سری لنکن سپریم کورٹ نے اسمبلی تحلیل کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیدیا
14 نومبر 2018 (12:34) 2018-11-14

کولمبو: سری لنکا کی سپریم کورٹ نے صدر سری سینا کے اسمبلی تحلیل کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دے کر اسمبلی بحال کردی۔ سیاسی بحران کا ڈراپ سین ہوگیا۔چیف جسٹس نالن پریرا کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے برطرف وزیراعظم کے درخواست کی سماعت کی صدر کی جانب سے 5 جنوری کو نئے الیکشن کرانے کے اقدام کو روک دیا۔

سری لنکا کے صدر متھری پالا سری سینا نے 28 اکتوبر کو اپنے ہی حلیف وزیراعظم رنیل وکرما سنگھے کو برطرف کر کے اپوزیشن لیڈر مہندرا راجاپاکسے کو نیا وزیراعظم مقرر کردیا تھا۔ جسے وکرما سنگھے نے ماننے سے انکار کردیا تھا۔وکرما سنگھے کے صدر کا فیصلہ نہ ماننے اور وزیراعظم ہاوس خالی نہ کرنے پر صدر سری سینا نے پارلیمنٹ کو معطل کردیا تھا۔

صدر سری سینا کے مقرر کردہ وزیراعظم پارلیمنٹ سے مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکے جس کے بعد 10 نومبر کو صدر سری سینا نے پارلیمنٹ ہی تحلیل کردی اور 5 جنوری کو نئے انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔صدر سری سینا کے فیصلوں کے خلاف سابق وزیراعظم وکرما سنگھے نے سپریم کورٹ سے رجوع کر کے انتخابات رکوانے اور اسمبلی کی بحالی کی استدعا کی تھی۔


ای پیپر