پاکستان اور چین تعلقات کا مستقبل؟
14 نومبر 2018 2018-11-14

پاکستان کے چین کیساتھ تعلقات انتہائی قربت کی گرہ سے بندھے ہوئے ہیں ۔دونوں ممالک نہ صرف معاشی بلکہ دفاعی اور توانائی کے شعبوں میں ایکدوسرے کے دست و بازو ہیں۔گذشتہ 28برسوں کے دوران چین اور پاکستان کے درمیان تعلقات اور تعاون میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کا باقاعدہ آغاز1950ء میں ہوا تھا جب چین ‘تائیوان تنازعہ کے بعد پاکستان نے عالمی برادری کے دیگر ممالک کے ہمراہ چین کی آزادی کو تسلیم کیاتاہم دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کا آغاز31مئی1951ء کو ہوا۔ چین کی نظر میں پاکستان کا وقار اس وقت بلند ہوا جب پاکستان نے امریکہ اور چین کے تعلقات میں بہتری کیلئے کلیدی کردار ادا کیاہنری کسنجر نے چین کا دورہ کیا اور دونوں ممالک کے تعلقات بہتری کی جانب گامزن ہوگئے چین کا نہ صرف عالمی برادری میں مقام بلند ہوا بلکہ اقوام متحدہ کا مستقل رکن بن کر ویٹو کا حق بھی اسے مل گیا۔ پاکستان اور چین کے تعلقات میں نمایاں گرم جوشی 1962ء میں پیدا ہوئی جب چین ‘بھارت سرحدی تنازعہ پیدا ہوا تو بھارت کو اپنا روایتی دشمن سمجھنے والی پاکستانی قیادت نے چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کیلئے چین کو خطے میں ایک متبادل طاقت کے طور پر ابھرنے میں مدد فراہم کی تاکہ بھارتی اثرورسوخ کا راستہ روکا جا سکے۔65ء کی پا ک بھارت جنگ میں چین نے پاکستان کی جب مدد کی تو دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور اقتصادی رابطے مزید مستحکم ہوئے 1978ء میں جب چین اور پاکستان کے درمیان پہلے زمینی راستے قراقرم ہائی وے کا سنگ بنیاد رکھا گیا تو دونوں ممالک کے مابین تجارت اور رابطوں میں مزید اضافہ ہوا۔ پاکستان اور چین کے درمیان فوجی تعاون کے اہم منصوبوں میں پیشرفت2001ء میں ہوئی اور 2007ء میں انہی دفاعی سمجھوتوں کی بدولت چین پاکستان کو ہتھیار فراہم کرنیوالا سب سے بڑا ملک بن گیا پاکستان اور چین کے درمیان جوہری توانائی کے میدان میں تعاون کے سمجھوتے پر 1984ء میں دستخط ہوئے جس کے بعد دونوں ممالک ایکدوسرے کیساتھ تعاون کرتے چلے آرہے ہیں۔ پاکستان کے خلائی پروگرام میں چینی تعاون کا بڑا عمل دخل ہے 1990ء میں پاکستان کا پہلا سیٹلائٹ سہولیات نہ ہونے کے باعث ایک چینی اسٹیشن سے ہی بھیجا گیا تھاجس کے بعد باہمی تعاون کا یہ سلسلہ ابتک جاری ہے۔ پاکستان کی جغرفیائی‘دفاعی اور معاشی لحاظ سے اہم ترین بندر گاہ گوادر نہ صرف چین کے تعاون

سے تعمیر کی گئی بلکہ اس کی تعمیر کے تمام مراحل میں بھی چین کی تکنیکی اور افرادی مدد بہم رہی2002ء میں 248ملین ڈالر کے اس مشترکہ پراجیکٹ کیلئے چین نے پاکستان کو 198ملین ڈالر فراہم کئے2008ء میں دونوں ممالک کے مابین فری ٹریڈ معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے تحت چین پاکستان میں نئی صنعتیں لگا رہاہے اس معاہدے کے تحت پاکستان کو بھی چین میں یہ سہولت فراہم کی گئی ہے دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی ملک کیساتھ کیا جانیوالا اپنی نوعیت کا یہ پہلا معاہدہ ہے۔ چین پاکستان کے طول و عرض میں پھیلے انفراسٹرکچر کی تعمیر کیلئے بے شمار منصوبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے اس وقت کئی چینی کمپنیاں پاکستان میں آئل اینڈ گیس‘آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام‘پاور جنریشن‘انجنےئرنگ‘آٹو موبائلزاور انفراسٹرکچر اینڈ مائننگ کے شعبوں پر کام کر رہی ہیں۔ان تما م شعبوں کے علاؤہ دونوں ممالک قدرتی آفات اور دیگر مشکل وقتوں میں ایک دوسرے کیساتھ کندھا ملائے کھڑے رہتے ہیں ۔وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب کے کامیاب دورہ کے بعد حالیہ دنوں میں چین کا پانچ روزہ دورہ کیا جس میں دو طرفہ تعاون کے پندرہ معاہدوں اور مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط ہوئے۔دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے مستقبل میں ترقی کیلئے سی پیک کی اہمیت اور اس کی افادیت پر اتفاق کیا۔چینی قیادت نے پاکستان کو یقین دہانی کروائی کہ پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکلنے کیلئے مالی امداد دینگے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورہ چین کے دوران چینی سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کیں اور پاکستان میں انہیں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی۔ پاکستان کو درپیش مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے چینی قیادت نے کہا کہ سی پیک چین اور پاکستان کیلئے ہی نہیں بلکہ پورے خطے کیلئے گیم چینجر ثابت ہو گا۔ پاکستان اور چین کی دوستی باہمی اشتراک اور مشترکہ مفادات کی ڈور سے بندھی ہوئی ہے۔امریکہ اور بھارت کو پاک چین دوستی کی گہرائی ہضم نہیں ہو رہی سی پیک منصوبہ بھارت کی علاقائی چوہدراہٹ کیلئے خطرہ بن چکا ہے جس کی وجہ سے بھارت کی جانب سے ہونیوالی پاکستان اور چین کیخلاف ہرزہ سرائی تعصب سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔بھارت کی شدید خواہش ہے کہ خطے میں امریکہ کا بگل بچہ بن کر ایک بااختیار نگران کے طور پر چوہدراہٹ کرے لیکن حالات کی کروٹ بتا رہی ہے کہ اس کا یہ ناپاک عزائم سے لتھڑا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ سی پیک کا اہم حصہ ہے بھارت اس لئے بھی خائف ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ سے جنوبی ایشیا کے ممالک غیر محسوس انداز میں بھارت کے اثر سے نکل رہے ہیں جس سے بھارت کی علاقہ میں چوہدراہٹ کا خاتمہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ بھارت ہی نہیں پاک چین تعلقات پر ٹرمپ انتظامیہ کو بھی پریشانی لاحق ہے۔پاک چین تعلقات میں اہم موڑ تب آیا جب ٹرمپ نے اپنے افغان پالیسی خطاب میں پاکستا کو دھمکی دی کہ پاکستان کو اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے پر بہت کچھ کھونا پڑے گا پاکستان نے امریکہ کے اس الزام کی سختی کیساتھ تردید کی جس پر چین نے بھی فوری پاکستان کے حق میں بیان دیا۔ پاکستان اور چین کا ایکدوسرے کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان نے پاکستان دشمنوں کی نیندیں اڑا دی ہیں پاکستان اور چین کی مشترکہ فضائی مشقین ظاہر کرتی ہے کہ دونوں ممالک نے باہمی تعاون میں اضافہ کردیا ہے۔ پاکستان کو اقوام عالم میں تنہا کرنے اور دہشت گردوں کو پالنے والی ریاست ثابت کرنے کی کوشش کرنے والا امریکہ بخوبی سمجھ چکا ہے کہ پاکستان اس کے لئے کوئی ترنوالہ نہیں جسے جب چاہا دھمکا کر اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرلیا۔ چین اور امریکہ کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ چین جنوبی بحیرہ چین میں امریکہ کے اتحادیوں کیلئے خطرہ بنتا جا رہا ہے اور اب امریکہ روس کیساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے لیکن مستقبل قریب میں ایسا ممکن ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔پاک چین دوستی ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے بھارت کے پاس اگر امریکہ کی شکل میں طاقتور اتحادی ہے تو پاکستان کے پاس بھی چین کی شکل میں خطے میں اور سلامتی کونسل میں ایک مضبوط اتحادی موجود ہے جن کے مفادات مشترکہ ہیں ۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات عشروں کی نچلی ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں جس کی وجہ سے پاک چین تعلقات مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔دونوں ممالک ایکدوسرے کیساتھ دفاعی‘توانائی اور اقتصادی تعاون کی مضبوظ ڈور سے بندھ چکے ہیں دونوں ممالک کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ ایکدوسرے کے مفادات کا تحفظ کیا جائے۔ قائد اعظم کی مدبرانہ قیادت کے نتیجہ میں آزاد ہونیوالا پاکستان اور ماوزے تنگ کی عظیم قیادت اور لانگ مارچ کے ثمرات کے نتیجہ میں آزادی حاصل کرنے والا چین محبت‘اخوت اور باہمی تعاون کیساتھ ایکدوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہو چکے ہیں ۔پاک چین دوستی سے جہاں پاکستان کو غربت‘کرپشن‘بیروزگاری کے خاتمہ میں مدد ملے گی اور معاشی طور پر مستحکم ہو گاوہیں علاقائی امن‘دہشت گردی‘کیخلاف مشترکہ کوششوں کو بھی فروغ ملے گا ۔


ای پیپر