جما لے کی ما ں اور مائوں کا عالمی دن
14 May 2020 (23:10) 2020-05-14

کل جما لے کے گھر کے سامنے ایک نئی چمکتی ہوئی گاڑی کھڑی تھی۔ سارے گائوں میں اس کا چرچا تھا۔ جانے کون ملنے آیا تھا؟ میں جانتا تھا جما لا پہلی فرصت میں آکر مجھے سارا ماجراا ضرور سنائے گا۔ وہی ہوا شام کو گھر پہنچا ہی تھا کہ جما لا چلا آیا۔ حال چال پوچھنے کے بعد کہنے لگا: صاحب جی کئی سال پہلے کی بات ہے آپ کو یاد ہے ماسی نوراں جس کا خا وند فو ت ہو چکا تھا اور وہ جو بھٹی پر دانے بھونا کرتی تھی، جس کا ایک ہی بیٹا تھا وقار۔ میں نے کہا ہاں یار میں اپنے گائوں کے لوگوں کو کیسے بھول سکتا ہوں۔ اللہ آپ کا بھلا کرے صاحب جی، وقار اور میں پانچویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ سکول میں اکثر وقار کے پیٹ میں درد ہو جا تا تھا ۔ اور وہ سر جھکا ئے روتا رہتا تھا۔ ماسٹر جی ڈانٹ کر اسے گھر بھیج دیتے تھے کہ جا حکیم کو دکھا اور دوائی لے۔ اک دن میں آدھی چھٹی کے وقت وقار کے پاس بیٹھا تھا میں نے اماں کے ہاتھ کا بنا پراٹھا اور اچار کھولا۔ صاحب جی آ ج بھی جب کبھی بہت بھوک لگتی ہے نا تو سب سے پہلے اماں کے ہاتھ کا بنا پراٹھا ہی یاد آتا ہے ۔ پتہ نہیں صاحب جی! اماں کے ہاتھ میں کیا جادو تھا۔ صاحب جی! وقار نے پراٹھے کی طرف دیکھا اور نظریں پھیر لیں۔ اس ایک نظر نے اس کے پیٹ کے درد کے سارے راز کھول دیئے۔ میں نے زندگی میں پہلی بار کسی کی آنکھوں میں آ نتو ں کو بھوک سے بلکتے دیکھا۔ صاحب جی وقار کی فاقوں سے تر ستی آ نتیں آنسوئوں کے سامنے ہاتھ جوڑے بیٹھی تھیں۔ جیسے کہتی ہوں اک آ نسو بھی گرا تو بھرم ٹوٹ جائے گا۔ وقار کا بھرم ٹوٹنے سے پہلے ہی میں نے اس کی منتیں کرکے اس کو کھانے میں ساتھ ملالیا۔ پہلے لقمے کے پیٹ میں جاتے ہی وقار کی تڑپتی آ نتوں نے آنکھوں کے ذریعے شکریہ بھیج دیا۔ میں نے چپکے سے ہاتھ روک لیا اور وقار کو باتوں میں لگائے رکھا۔ اس نے پورا پراٹھا کھالیا اور پھر اکثر ایسا ہونے لگا میں کسی نہ کسی بہانے وقار کو کھانے میں ملا لیتا۔ وقار کی بھوکی آنتوں کے ساتھ میرے پراٹھے کی پکی یاری ہوگئی اور میری وقار کے ساتھ۔ جا نے کس کی یاری زیادہ پکی تھی؟ میں سکول سے گھر آتے ہی بھوک بھوک کا شور مچا دیتا۔ ایک دن اماں نے پوچھ ہی لیا بیٹا تجھے ساتھ پراٹھا بنا کے دیتی ہوں کھاتا بھی ہے کہ نہیں؟ اتنی بھوک کیوں لگ جاتی ہے تجھے؟ تو آتے ہی بھوک بھو ک کا شور مچا دیتا ہے، جیسے صدیوں کا بھوکا ہو۔ میں کہاں کچھ بتانے والا تھا صاحب جی۔ پر اماں نے اگلوا کے ہی دم لیا۔ ساری بات بتائی۔ اماں تو سن کر بلک کر رو پڑی اور کہنے لگی کل سے دو پراٹھے بنا دیا کروں گی۔ میں نے کہا اماں پراٹھے دو ہوئے تو وقار کا بھرم ٹوٹ جائے گا۔ میں تو گھر آکر کھا ہی لیتا ہوں۔ صاحب جی اس دن سے اماں نے پراٹھے کی تہیں بڑھا دیں اور مکھن کی مقدار بھی۔ کہنے لگی وہ بھی میرے جیسی ماں کا بیٹا ہے۔ مامتا تو سب کی سا نجھی ہو تی ہے جما لے۔۔۔ مائیں بھی کیا علیحدہ علیحدہ ہو تی ہیں ؟

میں سوچ میں پڑ گیا۔۔ پانچویں جماعت میں پڑھنے والے جما لے کو بھرم رکھنے کا پتہ تھا۔ بھرم جو ذات کا مان ہوتا ہے ۔۔ اگر ایک بار بھرم ٹوٹ جائے تو بندہ بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ ساری زندگی اپنی ہی کرچیاں اکٹھی کرنے میں گزر جاتی ہے اور بندہ پھر کبھی نہیں جڑ پاتا۔ جما لے کو پانچویں جماعت سے ہی بھرم رکھنے آتے تھے۔ اس سے آگے تو وہ پڑھ ہی نہیں سکا تھا او رمیں پڑھا لکھا

اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ۔۔ مگر سچ کی کہو ں تو جیسا بھر م جما لا رکھنا جا نتا تھا ۔۔۔ خیر، یہا ں سے میں جما لے کے بیا ن کا آگے بڑھا تا ہو ں۔وہ کہنے لگا:

صاحب جی! اس کے بعد اماں بہانے بہانے سے وقار کے گھر جانے لگی۔ ’’دیکھ نوراں ساگ بنایا ہے چکھ کر بتا کیسا بنا ہے؟‘‘ وقار کی اماں کو پتہ بھی نہ چلتا اور ان کا ایک وقت بھی گذر جاتا۔ صاحب جی وقار کو پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ پھر اماں نے مامے سے کہہ کر ماسی نوراں کو شہر میں کسی کے گھر کام پر لگوادیا۔ تنخواہ وقار کی پڑھائی اور دو وقت کی روٹی طے ہوئی۔ اماں کی زندگی تک ماسی نوراں سے رابطہ رہا۔ اماں کے جانے کے چند ماہ بعد ہی ماسی بھی گزر گئی، اس کے بعد رابطہ ہی کٹ گیا۔ کل وقار آیا تھا۔ ولایت میں رہتا ہے جی۔ واپس آتے ہی ملنے چلا آیا۔ پڑھ لکھ کر بڑا افسر بن گیا ہے جی۔ مجھے لینے آیاہے صاحب جی۔ کہتا ہے تیرے سارے کاغذات ریڈی کر کے پاسپورٹ بنوا کر تجھے ساتھ لینے آیا ہوں اور ادھر میری اماں کے نام پر لنگر کھولنا چاہتا ہے جی۔ صاحب جی! میں نے حیران ہوکر وقار سے پوچھا ۔۔ یار لوگ سکول بنواتے ہیں، ہسپتال بنواتے ہیں اور تو لنگر ہی کیوں کھولنا چاہتا ہے اور وہ بھی اماں کے نام پر؟کہنے لگا جما لے بھوک بڑی ظالم چیز ہے، چور، ڈاکو بنادیتی ہے۔ خالی پیٹ پڑھائی نہیں ہوتی۔ پیٹ کے درد سے جان نکلتی ہے۔تیرے سے زیادہ اس بات کو کون جانتا ہے جما لے۔ سارے آنکھیں پڑھنے والے نہیں ہوتے اور نہ ہی تیرے جیسے بھرم رکھنے والے۔ پھر کہنے لگا یار جما لے تجھے آج ایک بات بتائوں؟ پگلے میں سب جانتا ہوں۔ چند دنوں کے بعد جب پراٹھے کی تہیں بڑھ گئی تھیں اور مکھن بھی۔ آدھا پراٹھا کھا کے ہی میرا پیٹ بھر جاتا تھا۔ اماں کو ہم دونوں میں سے کسی کا بھی بھوکا رہنا منظو رنہیں تھا جما لے ۔ وقار پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔ اماں یہاں بھی بازی لے گئی صاحب جی! اور میں بس اس سوچ میں ڈوب گیا کہ ترستی آ نتو ں اور پراٹھے کی یاری زیادہ پکی تھی جما لے اور وقار کی۔ جما لا کہہ رہا تھا مجھے اماں کی وہ بات آج بھی یاد ہے صاحب جی ۔۔۔ اس نے کہا تھا مامتا تو سب کی سا نجھی ہو تی ہے جمالے۔ مائیں بھی بھی کیا علیحدہ علیحدہ ہو تی ہیں؟ ۔۔ اس کے ہاتھ تیزی سے پراٹھے کو ول دے رہے تھے۔ دو روٹیوں جتنا ایک پیڑا لیا تھا اماں نے صاحب جی۔ میں پاس ہی تو چونکی پر بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا۔

قا رئین کرام ،اس دل پذیر واقعہ کو یہاں بیان کرنے کی ضرورت یوں پیش آئی کہ چند روز پہلے باقی ساری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی مائوں کا عالمی دن منایا گیا۔ جس کا مقصد ماں کے مقدس رشتے کی عظمت و اہمیت کو اجاگر کرنا اور ماں کے لیے عقیدت، شکر گزاری اور محبت کے جذبات کو فروغ دینا تھا ۔ مائوں کو پروردگار عالم نے محبت کے ایسے جذبے سے نوازا ہے، روئے ارض پہ جو کسی بھی اور محبت سے بڑھ کر ہے۔ یہ محبت مضبوط ہوتی ہے اور نرم مزاج بھی، بلند ہوتی ہے اور خاموش بھی کیونکہ ماں کی محبت بے لوث ہوتی ہے۔ یہ اپنے بچے کے لیے کیے گئے کام کا صلہ یا اس پر کیے گئے احسانات کا بدلہ نہیں چاہتی۔ یہ بچے کو اپنی ضرورت کے مطابق نہیں ڈھالتی، خود بچے کی ضرورت کے مطابق ڈھل جاتی ہے، جما لے کی ما ں کی طر ح۔ خود بچہ بن جاتی ہے۔ ایک لمحے کے لیے سوچیے کہ یہ کیسا جذبہ ہے کہ بھوک لگی ہو اور کھانا کم ہو تو ماں خود نہیں کھاتی، بچے کو کھلاتی ہے۔ اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے مائوں کے قدموں تلے جنت رکھی ہے، یعنی ماں کی خدمت کرنے والا ہی جنت میں جائے گا۔ اسی لیے تو پنجابی کا یہ قول ایک محاورے کی شکل اختیار کرچکا ہے کہ مانواں ٹھنڈیاں چھاواں۔جہاں تک ماں اور بچے کے تعلق کا معاملہ ہے تو مسلم ممالک میں یہ خاصا مضبوط ہے کہ نہ ماں کو اپنے بچوں کو دیکھنے بنا چین آتا ہے اور نہ ہی بچے ماں کے بغیر رہ سکتے ہیں۔ یہ مغرب کا ایشو ہے کہ وہ مائوں کا عالمی دن مناتا ہے۔ مسلم دنیا میں تو ہر دن ہی مائوں کا دن ہوتا ہے، کیونکہ ماں ہی ہر گھر کا مرکز و محور ہوتی ہے جس کے گرد پوری فیملی کا نظام چلتا ہے۔ درحقیقت یہ ماں ہی ہے جو گھر بناتی ہے، اسے سجاتی اور سنوارتی ہے۔ ماں کی گود بچے کے لیے پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔ کسی کا کیا خوب قول ہے کہ آپ مجھے پڑھی لکھی مائیں دیں، میں آپ کو پڑھا لکھا معاشرہ دوں گا۔ یہ دراصل خواتین کی تعلیم پر زور دیا گیا، کہ ایک پڑھی لکھی مستقبل میں ماں بنے گی تو بچوں کی بہتر نشوونما اور تعلیم و تربیت کرسکے گی۔سماجی حوالے سے بات چیت کی جائے تو حکومت کو چاہیے کہ ماں بننے والی خواتین کے لیے صحت و صفائی کی سہولتیں بڑھانے کے لیے اقدامات کرے کیونکہ ہمارے ملک میں مناسب سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے آج بھی ماں بننے والی خواتین کی ایک بڑی تعداد ہر سال زچگی کے دوران اللہ کو پیاری ہوجاتی ہیں۔ سہولتیں بڑھا کر اموات کی اس شرح کو کم کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں جما لے اور وقا ر کی طر ح ما ئوں کے تقد س کو یا د رکھنا ہو گا۔


ای پیپر