نظریاتی صحافت کا بے خوف سپاہی!
14 May 2020 (13:57) 2020-05-14

14مئی کو ایک ایسے صحافی کی پہلی برسی ہے جوپاکستانی صحافت کا معتبر نام ، صحافتی دنیا کا ایک اجلا کردار ، نظریاتی صحافت کا بے خوف سپاہی ،صحافتی ٹریڈ یونین کا بے لوث کارکن اور اردو اور انگریزی صحافت کا فخر تھا جو مطبوعاتی اور ریڈیائی صحافت میں بے پناہ شہرت رکھنے کے باوجود مزاجاً درویش صفت اور نرم گو انسان تھا دھیمے لہجے میں بات کرنے والے ادریس بختیار جنہیں جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن بے تکلفی سے ادریس اور ایم کیو ایم کے قائدالطاف حسین احترام سے ادریس بھائی کہہ کر پکارتے تھے گزشتہ سال ان کی موت پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنا دل کھول کر رکھ دیا تھا ۔ دہائیوں سے شناسا میرا دوست ایک مہذب اور شائستہ انسان چلا گیا۔

ادریس بختیار پاکستانی صحافت کا باوقار کردار اور قابل فخر باب تھے،، وہ مسلسل جدوجہد کا استعارہ اور مشکل حالات کے سامنے ڈٹے رہنے والے جرأت مند اور بے باک صحافی تھے۔ ان کی سب سے نمایاں خوبی ان کی کریڈیبلیٹی تھی۔ جس کے دوست دشمن سب قائل تھے۔ انہوں نے مشکل حالات میںدشت صحافت میں قدم رکھا۔ اور مشکل ترین حالات میں یہ فریضہ جرأت اور خوش اسلوبی کے ساتھ نبھایا۔ وہ پاکستان کے ان چند صحافیوں میں شامل تھے ۔ جنہوں نے اردو اور انگریزی دونوں طرز کی صحافت میں نام کمایا اور پرنٹ کے علاوہ الیکٹرانک میڈیا پر بھی چھائے رہے۔ اخبار میں رپورٹنگ، نیوز ایڈیٹنگ سے کالم نگاری تک اور ٹی وی پر تجزیہ نگار ی سے ایڈیٹوریل سنسر تک… وہ ریڈیو جرنلزم پر بھی برسوں نمایاں رہے ، جبکہ ٹریڈ یونین اُن کا اضافی وصف تھا۔

1945ء میں حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی نگری اجمیر میں ان کی پیدائش ہوئی۔ قیام پاکستان کے وقت یہ خاندان لاہور سے ہوتا ہوا حیدر آباد منتقل ہو گیا۔ یہیں سے گریجویشن کے بعد ادریس بختیار نے کراچی یونیورسٹی سے ماسٹر کیا۔اور انڈس ٹائمز حیدر آباد سے اپنے صحافتی سفر کا آغاز کیا۔ بعد میں کراچی آکر وہ نیوز ایجنسی پی پی آئی ، روزنامہ جسارت اور انگریزی اخبار سٹار کے چیف رپورٹر رہے۔ ڈان اور ہیرالڈ انٹرنیشنل کے ساتھ وائس آف امریکااوربی بی سی اردو سروس کے لیے بھی کام کرتے رہے ،کچھ عرصہ جدہ میں عرب نیوز کے ایڈیٹر انچارج کے طور پر بھی کام کیا۔ روزنامہ نئی بات کا آغاز ہوا تو وہ اس کی ادارتی ٹیم کے ایک ذمہ دار

رکن تھے اورجیو نیوز ان کا آخری صحافتی بسیرا تھا۔

ادریس بختیار اپنی ذاتی زندگی میں بھی قابل اعتبار تھے اور صحافت میں بھی انہیں ایک معتبر صحافی کا درجہ حاصل تھا۔ وہ پاکستانی صحافت میں اس کھیپ کے آخری فرد تھے جس کے نزدیک غلط خبر صحافی کی موت اور غلط زبان صحافت کی موت تھی۔ وہ ایک مہذب، ملنسار اور خوش گفتار شخص تھے۔ ان کی گفتگو اور تحریر دونوں میں بزلہ سنجی کا رنگ موجود تھا۔ گفتگو کرتے ہوئے ایسے چھوٹے چھوٹے جملے استعمال کرتے کہ سننے والے کو معلومات کے ساتھ مزاح کا لطف بھی آ جاتا۔ وہ ملکی سیاسی اور صحافتی تاریخ کا انسائیکلو پیڈیا تھے۔ واقعات انہیں پوری جزئیات کے ساتھ یاد تھے۔ جن کا وہ اپنی گفتگو اور کالم میں ذکر کرتے رہتے۔

میری ادریس بختیار کے ساتھ شناسائی 1980ء کی دہائی میں ہوئی اور اس کا حوالہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور تھا۔ وفاقی انجمن صحافیان کے ہر تین ماہ بعد ملک کے کسی شہر میں جو اجلاس ہوتے ان میں ادریس صاحب کے ساتھ ملاقاتیں رہتیں ۔دل کی جس بیماری نے آخر ان کا کام تمام کیا اس کا آغاز بھی پی ایف جو جے کے ایک اجلاس میں ہوا تھا۔ وہ میر پور آزاد کشمیر میں دو سالہ مندوبین کے اجلاس میںدوستوں کے ساتھ خوش گپیوں اور اجلاس میں اپنی سنجیدہ اور حساس گفتگو کے دوران چائے پر چائے اور سگریٹ پر سگریٹ پی رہے تھے کہ انہیں سینے میں تکلیف محسوس ہوئی۔ یہ دراصل دل کا پہلا دورہ تھا۔ انہیں وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم مرحوم نے اپنے سرکاری ہیلی کاپٹر پر راولپنڈی منتقل کرایا۔ جہاں چند دن کے علاج کے بعد انہیں کراچی جانے کی اجات مل گئی۔ ڈاکٹروں نے سگریٹ ، چکنائی اور تلی ہوئی اشیاء کے استعمال پر مکمل پابندی لگا دی جبکہ چائے اور کافی کی مقدار کم کرنے کی ہدایت کی لیکن انہوں نے یہ پابندی شاید ایک دن کے لیے بھی قبول نہیں کی۔ اس کے بعد سے ان کا ہسپتال آنا جانا شروع ہو گیا۔ کئی آپریشن ہوئے ، کئی بار سٹنٹ ڈالے گئے مگر وہ ہسپتال سے نکلتے ہی سگریٹ کا استعمال شروع کردیتے تھے۔ دراصل وہ گفتگو کرتے اور لکھتے ہوئے سگریٹ کے کش لگانے اور اس کی راکھ ہلکے سے جھٹکے کے ساتھ جھاڑنے کے ایسے عادی ہوگئے تھے کہ اسے چھوڑ نہیں سکتے تھے۔

ادریس بختیار کی صحافتی زندگی کا بڑا وقت ملکی اور غیر ملکی دوروں میں گزراکہ وہ ملکی میڈیا کے ساتھ ساتھ غیر ملکی میڈیا کے لیے بھی کام کرتے تھے۔ وہ بی بی سی لندن کی اردو سروس میں 1997ء سے 2007ء تک انتہائی متحرک انداز میں کام کرتے رہے۔ اس دوران وہ ٹیلی گراف لندن اور ٹریبیون کلکتہ کے لیے بھی لکھتے تھے۔ ان کی خبروں، تجزیوں اور کالموں میں ٹھوس انفارمیشن کے ساتھ ساتھ توازن اور اعتدال موجود ہوتا۔ وہ کسی خوف کے بغیر تنقید کرتے مگر کسی کی پگڑی اچھالنے سے انکاری رہتے۔ ان کی پیشہ ورانہ دیانت اور اعتدال نے انہیں مخالفین میں بھی قابل قبول بنا دیاتھا۔ وہ ایم کیو ایم کے عروج کے زمانے میں اس پر نہ صرف تنقید کرتے رہے بلکہ ان کے بارے میں ہلا دینے والی خبریں بھی دیتے رہے لیکن جب ایم کیو ایم پر ابتلاکا دور آیا تو اس کا نقطہ نظر اور کیس بھی دیانتداری کے ساتھ پیش کرتے رہے۔

ان کی سنجیدگی ، صحافتی مہارت اور وسیع حلقہ تعلقات سے لگتا تھا کہ انہوں نے بچپن اور جوانی دیکھی ہی نہیں وہ مجھے پہلے دن ہی سے ریشم جیسے سفید بالوں اور باوقار سفیدمونچھوں کے ساتھ نظر آئے۔ لاہور آتے تو دوستوں سے ملاقات کا وقت ضرور نکالتے۔ ایک بار لاہور آئے تو میںنے ایک نجی یونیورسٹی میں صحافت کے طلباء و طالبات کے ساتھ ان کا ایک خصوصی لیکچر رکھ لیا، ادریس بختیار نے اپنی بات شروع کی توسب کو معلوم ہو گیا کہ وہ اردواور انگریزی دوسرے لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں۔ لاہور پریس کلب میں ہونے والی ایک تقریب میں بھی ان کی گفتگو یاد گار ثابت ہوئی۔ انھیں ملکی سیاسی و معاشی مسائل کے ساتھ صحافتی مسائل کا بھی پورا ادراک تھا۔ وہ صحافت اور صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے ہمیشہ سرگرداں رہے۔ وہ کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر رہنے کے علاوہ وفاقی انجمن صحافیاں کے دوبار سیکرٹری جنرل اور صدر منتخب ہوئے۔صحافی اتحاد کے لیے وہ اس قدر پر جوش تھے کہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے صدر فاروق فیصل اور بعض دوسرے دوستوں کی تحریک پر ہونے والے پہلے ہی اجلاس میں انھوں نے بطور صدر پی ایف یو جے دستور اپنا استعفی رہبر کمیٹی کے حوالے کر دیا لیکن بدقسمتی سے یہ کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں

ایک ایسا بھرپور شخص جس کی ذاتی زندگی خرابیوں سے پاک تھی، پیشہ ورانہ زندگی دیانت ، جرأت اور مہارت کا استعارہ رہی ،جو دوستوں کے جھرمٹ میں محترم اور مخالفین کے حلقے میں ہمیشہ معتبر جانا گیا اس کی موت ایک مہذب، شائستہ انسان معتبر اور قابل تقلید صحافی ہی کی موت نہیں صحافت کے ایک متحرک کردار کا خاتمہ اور اس پیشہ کے ایک درخشندہ باب کے بند ہونے کا عنوان بھی ہے۔


ای پیپر