شاہین ایئر لائن کے ملازمین کو پانچ ماہ سے تنخواہ نہ مل سکی 
14 نومبر 2018 (15:05) 2018-11-14

اسلام آ با د :تر جمان شا ہیں ایئر لا ئنز نے کہا ہے کہ پانچ مہینوں سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ایئرلائن کے ملازمین خصوصاً نچلے طبقے کے ملازمین ابتر حالات کا شکار ہیں۔ لوگوں کے گھر چولہے جلنے مشکل ہوگئے ہیں علاج معالجے کے لئے پیسے نہیں ہیں کافی فیملیز نے اپنے بچے سکول سے اٹھا لئے ہیں کرایہ نہ دینے کی وجہ سے مالک مکان نے گھر خالی کرادیئے ہیں۔ ملازمین کے اس معاشی استحصال کا ذمہ داران سراسر شاہین ایئرلائن کے مالکان ہیں اس لئے ہم چیف جسٹس صاحب سے دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ چار ہزار ملازمین کی دل کی آوز بن کر ان کی د اد رسی کریں اور ہمارا حق ہمیں دلائیں۔

 شا ہیں ایئر لا ئنز کے تر جمان کیپٹین نعمان مظہر اور کیپٹین اظہر کی جا نب سے جا ری کر دہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایئرلائن پاکستان کی دوسری بڑی ایئرلائن تھی جس کے پیشہ وارانہ فلائٹ آپریشن مسافروں کے اس پر اعتماد اور اطمینان کے مظہر تھے اس لئے دیگر ایئرلائن کے مقابلے میں شاہین ایئرلائن کے مسافروں کی تعداد بائیس فیصد زیادہ تھی۔ جب اس ایئرلائن کا وجود عمل میں آیا تو اس کے پاس صرف دو جہاز تھے ایئرلائن کے ملازمین کی شب و روز انتھک محنت اور جدوجہد نے انہیں اٹھارہ جہازوں تک پہنچا دیا۔ شاہین ایئرلائن کو سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے حج آپریشن عمدگی سے انجام دینے پر بہترین ایئرلائن کا خطاب ملا۔ پھر اچانک ایک سطح پر کچھ بے قاعدگیاں سامنے آنے لگیں اور پھر ان کو دیکھنے اور سننے والے چشم دید گواہ بھی سامنے آنے لگے کچھ لوگوں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کے مصداق کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

آر پی ٹی لائسنس کے حصول میں دشواریاں اور شاہین ایئرلائن کے سول ایوی ایشن سے کشیدہ حالات کی بھی خبریں آنے لگیں اور معمول کے فلائٹ آپریشن کے باوجود پیسوں کی ترسیل میں بھی کمی آنا شرو ہوگئی تنخواہ اور الاؤنسز رک گئے ہوٹلوں نے فضائی عملہ کو پہلے تو شکایات کیں اور پھر فضائی عملے کو واپس کرنا شروع کردیا۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر ملکی ہوٹلوں کا عملہ بھی شکایات سنانے لگا۔ کبھی ملکی و غیر ملکی پٹرول کمپنیاں فیول دینے سے انکار کرتیں اور کبھی غیر ملکی سپورٹ نے ایئرپورٹس پر بندشیں لگانا شروع کیں۔ سی اے اے نے بھی ایئرپورٹ سروسز دینے سے انکار کردیا۔ یہ حالات اس بات کی غمازی کررہے تھے کہ مالکان تمام تر پیسہ کسی اور ہی مصرف میں لارہے تھے جس کی بازگزشت زبان و زدو کام میں منی لارنڈنگ کی صورت میں سنائی دینے لگی۔ ایئرلائن کے تمام تر کام کریڈٹ پر چلنے لگے جس سے ایئرلائن مقروض ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ مسافروں سے جمع ہونے والے ٹیکس بھی ادا نہ کئے گئے۔ فلائٹ آپریشن بند کردیئے گئے اور لیز پر لئے گئے جہاز کی ادئایگی کی ناہندگی سے تمام نظام درہم برہم ہوگیا۔ ایف بی آر اور سی اے اے نے شاہین ایئرلائن کے مالکان سے پوچھ گچھ کے لئے ای سی ایل میں دینے کا فیصلہ کیا تاہم دونوں برادران دبئی روانہ ہوگئے اس وقت انہیں نہ اپنی ایئرلائن کا خیال آیا اور نہ ہی ہزاروں ملازمین کی حالت زار کا جو تین ماہ سے بغیر اجرت کام کررہے تھے۔

ان کے بعد جاوید صہبانئی نے بحیثیت قائم مقام چیئرمین حج آپریشن کی کچھ فلائٹس کرائیں جب ستمبر 2018 حج کی پوسٹ فلائٹس کی ضرورت ہوئی تو پائلٹس اور انجینئرز نے اس آپریشن کو کرنے سے صاف منع کردیا لیکن حجاج کی مشکلات و جاوید صہبائی کے وعدے کے پیش نظر حج آپریشنز کو بلا معاوضہ مکمل کیا گیا ۔ سات نومبر کو ایک میٹنگ میں یقین دہائی کرائی گئی کی تنخواہیں دی جائیں گی۔ اب پانچ مہینوں سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے شاہین ایئرلائن کے ملازمین خصوصاً نچلے طبقے کے ملازمین ابتر حالات کا شکار ہیں۔ لوگوں کے گھر چولہے جلنے مشکل ہوگئے ہیں علاج معالجے کے لئے پیسے نہیں ہیں کافی فیملیز نے اپنے بچے سکول سے اٹھا لئے ہیں کرایہ نہد ینے کی وجہ سے مالک مکان نے گھر خالی کرادیئے ہیں۔ ملازمین کے اس معاشی استحصال کا ذمہ داران سراسر شاہین ایئرلائن کے مالکان ہیں اس لئے ہم چیف جسٹس صاحب سے دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ چار ہزار ملازمین کی دل کی آوز بن کر ان کی د اد رسی کریں اور ہمارا حق ہمیں دلائیں۔ 


ای پیپر