اللہ کریسی چنگیاں
14 May 2020 (13:57) 2020-05-14

لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد دوسرے روز میں ایک مارکیٹ کی صورتحال کا جائزہ لینے پہنچی تو گیٹ پر کھڑے گارڈ نے ڈیٹول ملے پانی سے ہاتھ سینیٹائز کرائے۔گارڈ نے ماسک بھی پہن رکھا تھا، دیکھ کر دل کو تسلی ہوئی کہ لوگ احتیاط کر رہے ہیں خدا بھی خیر ہی کرے گا لیکن میری یہ تسلی صرف گیٹ سے چند قدم آگے بڑھتے ہی ایسے بہہ گئی جیسے گیٹ سے ملنے والا سینیٹائزر اڑن چھو ہو کر دوبارہ ہاتھوں پرکورونا موجود ہونے کا پتہ دے رہاتھا۔ مارکیٹ کی بیرونی لائن میں موجود کچھ دکانداروں سے بات ہوئی جو پتہ چلا کہ پہلے دن زبردست سیل کے بعد دکاندار خاصے خوش ہیں، کچھ نے ماسک پہنا تھا ااور کچھ جیب میں اور کچھ ہاتھ میں لیے پھر رہے تھے۔ اچانک 6 سے 7 سالہ ایک چھوٹی بچی پر نظر پڑی جو غالباً اپنی والدہ کے ساتھ ایک پرہجوم سٹال ہر کھڑی تھی۔ میں نے جھٹ سے اسے پوچھا کہ آپکا ماسک کہاں ہے؟ بچی کا جواب سن کر مجھے تھوڑی حیرت ہوئی کہ پاپا گاڑی میں لے کر بیٹھے ہیں ماسک لیکن اس سے بھی زیادہ حیران کن بچی کی والدہ محترمہ کا جواب تھا کہ جنھوں نے میرے ماسک کے حوالے سے سوال پر فوراً اپنے ہینڈ بیگ میں سے ماسک نکالا اور چڑھا کر بولیں یہ رہا ماسک اور بچی کا ماسک بابا گاڑی میں لے کر بیٹھے ہیں۔ میں نے ہاتھ جوڑ کر چھوٹی بچی کو ماسک پہننانے کی درخواست کی اور آگے بڑھ گئی۔ ٹی وی کے لیے لائیو ہٹ دینا تھا چنانچہ 2 خواتین اور ایک دکاندار سے بات کرنے کی درخواست کی۔ دونوں خواتین اور دکاندار بھی بنا ماسک کے بھائو تائو میں مصروف تھے۔۔ پہلی خاتون سے پوچھا کہ آپ نے ماسک کیوں نہیں پہنا تو وہ کچھ یوں گویا ہوئیں، دیکھیں نہ کسی نے بھی نہیں پہنا ہوا ماسک اور ہم نے تو ایسی ویسی کوئی چیز نہیں دیکھی ہم ڈرتے نہیں ہیں جو اللہ کو منظور ہوا وہی ہو گا۔ میں نے ضد کی کہ احتیاط تو بندے نے کرنی ہے نہ پھر اللہ بھی وسیلہ بنائے گا تو خاتون نے کچھ کھسیانی سی ہو کر ماسک نہ ملنے

کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں خریداری کے لیے ورائٹی نہ ہونے کا گلہ بھی کر دیا۔ دوسری خاتون سے پوچھا تو ملتا جلتا جواب ملا کہ ماسک سے کیا ہو گا یہاں ہمیں عید کا جوڑا نہیں مل رہا اور آپ کو ماسک کی پڑی ہے۔ دکاندار کا جواب بھی سن لیں موصوف کا کہنا تھا کہ ماسک سے کچھ نہیں ہوتا ہم کسی سے نہیں ڈرتے جو قسمت میں لکھا ہو گا وہی ہو گا۔کاروبار کا پوچھا تو بولے کے سیل نہیں ہے لاک ڈائون نے کاروبار تباہ کر دیئے ہیں، نیا سٹاک لایا نہیں جا سکا حکومت افطاری کے بعد بھی دکانیں کھلی رکھے تو اچھا ہے میں نے بھی جواب دیا کہ اللہ کریسی چنگیاں ( اللہ بہتر کرے گا) اور چل دی۔ واپسی پر گاڑی میں پہنچی تو ڈرائیور موصوف بولے میڈم ہمیں تو لگتا تھا یہ لاک ڈاؤن نہیں کھلے گا اس لیے ہم نے تو پہلے ہی خریداری کر لی تھی میں نے تجسس سے پوچھا کہ نرمی سے پہلے تو مارکیٹس بند تھیں آپ نے کہاں سے شاپنگ کر لی تو ہمارے شریف النفس ڈرائیور بولے کہ میڈم شٹر نیچے تھے باقی خریداری تو ایسے ہی چل رہی تھی ہمارے بچے بھی ضد کر رہے تھے اس لیے بند شٹر میں ہی جا کر خریداری کر لی تھی۔ یہ واقعات لکھنے کا مقصد قارئین کو لاک ڈاون میں نرمی کے بعد مارکیٹس، سڑکوں اور دیگر مقامات کے حالات سمجھانا ہے۔ بدقسمتی کہیے یا جہالت لاک ڈائون میں نرمی کے بعد بازاروں میں خواتین، بچوں اور بوڑھوں کا رش ایسے نظر آتا ہے جیسے کسی کو جیل سے آزادی ملی ہو۔ عالمی سطح پر حکمت عملی دیکھی جائے تو لاک ڈاون میں کچھ دنوں کی نرمی کا مقصد کورونا کے پھیلاو کی صورتحال کا جائزہ لینا ہے اگر پبلک کی جانب سے اسی طرح لاپرواہی کا مظاہرہ کیا گیا تو آپکے 99 فیصد لوگ پوزیٹو آ جائیں گے۔

پوری دنیا کورونا پر تحقیق کر رہی ہے، ویکسین تیار کرنے کی کوششیں جاری ہیں مگر ہماری 60 فیصد عوام کورونا کے وجود کو تسلیم کرنے سے ہی انکاری ہے۔ ڈاکٹر سے لے کر حکیم تک ہر کوئی اپنے نسخے، پھونکیں اور پھکی بیچ رہا یے۔ ہماری جہالت بے توکل کے اصل مفہوم کو بدل کر معاشرے کو جھوٹی کہانیوں اور فلسفے کے پیچھے لگا دیا ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل یمن بغیر ساز و سامان کے حج کرنے کیلئے آتے اور کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ مکہ مکرمہ پہنچتے تو لوگوں سے سوال کرنا شروع کر دیتے (یعنی اشیا ضروریہ لوگوں سے مانگتے )۔ چنانچہ اللہ تعالی نے قرآن میں فرمایا:

حج کے سفر میں زادراہ ساتھ لے جایا کرو…

(سورۃالبقرہ، القرآن)

اسی طرح حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسولؐ اللہ سے پوچھا کہ کیا اونٹنی کو باندھ کر توکل کروں یا بغیر باندھے؟ تو آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ '' باندھو اور اللہ پر بھروسہ کرو''، ترمذی۔

یعنی قرآن اور حدیث دونوں سے ثابت ہے کہ اللہ پر توکل اور اسباب دونوں لازم ہیں کسی ایک پر نہیں رہا جا سکتا۔ یعنی خالی توکل کرنا سستی اور کاہلی اور غیر ذمہ داری میں آتا ہے اور محض اسباب پر بھروسہ تکبر اور انکار خدا ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اسی لیے دی ہے تاکہ وہ جانوروں کے مقابلے میں غور و فکر کرے، تدبیر کرے، کوشش کرے۔ حکومت کی جانب سے لاک ڈائون میں نرمی کا فیصلہ تو کیا گیا ہے مگر میری ذاتی رائے یہ ہے کہ جو ماڈل ہم فالو کر رہے ہیں وہ ہم سے کچھ حد تک مہذب قوموں کا ہے وہاں حکومتوں کے بنائے گئے قوانین کی اہمیت ہے، وہاں لوگ عملدرآمد کرتے ہیں لیکن ہمارے ہاں سرکاری نوکری اور سرکارکے قانون کی حیثیت سے سب واقف ہیں اس لیے حکومت سے گزارش ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کے ماڈل کی ضرور کاپی کریں لیکن اس میں مقامی رویوں کے مطابق ترامیم ضرور کر لیں ورنہ جیل روڈ پر الٹے ہاتھ بنے انڈر پاس کی طرف آپکی غلطیاں بھی نا مٹنے والے نشان چھوڑ جائیں گی۔


ای پیپر