ایک تحریر سے اقتباس میں بتایاگیا ہے کہ عقل مند اور بے وقوف میاں بیوی کون ہوتے ہیں؟؟ عقلمند میاں بیوی اپنے رشتے کی بنیاد اللہ کی اطاعت اور اس کے متعین کردہ حقوق وفرائض پر رکھتے ہیں۔ بیوقوف میاں بیوی اپنے رشتے کی بنیاد رسومات، گناہوں، اور، خواہشاتِ نفس پر رکھتے ہیں۔۔۔ عقلمند میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھی اور خیر خواہ ہوتے ہیں۔بیوقوف میاں بیوی ایک دوسرے کے حریف اور مقابل ہوتے ہیں۔۔۔ عقلمند میاں بیوی ایک دوسرے کی عزت اور احترام ہمیشہ قائم رکھتے ہیں۔بیوقوف میاں بیوی ایک دوسرے کا مذاق اڑاتے اور تذلیل کرتے ہیں۔۔۔ عقلمند میاں بیوی اپنے الفاظ، اعمال، اور جذبات کے ذریعے اکثر ایک دوسرے کی تعریف اور قدردانی کرتے ہیں۔بیوقوف میاں بیوی اظہارِ محبت اور تعریف کو بیکار سمجھتے ہیں۔۔۔ عقلمند میاں بیوی ایک دوسرے کیلئے بننے سنورنے اور خوبصورت دکھنے کا اہتمام کرتے ہیں۔بیوقوف میاں بیوی ساری دنیا کیلئے سنورتے ہیں ،ایک دوسرے کیلئے نہیں۔۔۔ عقلمند میاں بیوی ایک دوسرے کی پردہ پوشی کرتے ہیں، ایک دوسرے کو معاف کرتے ہیں، ایک دوسرے کی مجبوریوں کو سمجھتے ہیں۔بیوقوف میاں بیوی اپنے اختلافات دنیا کے سامنے ظاہر کرتے ہیں۔۔۔ عقلمند میاں بیوی ایک دوسرے کی نرم گرم باتوں کونظرانداز کرتے ہیں۔بیوقوف میاں بیوی چھوٹی چھوٹی باتوںکو رائی کا پہاڑ بنادیتے ہیں۔۔۔ عقلمند میاں بیوی اپنی انا کو چھوڑ کر معافی مانگنے میں پہل کرتے ہیں۔بیوقوف میاں بیوی انا پرستی میں گھر تباہ کرلیتے ہیں۔۔۔ عقلمند میاں بیوی ایک دوسرے پر ہر وقت اپنی مرضی مسلط نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے کی پسند ناپسند کا احترام کرتے ہیں۔بیوقوف میاں بیوی ایک دوسرے کو کنٹرول کرنے کی کوشش میں رشتہ تباہ کرلیتے ہیں۔۔۔ عقلمند میاں بیوی اتحاد میں ایک اور ایک گیارہ ہوتے ہیں۔بیوقوف میاں بیوی بات بات پر جھگڑ کر تنہا رہ جاتے ہیں۔۔۔ عقلمند میاں بیوی ہر وقت اس فکر میں رہتے ہیں کہ کس طرح ایک دوسرے کو راحت پہنچائیں۔بیوقوف میاں بیوی ہر وقت اس فکر میں رہتے ہیں کہ کس طرح دوسرے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرلیں۔۔۔ عقلمند میاں بیوی ایک دوسرے کے ماں باپ کو اپنے ماں باپ اور انکی خدمت کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔بیوقوف میاں بیوی ایک دوسرے کے ماں باپ کو بوجھ سمجھتے ہیں۔۔۔ عقلمند میاں بیوی تمام دنیا کے مقابلے میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔بیوقوف میاں بیوی دوسروں کو ایک دوسرے پر ترجیح دیتے ہیں۔۔۔ عقلمند میاں بیوی ایسی زندگی گزارتے ہیں جو انکی اولاد کیلئے مثال ہو۔بیوقوف میاں بیوی آپس کے جھگڑوں اور بدسلوکی سے اولاد کو بھی تباہی کے راستے پر ڈال دیتے ہیں۔۔

خواتین پیسوں کی اہمیت اور قدروقیمت سے بخوبی واقف ہوتی ہیں لہذا بچت پہ یقین رکھتی ہیں۔۔وہ بچت پہ یقین تو رکھتی ہیں مگر کپڑے ہمیشہ اعلیٰ اور مہنگے خریدنا پسند کرتی ہیں۔۔ کپڑے تو مہنگے اور اعلی ہی خریدتی ہیں مگر کسی بھی فنکشن میں جانے کیلئے ان کے پاس (انکے بقول) ڈھنگ کے اور موزوں کپڑے نہیں ہوتے۔۔ان کے پاس ڈھنگ کے کپڑے نہیں ہوتے مگر پھر بھی ہمیشہ سلیقے سے تیار ہوتی ہیں اور خوبصورت لگ رہی ہوتی ہیں۔۔ خوبصورت لگ رہی ہوتی ہیں مگر پھر بھی مطمئن نہیں ہوتیں ۔۔ خود اپنی تیاری سے مطمئن نہیں ہوتیں مگر چاہتی ہیں کہ شوہر انکی تعریف کرے۔۔ چاہتی ہیں کہ شوہر تعریف کرے اور اگروہ تعریف کردے تو اس پہ یقین بھی نہیں کرتیں۔۔پاکستانی بیوی اور پاکستانی پولیس میں ایک ہی قدر مشترک ہے، دونوں ایک ہی سوال ہی کرتے ہیں،” کہاں سے آرہے ہو؟؟“۔۔ بیوی اس کیریکٹر کانام ہے جس کا دل توڑو تو وہ معاف کرسکتی ہے لیکن کبھی اپنے جہیز میں لائے ڈنرسیٹ کی پلیٹ ٹوٹنے کو معاف نہیں کرسکتی۔۔کہتے ہیںکہ جوائنٹ فیملی میں نئے شادی شدہ جوڑے وقت کے ساتھ ساتھ اتنے ایکسپرٹ ہوجاتے ہیں کہ۔۔پاپڑ بھی بغیر آواز نکالے کھالیتے ہیں۔۔ویسے بھی انسان تین چیزیں کبھی نہیں چھپا سکتا۔! محبت۔! کھانسی۔!اور پاپڑ کھانے کی آواز۔۔

ایک خاتون نے بڑے پریشان کن لہجے میں کہا۔۔ ڈاکٹر صاحب میرے شوہر کو سوتے میں بولنے کی عادت ہے، اس کا کیا علاج کروں؟؟ ڈاکٹر نے کہا۔۔ جب وہ جاگ رہے ہوں تو انھیں بولنے کا موقع دیں۔۔یہ بات سو فیصد حقیقت ہے کہ اس حسین و جمیل دنیا میں شادی شدہ مرد کی حالت کومے میں پڑے اس مریض کی طرح ہے جو دیکھ تو سکتا ہے مگر بول نہیں سکتا۔۔بیویوں پر یاد آیا، بیویوں کے چند مشہور و معروف طنز اور طعنے بھی سن لیجئے جس سے ہر شوہر کاواسطہ لازمی پڑتا ہی ہوگا۔۔آپ کے سارے بھائی اتنے چالاک ہیں آپ کیوں اتنے بیوقوف ہیں۔؟۔۔سارے تکیے اپ نے تڑوڑ مروڑکر برباد کر دیئے ہیں۔۔آپ کے گھر والوں نے کبھی مجھے بہو تسلیم نہیں کیا۔۔۔آپ نے کبھی میری کوئی بات مانی بھی ہے؟؟۔۔۔میری طبیعت اتنی خراب ہے لیکن آپ کو تو پرواہ ہی نہیں۔۔بچے میری بات نہیں مانتے اور آپ انہیں کچھ کہتے بھی نہیں۔۔۔ مجھے لگتا ہے میں کوئی فالتو چیز ہوں۔۔۔ویسے کیا سوچ کر شادی کی تھی مجھ سے۔۔شادی سے پہلے تو ایسے نہیں تھے آپ۔۔کتنے دن سے آپ نے مجھ سے حال بھی نہیں پوچھا۔۔بندہ خوش کرنے کے لیے ہی کہہ دیتا ہے کہ جو دل کرے مانگ لو آج۔۔میں آپ کے فائدے کے لیے ہی سمجھاتی ہوں آپ کو ہمیشہ۔۔۔میں کبھی آگے سے بولی ہوں ؟۔۔۔جب میں بات کر رہی ہوں تو میری طرف دیکھا کریں۔۔اپنی دفعہ آپ کو بڑا غصہ آتا ہے۔۔آپ نے مجھے کبھی سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔۔۔ اپنی مرضی کرنے سے پہلے بندہ مشورہ تو کر لیا کرتا ہے۔۔کرنی اپنی مرضی ہے، اس لیے مجھ سے مت سے پوچھا کیجئے۔۔۔آپ کے بھائی ہر بات میں بیویوں سے مشورہ کرتے ہیں اور ایک آپ ہیں کہ بس۔۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔جہالت اور افلاس ترازو کے دو ایسے پلڑے ہیں جو اگر متوازی ہو جائیں توکفر کے نزدیک لے جا سکتے ہیں۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔


ای پیپر