چار سال پرانا زہریلا گوشت اور معصوم کلیاں ۔۔۔؟
14 نومبر 2018 2018-11-14

آج کی تازہ خبر کراچی میں جو دو معصوم پیارے پیارے بچے ہوٹل میں فوت ہوئے اور پورا پاکستان پریشان ہوا کہ یہ کیسے مارے گئے ۔۔۔؟ بالآخر یہ راز کھلا کہ اُس ہوٹل میں جہاں یہ معصوم بچے اپنی ماں کی ساتھ کھانا کھانے گئے تھے وہاں اُن کی سٹور میں چار سال پرانا گوشت بھی موجود تھا اور اس زہریلی خوراک نے دو پیارے پیارے معصوم بچوں کو اُن کے ماں باپ سے چھین لیا ۔۔۔ بلاشبہ ہم سب کسی نہ کسی رنگ میں، کسی نہ کسی انداز میں بے ایمانی میں ملوث ہیں لیکن جہاں بات خوراک کی ہو وہاں کم از کم ہمیں انسان بن کر سوچنا چاہئے لیکن بڑے دکھ کی بات ہے کہ سب سے زیادہ دو نمبری کھانے پینے کے کاموں میں ہو رہی ہے ۔۔۔ آپ سنتے آئے ہوں گے لاہور میں ایسے ہی ہوٹلوں میں گدھے تک کا گوشت انسانوں کو کھلا ڈالا گیا باقی زیر زمین کیسی کیسی ملاوٹیں اور دو نمبریاں ہو رہی ہیں ۔۔۔ خدا کی پناہ ۔۔۔؟!

ہمارے نہایت کنجوس دوست ’’چوہدری ظفر اللہ‘‘ نے دو موٹر سائیکل رکھے ہوئے تھے دونوں کا رنگ ایک، ماڈل بھی ایک ۔۔۔؟

ایک بندہ ۔۔۔ موٹر سائیکل دو؟ ہماری بھابھی صاحبہ تو موٹر سائیکل چلانا نہیں جانتی ۔۔۔ پھر چوہدری تم نے یہ دو عدد موٹر سائیکل کیوں رکھے ہوئے ہیں ۔۔۔؟

’’ایک سردیوں والا، ایک گرمیوں والا۔‘‘ چوہدری ظفر اللہ نے بن سوچے جواب دیا۔ میں نے اس منطق پر کافی غور کیا مگر کوئی نتیجہ نہ نکل سکا اور میں چپ کر گیا۔؟ یہ تو وہی بات ہو گئی ۔۔۔ کہ جھوٹ سردیوں میں بولا جائے یا جھوٹ گرمیوں میں بولا جائے۔ جھوٹ صبح بولا جائے یا جھوٹ شام کو بولا جائے ’’جھوٹ جھوٹ ہوتا ہے۔ اور فساد - فتنہ اور نفرت پیدا کرتا ہے‘‘ ۔۔۔

’’جھوٹ‘‘ چھوٹا بولے ۔۔۔ ’’جھوٹ‘‘ بڑا بولے ۔۔۔ جھوٹ تو جھوٹ ہوتا ہے۔ جھوٹ جلسے میں بولا جائے ۔۔۔ جھوٹ دھرنے میں بولا جائے ۔۔۔ بولتے ہوئے مشکل ضرور ہوتی ہے۔

استاد کمر کمانی نے ایک ساتھ کئی قسم کی وضاحتیں کر ڈالیں ۔۔۔

آجکل جو پراڈکٹ سب سے زیادہ بک رہی ہے وہ یہی ہے یعنی ’’جھوٹ‘‘ ۔۔۔ یہ پراڈکٹ اتنی ’’عام‘‘ ہے کہ اس کا ذائقہ ’’آم‘‘ سے بھی زیادہ مزیدار ہے۔ پہلے لوگ جھوٹ بولنے سے پہلے سوچتے تھے ۔۔۔ کہ کہیں دوبارہ بولنا پڑ گیا تو لفظ ادھر سے اُدھر نہ ہو جائیں۔ اب یہ کام ’’فی البدیہ‘‘ ہوتا ہے اور لگا تار ہوتا ہے اور ۔۔۔ اور بے شمار ہوتا ہے۔

میں نے بچے کے جوتے خریدے ۔۔۔ دوکاندار نے تیرہ سو روپے لے لیے۔ گھر آ کے پتہ چلا کہ ایک پاؤں کا جوتا سائز میں سات نمبر اور دوسرے پاؤں کا سائز میں گیارہ نمبر آ گیا ہے۔ میں تبدیل کروانے گیا تو رسید گھر بھول گیا۔ پتہ چلا کوئی اور گاہک بھی ایسے ہی سائز کے دو جوتے لے گیا ہے؟ نہ ہمارے کام آئے نہ اس کے کام ۔۔۔ وہ بھی ’’خوش‘‘ ۔۔۔ ہم بھی ’’خوش‘‘ اور دوکاندار بھی ’’خوش‘‘ ۔۔۔

بیٹے کے اصرار پر میں بازار گیا اور ڈرتے ڈرتے دوکاندار کو اُس کی غلطی کا احساس دلاتے ہوئے کہا ۔۔۔

بھائی اب یہ واپس کر لو ۔۔۔

’’ہمارے کس کام کے؟ ویسے آپ کو چاہیے تھا آنکھیں کھول کے دیکھتے؟‘‘ ۔۔۔ اُس نے غصے سے کہا۔

اور اپنے بارے میں کیا خیال ہے ۔۔۔

میری درخواست پر اُس نے بُرا منایا ۔۔۔ اور جوتے پرے پھینکے اور چھ سو روپے واپس کر دئیے ۔۔۔؟

میں نے سو سو کے چھ نوٹ غور سے دیکھے اور پریشان ہو گیا ۔۔۔ ؟

’’جی یہ کیا ہے؟‘‘ میرے سوال پر پھر غصہ کر گیا ۔۔۔

’’میرے پاس آپ جیسے گاہکوں کے لئے جوتے نہیں ہیں ۔۔۔ ایسے گاہک ہمیں نہیں چاہیں‘‘ وہ بولا ۔۔۔

’’تو جناب پیسے تو پورے دیں۔؟‘‘ ۔۔۔ میں نے چھ سو روپے واپس کرتے ہوئے کہا۔

’’آپ کل اس جوڑے کے چھ سو روپے ہی دے کر گئے ہوں گے۔‘‘ ۔۔۔ وہ بولا (کافی سوچتے ہوئے سر کجھاتے ہوئے) ۔۔۔

’’اوہ ۔۔۔ میاں ۔۔۔ تم دوکاندار ہو یا چور ۔۔۔‘‘ میں نے کہا تو وہ لڑنے پر آ گیا۔ جھگڑنے لگا ۔۔۔

’’کل تو تم نے اس جوڑے کے تیرہ سو روپے لیے ہیں۔؟‘‘ میں نے وضاحت کی اور جیب میں ہاتھ ڈالا ۔۔۔ یہ لو رسید ۔۔۔ حالانکہ رسید تو میں گھر بھول گیا تھا۔

وہ کھسیانہ ہو گیا ۔۔۔ شرمندگی محسوس کرنے لگا ۔۔۔ ’’کتنے پیسے دوں؟‘‘ (اُس نے گھبراہٹ میں پوچھا اور ساتھ نصیحت بھی کی کہ ’’تم لنڈے بازار جاؤ بیٹے کو ۔۔۔ جوتے لنڈے سے لے کر دیا کرو۔‘‘) ۔۔۔

’’تین ہزار‘‘ میں نے جواب دیا۔(آپ امید ہے میری اس چالاکی پر غور نہیں کریں گے؟)۔

اُس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ۔۔۔

اُس نے تین ہزار تھمائے ۔۔۔ اور منہ پرے کر لیا۔

اور میں نے تین ہزار روپے تھامے، چپکے سے نکل آیا ۔۔۔ مجال ہے جو میں نے پیچھے مڑ کے دیکھا ہو؟

ہے ناں مزے کی بات؟

ویسے میں اب تک اس مخمصے کا شکار ہوں کہ جھوٹا ’’وہ‘‘ تھا یا ’’میں‘‘ ۔۔۔

آپ کا کیا خیال ہے ویسے ۔۔۔

اس نازک مسئلے پر ۔۔۔؟

سمجھ آئے تو مجھے بھی ضرور بتائیے گا؟ شکریہ!!!

کیونکہ ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ ’’جھوٹے پر خدا کی لعنت‘‘۔


ای پیپر