میں اور میرے موضوعات
14 May 2020 (14:01) 2020-05-14

آج بدھ ہے… قلم ہاتھ میں ہے اورکاغذوں کا دستہ سامنے… کالم کے نام پر خانہ پری کرنی ہے جو کل جمعرات کواخبار میں چھپے گا… دفتر والے کاپی روک کر انتظار میں بیٹھے ہیں… پانچ بجے بعد از عصر کی ڈیڈلائن ہے… میں تو گنہگار اور دنیوی اغراض کا مارا ہوا بندہ ہوں… لیکن میرے ساتھیوں نے وقت پر افطار کرنا ہے… نماز مغرب ادا کرنی ہے… کچھ نے گھر جا کر اور بچوں کے درمیان بیٹھ کر ان روح پرور لمحوں سے گزرناہے… کچھ کی ڈیوٹی رات دیر تک چلے گی… لیکن افطار اور نماز کا وقت تو وہ بھی آگے پیچھے نہیں کر سکتے… مجھے کوئی موضوع نہیں مل رہا… اسی عالم میں ایک ’’دانائے راز‘‘ کو فون کیا… عرض کناں ہوا حضرت کچھ رہنمائی فرمایئے آج کس موضوع پر خامہ فرمائی کروں… ہنس کر کہنے لگے تمہارے لئے بھی یہ کوئی مسئلہ ہے… کئی برسوں سے اپنے تئیں ایک ہی حقیقت کا پردہ چاک کرتے آرہے ہو… ایک رونا ہے جو مسلسل رو رہے ہو… یعنی آئین مملکت کی بالادستی کو تسلیم نہیں کیا جاتا… اس کی کارفرمائی نظر نہیں آ رہی… الٹا پھینکا جاتا ہے یا بار بار مداخلت کی جاتی ہے سیاستدانوں میں سے جو برسراقتدار ہیں وہ کچھ مقتدر قوتوں کے خوف کے مارے اور کچھ اپنی کمزوریوں کے سبب اسے خاطر میں نہیں لاتے… منتخب پارلیمنٹ کی حکمرانی کو عملاً تسلیم نہیں کرتے… مجبوری کے تحت اجلاس بلاتے ہیں… وزیراعظم خواہ کوئی ہو اجلاس میں تشریف نہیں لاتا… عوامی نمائندوں کا سامنا نہیں کرتا… بذات خود ان کے سوالوں کا جواب دینے کی جرأت نہیں کرتا… اپوزیشن والے جو آئینہ دکھانے کے لئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں ان کی جائز تنقید بھی برداشت نہیں کرتا… وجہ اس کی ایک تو وزیراعظم کی اپنی ناقص کارکردگی ہوتی ہے دوسری وہ جو ملک کی مقتدر قوتیں ہیں، اپنے آپ کو اقتدار حقیقی کی مالک سمجھتی ہیں… دستور ریاست کو پرکاہ کی حیثیت نہیں دیتیں… منتخب پارلیمنٹ کی حیثیت ان کی نگاہوں میں ناگزیر برائی سے زیادہ کا درجہ نہیں رکھتی… وزیراعظم کو چونکہ ہر لمحہ ان قوتوں کی خوشنودی منظور خاطر ہوتی ہے لہٰذا وہ اور اس کے قریب ترین ساتھی زیادہ وقت ان کے ساتھ مشاورت بلکہ صحیح تر الفاظ میں عملی ہدایات وصول کرنے میں مصروف رہتے ہیں… پارلیمنٹ کے لئے وقت کیونکر نکالیں… رہ گیا آئین مملکت جس طرح تمہارے الفاظ میں ’’والیان ریاست‘‘ کی نظروں میں اس کی کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ قدروقیمت نہیں اسی طرح ان کی بیساکھیوں پر برسراقتدار آنے والے وزیراعظم بھی اسے زیادہ وقعت نہیں دیتا… لہٰذا ملک کھوکھلا ہوا جا رہا ہے ہر آنے والے دن پہلے سے زیادہ مقروض ہوتا ہے… معاشی ترقی اور اقتصادی پائیداری کا سہانا خواب شرمندہ تعبیررہتا ہے… ساٹھ ستر سال پہلے یہ کیفیت آج بھی مختلف نہیں … دوست عزیز نے طنزیہ لہجے میںکہا یہ ہے تمہارا بنیادی موضوع آج بھی اس کے کسی پہلو کو لے لو… پاکستان کی ستر سالہ تاریخ کے کچھ واقعات اور حوالے تمہیں ازبر ہیں… آج بھی ان میں سے دو ایک کی تفصیل باانداز نو بیان کر دو… ایوب خاں کی جی بھر کر مذمت کرو… جنرل یحییٰ کی مٹی پلید کرو… ضیاء الحق کو طنزواستہزاء کا موضوع بنائو… جنرل مشرف ان سب میں سے ابھی تک زندہ ہے اس کے ماتھے پر آرٹیکل 6 کے تحت حسب معمول غداری کا ٹھپہ لگاتے رہو… اتفاقات زمانہ نے بھٹو سے ایٹمی پروگرام شروع کرا دیا… اگرچہ ضیاء الحق بھی اس کی حفاظت کرتا رہا مگر نوازشریف کو باامر مجبوری اس کا بٹن دبانا پڑا… پس یہ دونوں تمہارے ہیرو ٹھہرے… دفاع وطن کی حقیقی ضامن ان کی پالیسیوں کو قرار دیتے چلے آ رہے ہو سو آج کسی نہ کسی حوالے سے اس وظیفے کو دھرا دو… عمران خان تمہیں ایک آنکھ نہیں بھاتا اسے طاقتور عناصر کا آلہ کار لکھتے چلے آ رہے ہو سو آج بھی دو حرف بھیج دو… یہ سب کچھ فرمانے کے بعد دوست عزیز نے ایک مرتبہ پھر طنز کی مار دیتے ہوئے کہا لو میں نے تمہاری مشکل حل کر دی… کالم جو تم لکھ سکتے ہو مکمل کر دیا… اب اسے اپنے الفاظ میں صفحہ قرطاس پر اتارو اور دفتر والوں کے حوالے کردو…

اے قارئین باتمکین مسئلہ بیچ میں یہ آن پڑا ہے اگر یہ ایک دوست یا فاضل پڑھنے والے کی رائے ہوتی تو میں اسے ہرگز قابل اعتنا نہ سمجھتا… میرے ساتھ تو عالم یہ ہے اوّل تو پڑھا کم جاتا ہوں… بہت بڑا حلقہ قارئین نہیں رکھتا باوجود اس کے کہ خدا جھوٹ نہ بلوائے گزشتہ پینتیس (35)

برسوں سے نوائے وقت، جنگ، روزنامہ پاکستان، ہفت روزہ زندگی میں لکھتا چلا آ رہا ہوں… پچھلے آٹھ سالوں سے روزنامہ ’’نئی بات‘‘ کا بانی گروپ ایڈیٹر ہوں… پنجاب یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات اور ابلاغیات کے پروفیسر کی خدمات سرانجام دی ہیں… سپیریئر یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کو اپنے ہاتھوں سے قائم کیا… اس کا بانی چیئرمین رہا… دو عدد کتابیں تصنیف کیں… بین الاقوامی اسفار کیے… دو مرتبہ امریکہ گیا… واشنگٹن کے ایک بڑے نام والے تھنک ٹینک کے تحت ہونے والے سیمینار سے خطاب کیا… جنرل اسلم بیگ مرزا کے ساتھ چین کادورہ کیا… بیجنگ کی وزارت خارجہ کے زیراہتمام بند کمرے کے سیمینار میں اپنا تحقیقاتی مقالہ پیش کیا… میں پاکستان کا واحد صحافی ہوں جس نے 12 دسمبر 1991ء کو سرزمین روس پر قدم رکھ کر اپنی آنکھوں سے دنیا کی دوسری سپر طاقت کے حصے بخرے ہونے کے تاریخی واقعے کا مشاہدہ کیا… ازبکستان اور تاجکستان کی ریاستوں کو آزاد ہوتے دیکھا… سمرقند و بخارا کے تاریخی آثار کی زیارت کی… چار مرتبہ ایران جانا ہوا اور جہاد کے دوران پانچ چکر لگے… جمہوریہ ترکی اور نیپال جانا ہوا… بطور صحافی میرے یادگار بیرونی دوروں میں سے تین بھارت کے بھی ہیں… 1991ء میں وہاں عام انتخابات ہو رہے تھے اچانک راجیو گاندھی کے قتل کی خبر آ گئی میں نے اپنے ایڈیٹر مرحوم مجید نظامی سے عرض کیا بھارت کی سیاست سے مجھے خاص دلچسپی ہے… اس وقت وہاں کے حالات ان کے براہ راست مشاہدے کے متقاضی ہیں… مجھے وہاں جانے کی اجازت دیجیے… مرحوم کو بھارت سے نفرت تھی لیکن میری تجویز پر اپنے ایک نمائندے کے سفر بھارت کا خرچہ برداشت کرنے کے لئے تیار ہو گئے… میں دہلی جا پہنچا… انتخابات ہوئے سب سے بڑی پارلیمانی جماعت کانگریس نے نرسمہا رائو کو وزیراعظم نامزد کیا… میں اگلے روز ان کے دفتر پہنچ گیا… تعارف کرایا… انٹرویو کی درخواست کی… وہ فوراً آمادہ ہو گئے لیکن کہا صرف لکھے ہوئے سوالوں کا لکھ کر جواب دوں گا… بعد میں بے شک آف دی ریکارڈ گفتگو کر لینا… میں نے فوراً سوالات لکھ دیئے… انہوں نے مسکراتے ہوئے قلم کاغذ پکڑ کر جواب رقم کر دیئے… پھر کھل کر گفتگو ہوئی… یہ سب کچھ رپورٹ ہو چکا ہے یہاں لکھنے کا مقصد یہ ہے میں غالباً واحد صحافی ہوں جسے ایک بھارتی وزیراعظم کا براہ راست انٹرویو کا موقع ملا… 1996ء میں ڈاکٹر مبشر حسن مرحوم اپنی پاک انڈیا تنظیم کے وفد کے ساتھ کولکتہ اور نئی دہلی لے گئے… یہاں بھی میں پاکستان کے صحافیوں میں سے واحد ہوں جس نے مغربی بنگال کے سولہ برس سے چلے آنے والے اور لیجنڈ کمیونسٹ رہنما سے کمیونزم کی ناکامی کے اسباب پر کھل کر تبادلہ خیالات کیا… اس ملاقات کا احوال بھی لکھا… کولکتہ میں منعقدہ ایک سیمینارکو بڑے دھڑلے کے ساتھ تنازع کشمیر پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا اور اس کا بھرپور دفاع کیا… واپسی پر دہلی میں قیام کے دوران اس وقت کے بھارتی وزیر خارجہ (جو بعد میں وزیراعظم بھی بنے) اندر کمار گجرال کے ساتھ ان کے دفتر (سائوتھ ہال) میں انٹرویو اور تبادلہ خیال کی دونشستیں ہوئی… 1999ء میں جب کارگل کے گولے پورے زوروشور کے ساتھ برس رہے تھے پاکستان کے وزیر خارجہ نئی دہلی گئے… شامی صاحب میرے چیف ایڈیٹر تھے اور میں ان کے ہفت روزہ زندگی کا ایگزیکٹو ایڈیٹر… شامی صاحب کے حکم پر وزیر خارجہ کی پریس پارٹی کے ساتھ تیسری مرتبہ نئی دہلی جانا ہوا… اسی دوران پنجابی کی نامور شاعرہ امرتا پریتم سے جو اب آنجہانی ہو چکی ہیں ان کے گھر میں جا کر ملنے کا موقع ملا… ان سب اسفار کے احوال چونکہ لکھ چکا ہوں لہٰذا یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں…

میں اتنی لمبی داستان بیان کر کے صرف یہ کہنا چاہتا ہوں ایک تو میرے موضوعات شروع دن سے متنوع رہے ہیں… عالمی سیاست سرد جنگ کی چپقلش، کمیونزم کا زوال اور اس کے اسباب، انقلاب ایران، افغانستان میں روسی افواج کی شکست کا احوال، پاک بھارت تعلقات کے مختلف پہلو، تنازع کشمیر، تحریک آزادی ہند اور قیام پاکستان کے مختلف ادوار، پاکستان کی دستوری تاریخ کے مراحل، مارشل لائوں کی ستیزہ کاریاں، مشرقی صوبے میں عوامی لیگ کی بغاوت اور ہماری فوجی شکست اور ستر سالوں میں سیاسیات پاکستان کا اتارچڑھائووغیرہ وغیرہ میں نے ان تمام موضوعات پر تفصیلاً لکھا ہے… لیکن مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی باک نہیں میں کبھی مقبول عام کالم نگار نہیں رہا، میری تحریروں کو عام پڑھنے والوں کے اندر وہ پذیرائی حاصل نہ ہو سکی جو میرے محترم ہم عصروں کا نصیب بنی… اس کی جو بھی وجہ رہی لیکن میں اس کا سبب اپنے اندر مؤثر اظہار کی کمزوری کو گردانتا ہوں… میرے اندر شائد وہ Communication Skills نہیں پائی جاتیں جن کا اس دور میں ملنا عام ہے، تاہم ایک نکتے کی وضاحت ازبس ضروری سمجھتاہوں… آئین مملکت یا دستور ریاست کو ملک کا انتظام و انصرام چلانے کے لئے Rules of The Game کا مقام اور درجہ حاصل ہے… رولز آف دی گیم کے بغیر آپ کرکٹ، ہاکی، فٹ بال یہاں تک کہ کبڈی نہیں کھیل سکتے، ریاست یا ملک کیسے چلائیں گے… ہمارے یہاں چونکہ ستر سال کی بدقسمت تاریخ کے دوران انہی رولز آف دی گیم جنہیں عوامی نمائندوں کا تیارکردہ آئین کہا جاتاہے بار بار پامال کی گئی… طاقتور عناصر نے اسے نخوت اور تکبر کے کے ساتھ بوٹوں تلے روند ڈالا… اگر یہ کاغذ کا ٹکڑا اپنی نامیاتی قوت اور عوامی طاقت کے زور پر آج بھی زندہ ہے تو اسی سے پاکستانی قوم کی فلاح و بہبود، ترقی اور کامیابی کے لئے اس کی ضرورت کا ادراک بھی کر سکتے ہیں… لیکن آج بھی اسے آزادی کا سانس نہیں لینے دیا جاتا… یہ قدم قدم پس پردہ طاقتوں کے دبائو کا شکار رہتا ہے، اس کے خلاف درون مے خانہ سازشیں جاری رہتی ہیں لیکن جب تک اس کی بالادستی اور اس کے تحت وجود میں آنے والے جمہوری اور منتخب اداروں کی بلاشرط حکمرانی کے آگے سر تسلیم خم کر نہیں دیا جاتا اس وقت تک یہ ملک جس کے اندر اس کے بانی نے سویلین سپرمیسی کو لازم قرار دیا تھا سخت ہچکولے اور گرم ہوا کے تھپیڑے کھاتا رہے گا… اس کی نائو ساحل تک نہ پہنچ سکے گی… بحران ختم ہونے کا نام نہیں لے گا… لہٰذا اگر اس کی اہمیت کو بار بار اجاگر کیا جاتا ہے اور باور کرانے کی مسلسل کوشش کی جاتی ہے کہ دستور ریاست کی سختی کے ساتھ پابندی کے بغیر ہم دنیا میں عزت و احترام اور عوام کے لئے حقیقی ترقی اور خوشحالی کا ایک قدم نہیں اٹھا سکتے تو یہ صرف حقیقت نفس امری کا اعادہ ہوتا ہے… قرآن کے الفاظ میں یاددہانی ہوتی ہے…


ای پیپر