پاکستان میں حکومت ہی کسان دشمن بنی ہوئی ہے :بلاول بھٹو
14 نومبر 2019 (17:13) 2019-11-14

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی نے گندم کی قیمت میںصرف 50 روپے فی من اضافہ مسترد کرتے ہوئے گندم کی کم از کم سرکاری قیمت 1600 روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ کیا کر دیا ہے۔

پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے کہا ہے کہ پانچ سال بعد گندم کی سرکاری قیمت میں صرف پچاس روپے اضافہ کاشتکاروں کے ساتھ مذاق ہے،عالمی منڈی میں گندم کی قیمت 1575 روپے ہے ہمارے کسان کو 1350 روپے پر ٹالا جا رہا ہے،دنیا بھر میں حکومتیں کسانوں کے حقوق کا تحفظ کرتی ہیں ، پاکستان میں حکومت ہی کسان کی دشمن بنی ہوئی ہے۔

جمعرات کوپیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے گندم کی سرکاری قیمت میں صرف 50 روپے فی من اضافہ مسترد کر تے ہوئے کہا کہ پانچ سال بعد گندم کی سرکاری قیمت میں صرف پچاس روپے اضافہ کاشتکاروں کے ساتھ مذاق ہے،گندم کی کم از کم سرکاری قیمت 1600 روپے فی من مقرر کی جائے،عالمی منڈی میں گندم کی قیمت 1575 روپے ہے ہمارے کسان کو 1350 روپے پر ٹالا جا رہا ہے، دنیا بھر میں حکومتیں کسانوں کے حقوق کا تحفظ کرتی ہیں ، پاکستان میں حکومت ہی کسان کی دشمن بنی ہوئی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نےاپنے دور میں گندم کی قیمت 450 سے بڑھا کر 1250 روپے من مقرر کی، پی پی پی حکومت نے ملک کو گندم درآمد کرنے والے ملک سے گندم برآمد کرنے والا ملک بنادیا، یوریا، ڈی اے پی ، زرعی ادویات اور دیگر مداخل کی قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں، حکومت کی کسان دشمن پالیسی کی وجہ سے زرعی شعبہ تباہ اور کاشتکار برباد ہو رہا یے۔

انہوں نے کہا کہ فصلوں کی مناسب قیمت نہ ملنے کی وجہ سے پیداوار تشویشناک حد تک کم ہو گئی ہے، حکومت زراعت دشمن اقدامات سے ملک کو غذائی قلت کی طرف دھکیل رہی ہے، کپاس کی پیدوار اس سال پہلے سے 70 لاکھ گانٹھیں کم ہوئی ہے، کاشتکار کو مارکیٹ فورسز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، صنعتی طبقے کے بعد زراعت تباہ ہو رہی ہے حکومت ہوش کے ناخن لے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسان نے ہل چلانا بند کر دیا تو ملک قحط کا شکار ہو جائے گا،زراعت پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے اس کے بغیر ملک چل ہی نہیں سکتا، حکومت فوری طور پر کسان دوست زرعی پالیسی بنائے اور پارلیمنٹ میں لے کر آئے ،زرعی اجناس کی قیمتوں کا تعین مہنگائی کے تناسب سے کیا جائے ۔


ای پیپر