پاکستانی معیشت پر کرونا وائرس بحران کے ممکنہ اثرات
14 May 2020 (14:00) 2020-05-14

وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو اس وقت دو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایک تو لاک ڈائون میں نرمی اوربازار کھولنے کے فیصلے کے بعد کرونا وائرس کے پھیلائو کو روکنااور دوسرا معیشت کوگہری کساد بازاری اور بحران سے نکالنا۔

جہاں تک پہلے چیلنج کا تعلق ہے تو پریشانی کی بات یہ ہے کہ لاک ڈائون میں نرمی کے ابتدائی چند دنوں کاتجربہ اورمشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ بہت کم لوگ ضابطہ اخلاق پر عمل کرتے ہوئے بازاروں کا رخ کر رہے ہیں۔ سڑکوں اور بازاروں میں سماجی فاصلے اور دیگر حفاظتی اقدامات کا خیال نہیں رکھا جا رہا۔ اس صورت حال میں یہ خدشہ اپنی جگہ موجود ہے کہ کرونا وائرس بہت تیزی سے پھیل سکتا ہے۔ اس وقت تک کرونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد (35 ہزار) 35000 سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 700 سے بڑھ گئی ہے۔

کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے ضابطہ اخلاق (SoPs) پر عمل درآمد کروانا ضروری ہے۔ ورنہ صحت اور معیشت کا کہیں زیادہ بڑا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ ہمیں اس صورت حال سے ہر صورت بچنا ہے جوامریکہ اور یورپ کے کئی ممالک میں پیدا ہوئی۔ حکومت کو ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کویقینی بنانے کے لئے اقدامات اٹھانا ہوں گے ورنہ صورت حال تیزی سے خراب ہو سکتی ہے اور حکومت کو مجبوراً دوبارہ لاک ڈائون کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومت کے لئے مشکل یہ ہے کہ اسے دونوں بحرانوں سے بیک وقت نبردآزما ہونا ہے۔ کرونا وائرس قابو سے باہر ہوتا ہے تو دوبارہ لاک ڈائون کرنا پڑے گا جس سے معیشت کا پہیہ دوبارہ سے رک جائے گا۔ حکومت کومعیشت کا پہیہ چلانے اور کرونا وائرس کو روکنے کے اقدامات بیک وقت کرنا ہوں گے۔

معیشت کے حالات بہت خراب ہیں۔ کرونا وائرس اور لاک ڈائون سے پہلے بھی معیشت کے حالات بہت اچھے نہیں تھے اور کساد بازاری کے خطرات موجود تھے اور امکان یہی تھا کہ معیشت کو نرم قسم کی کساد بازاری کا سامنا ہو سکتا ہے مگر کرونا وائرس کے بحران اور لاک ڈائون نے معاشی صورت حال کو خراب کر دیا ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق 68 سالوں کے بعد پاکستانی معیشت کو منفی گروتھ کا سامنا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستانی معیشت منفی 2.2 فیصد تک سکڑ سکتی ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کی آمدن پر بہت برا اثر پڑے گا۔ اس قسم کی صورت حال 1951ء میں پیدا ہوئی تھی

اور 68 سالوں کے بعد اس قسم کے معاشی حالات پیدا ہوئے ہیں۔ اس سے حالات کی سنگینی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ مثلاً 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کے نتیجے میں بھی ملکی معیشت میں اتنی گراوٹ نہیں آئی تھی اور نہ ہی 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے نتیجے میں ملکی معیشت اتنی نیچے گری تھی۔ ماہر معیشت طاہر پرویز کے مطابق پوری تاریخ میں پہلی بار 1951-52ء میں ملکی معیشت میں منفی گروتھ ہوئی تھی۔ 1971ء میں بھی ملکی معیشت کی شرح ترقی 1.23 فیصد رہی تھی مگر اب معیشت منفی 1.6 فیصد سے منفی 2.2 فیصد گراوٹ کا شکار ہو سکتی ہے۔

اب تو وزارت خزانہ نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے اور اس نے عالمی بینک اور آئی ایم ایف کی طرف سے کی جانے والی پیشن گوئیوں کو درست قرار دیا ہے۔ وزارت خزانہ کے بیان کے مطابق بدترین حالات میں ملکی معیشت کی شرح ترقی 1.57۔ (منفی 1.57) رہ سکتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ معاشی سست روی اب منفی شرح ترقی میں تبدیل ہوچکی ہے۔ آئی ایم ایف اور عالمی بینک دونوں بھی اس صورت حال کی نشان دہی کر رہے ہیں۔

کرونا وائرس کی وبا پھیلنے سے پہلے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ پاکستانی معیشت کو مختصر وقت کے لئے ایک نرم کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑے گا اگرچہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کا خیال اس سے مختلف ہے۔ ان کے خیال میں کرونا وائرس سے پہلے پاکستانی معیشت ترقی کر رہی تھی۔ فی الوقت اس بحث کو ایک طرف رکھتے ہیں اب حقیقت یہ ہے کہ لاک ڈائون کی وجہ سے معیشت ایک گہری کساد بازاری کا شکار ہو گئی ہے اور اصل چیلنج اب معیشت کو اس صورت حال سے نکالنا ہے۔

پاکستان کو برآمدات اور درآمدات کے حوالے سے بھی مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ دنیا کی موجودہ معاشی صورت حال، لاک ڈائون اور معاشی سرگرمیوں میں کمی کے باعث برآمدات میں 10 سے 20 فیصد کمی کا امکان ہے جبکہ درآمدات میں اس سے کہیں زیادہ کمی ہو سکتی ہے۔ اس وقت نئے برآمدی آرڈر کا ملنا بہت مشکل امر ہے۔ پاکستان کی بڑی روایتی منڈیاں، امریکہ، یورپ اور خلیج کے ممالک خود لاک ڈائون کی وجہ سے بری معاشی صورت حال سے دوچار ہیں۔ عالمی تجارت اب تک 12 فیصد سے زائد گر چکی ہے اور اس میں مزید کمی کا امکان ہے۔ پاکستان کے برآمدی شعبے کی مشکلات صنعتوں کے دوبارہ کھلنے کے باوجود جلد ختم ہونے والی نہیں ہیں۔ ایک نیا عالمی معاشی بحران سر اٹھائے کھڑا ہے جو کہ 2008-09ء کے عالمی معاشی بحران سے کہیں زیادہ گہرا ہو گا اور امکان یہی ہے کہ موجودہ عالمی معاشی بحران اور کساد بازاری 1929ء کے بعد کا سب سے بڑا بحران ہوگا۔

ان حالات میں بڑی معیشتوں کے دوبارہ کھلنے کے بعد بھی صورت حال کو بہتر ہونے میں وقت لگے گا۔ کرونا وائرس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران نے عالمی سپلائی چین کو بھی متاثر کیا ہے۔ جس کے نتیجے میں برآمدات اور درآمدات متاثر ہوئی ہیں۔ پاکستانی برآمدی صنعتوں کے پاس موجود آرڈر نہ صرف تاخیر کا شکار ہیں بلکہ کئی ایکسپورٹرز کے پیسے بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ عالمی تجارت کے متاثر ہونے سے نہ صرف برآمدات پر برا اثر پڑا ہے بلکہ درآمدات بھی متاثر ہوئی ہیں۔ صنعتوں کو خام مال کی درآمد کے حوالے سے بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ پاکستان میں کئی کاروبار ایسے ہیں جن کا دارومدار درآمدات پر ہے۔ درآمدات متاثر ہونے سے نہ صرف کمرشل امپورٹرز کے کاروبار متاثر ہوئے ہیں بلکہ صنعتی امپورٹرز کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کی پیداوار خام مال نہ ملنے کے باعث یا تو رک گئی ہے یا پھر کم ہوئی ہے۔ اس کا نتیجہ ریونیو میں کمی ، ملازمتوں کے خاتمے اور تنخواہوں میں کمی کی صورت میں سامنے آئے گا۔ (جاری ہے)


ای پیپر