دو سال سے نیب کا گاہک ہوں : شاہد خاقان عباسی
14 May 2020 (14:08) 2020-05-14

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ دو سال سے نیب کا گاہک ہوں ۔ نیب نے اثاثوں سے متعلق سوالات کیے ہیںنیب نے ٹیکس کے بارے میں پوچھا جو میں چاہتا تھا کہ نیب پوچھے20 سال سے سوالات جوابات اور پیشیوں کا سلسلہ جاری ہے چیئرمین نیب اجلاس بلائیں گے اور پھر مجھے گرفتار کرا دیں گے دو سال سے نیب کا گاہک ہوں نیب قانون کا مسودہ حکومت کو دے دیا ہے۔

شاہد خاقانی عباسی نے کہا کہ مسودہ میں نیب قانون میں موجود خامیوں کو دور کیا گیا ہے احتساب کو نہیں خامیوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں نیب نے اب بچوں اور بہو کو بھی نوٹس بھیج دیا ہے۔ نیب نے پوچھا آپ ٹیکس ادا کرتے ہیں یا نہیں، نیب نے ٹیکس سے متعلق سوال پہلے کبھی نہیں کیا۔ ہمیشہ یہی ہوتا ہے گھر بیٹھے رہیں نیب نہیں بلائے گا، 2 تقاریر، پریس کانفرنس یا ٹی وی انٹریو کرلیں نیب بلا لیتا ہے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا شہزاد اکبر پریس کانفرنسز کرتے ہیں، پتا نہیں کا تعلق ایف آئی اے سے ہے یا عمران خان نے کوئی نیا ادارہ بنایا ہے، ایک نیا گھر لاہور میں بنا ہے اس کی تحقیقات کرلی جائیں وہ کس نے بنایا ہے ۔ نیب کی جانب سے دئیے گئے ضمنی سوالنامے کا تحریری جواب جلد دونگا۔دوسری جانب فلائٹس کی بندش کے باعث غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق ریفرنس میں شاہد خاقان عباسی عدالت میں پیش نہ ہو سکے۔ عدالت نے شاہد خاقان کی حاضری سے استثنی کی درخواست منظور کرلی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر تمام ملزمان کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔

یادرہے کہ قومی احتساب بیورو( نیب ) نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنماء سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو ایل این جی کیس میں ضمنی سوالنامہ دے دیا، سوالنامے میں ٹیکس،بنک اکاونٹس کیس کی تفصیل، اہلخانہ کے اثاثوں کا ریکارڈ بھی مانگا گیا ہے ، نیب کی جانب سے سوالنامے میں کہا گیا ہے کہ اکاونٹ میں اربوں روپے کی ٹرانزیکشنز کس مد میں ہوئیں ؟ ٹرانزیکشنز ایل این جی معاہدوں کے دوران ہوئیں ؟ جسمانی ریمانڈ کے دوران جن سوالات کے جواب نہیں دیئے گئے وہ بھی دیں ۔


ای پیپر