یہ ملاقات اِک بہانہ ہے! ....(چودہویں قسط )
14 May 2020 2020-05-14

!وزیراعظم عمران خان کے ساتھ حالیہ ملاقات کے حوالے سے لکھے گئے گزشتہ کالم میں، میں عرض کررہا تھا ہم ایسے لوگوں سے اپنے گھر نہیں چلتے تو ملک چلانے والوں کے مسائل کو خاطر میں نہ لاکر اُن پر کڑی تنقیدکرتے ہوئے تھوڑا بہت ہمیں ضرور سوچ لینا چاہیے، ”اُصولی صحافت“ کے یقیناً کچھ تقاضے ہوتے ہیں، پر اکثر یہ ہوتا ہے یہ تقاضے بھی” بناﺅٹی اُصولوں “ کے مطابق ہی ہوتے ہیں، جب ضرورت سے زیادہ کوئی پورے کرنے کی کوشش کرے تو حکمرانوں کو گلے شکوے پیدا ہوجاتے ہیں جو بعد میں صحافت اور حکومت کے درمیان باقاعدہ ایک تنازعے کی شکل اختیار کرلیتے ہیں، ہمارے اکثر حکمران یہ سمجھتے ہیں بے شمار معاملات میں یا کم ازکم اخلاقی معاملات میں صحافت اور حکومت ایک ہی مقام یا شرمناک مقام پر کھڑے ہیں تو پھر صحافت کو کوئی حق نہیں پہنچتا وہ اشتہارات کی صورت میں حکومتوں سے فائدے بھی اُٹھائے اور اپنے مقام سے ہٹ کر حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنائے، .... ان تمام تر خرابیوں کے باوجود میں یہ سمجھتا ہوں مجموعی طورپر حکومت کو اظہار رائے کی آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے ہرممکن حدتک جانا چاہیے، یہ تاثر کسی طورپر بھی مناسب نہیں ہوتا حکومت اظہار رائے کی آزادی کو سلب کرنا چاہتی ہے ، اِس سے لوگ اِس یقین میں مبتلا ہو جاتے ہیں حکومت یا حکمرانوں کی کارکردگی واقعی درست نہیں، اور جب یہ میڈیا میں زیر بحث آتی ہے تو حکمرانوں کی اس کی تکلیف ہوتی ہے ، دوسری جانب اہل صحافت، سوشل میڈیا کی اندھی طاقت کے مقابلے میں اپنی تھوڑی بہت مشیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو اپنی خرابیوں کو وہ درست کریں، .... مولانا طارق جمیل کو یہ کہنا چاہیے تھا یا نہیں یا جس انداز میں یا جن الفاظ سے اُنہوں نے کہا، اُس انداز اور الفاظ میں کہنا چاہیے تھا یا نہیں؟ یہ الگ بحث ہے ، پر اُن کی اِس بات میں کسی حدتک سچائی ضرور تھی ”ہمارے میڈیا میں جھوٹ بہت بولا جاتا ہے “ ۔ ....اور اپنا حق اور ”سچ“ سمجھ کر بولا جاتا ہے ، اگر اِس موقع پر وہ غلط یا غیرضروری طورپر صرف وزیراعظم کو سچا قرار نہ دیتے، اور پہلے اپنی دعا میں حسب عادت سابقہ حکمرانوں کی طرح موجودہ حکمرانوں کی قصیدہ گوئی نہ کرتے اُن کی باتوں سے میڈیاسمیت شاید کوئی اختلاف نہ کرتا یا اس حدتک نہ کرتا کہ بعد میں ہماری توقع کے بالکل برعکس میڈیا سے یہ کہہ کر اُنہیں معذرت کرنا پڑتی کہ میرے پاس اپنی بات کے حق میں کوئی دلیل نہیں، بس میں معذرت کرتا ہوں، سچی بات ہے ان کا معذرت کرنا ہمیں اُسی طرح بالکل اچھا نہیں لگا جس طرح اُن کااپنی پاک دعاﺅں میں کچھ ناپاک حکمرانوں کا غیر ضروری طورپر ذکر خیر کرنا اچھا نہیں لگا تھا، ....میں نے اِس حوالے سے چند انتہائی مہذب الفاظ کا چناﺅ کرکے ایک ٹوئیٹ کی، جسے میرے انتہائی قابل قدر اور نڈر قلم کار بھائی رﺅف کلاسرا نے ”ری ٹوئیٹ“ کیا، جواباً لوگوں نے ایسی ایسی ننگی گالیاں مجھے دیں جن کا جواب دینا میرے لیے ایسے ہی تھا جیسے گہرے کیچڑکے پاس کھڑے ہوکر کوئی بڑا سا پتھر اُٹھا کر کیچڑ میں پھینک دوں، میں نے ٹوئیٹر پر نیا نیا اکاﺅنٹ اپنے بے شمار چاہنے والوں، خصوصاً اپنے اکلوتے بیٹے راحیل بٹ کے پُرزور اصرار پر بنایا ہے ، مجھے ذرا اندازہ نہیں تھا ٹوئیٹر پر کچھ لوگوں کا غیرمہذب پن یابداخلاقی انتہاﺅں کو چُھورہی ہوتی ہے ، کم ازکم مجھے تو اظہار رائے کا یہ ایک ”بازار حسن“ لگا جس میں کسی شریف آدمی کا کوئی کام نہیں، لہٰذا ہم ایسے لوگ جنہوں نے انا، عزت آبرو کو ہمیشہ ترجیح دی اُنہیں سنجیدگی سے جائزہ لینا پڑے گا ”ٹوئیٹر“ کی دنیا میں اُنہیں ہونا بھی چاہیے یا نہیں؟ ، ویسے مولانا طارق جمیل صاحب کے بارے میں انتہائی مہذب انداز اور الفاظ میں اپنی رائے کے اظہار پر جتنی گالیاں مجھے پڑیں نہ چاہتے ہوئے بھی میں اِس یقین میں مبتلا ہوں یہ گالیاں مولانا کے سچے چاہنے والے یا اُن کی تعلیمات سے استفادہ کرنے والے ہرگز نہیں دے سکتے، ممکن ہے یہ گالیاں اُن ”طاقتوروں“ نے اپنی خصوصی بریگیڈکے ذریعے دلوائی ہوں جن کا اپنی دعاﺅں میں مولانا رو رو کر بڑا ذکر خیر کرتے ہیں، ....بہرحال میڈیا سے مولانا کی معافی کا غصہ اُن کے کچھ چاہنے والے ظاہر ہے اُن پر تو نکال نہیں سکتے تھے، سو اُنہوں نے سارا غصہ مولانا کے ہم ایسے چاہنے والوں پر نکال دیا جو شخصیت پرستی کے قائل نہیں، اور جودل سے چاہتے ہیں مولانا کا معاشرے میں ادب واحترام ایک غیر متنازعہ شخصیت کے طورپر برقرار رہے، اس لیے وزیراعظم عمران خان کو میں نے تجویز دی ہے مولانا آئندہ جب کبھی محض اُنہیں دعا دینے کے لیے اُن کے پاس آنا چاہیں تو مولانا کی عزت آبرو اور اپنے ساتھی اُن کی ”غیر مشروط محبت“ کے پیش نظر وہ خود اُن کی خدمت میں حاضر ہوجایا کریں، اِس سے مولانا پر کم ازکم یہ تنقید بند ہوجائے گی کہ وہ ہربادشاہ کے دربار میں محض اُسے دعا دینے کے لیے حاضر ہونے کے عمل کو اپنے لیے باعث سعادت سمجھتے ہیں، .... خیر میں وزیراعظم کے ساتھ اپنی ملاقات کا ذکر کررہا تھا ، بیچ میں اور بہت سی باتیں آجاتی ہیں جو اتنی غیرمتعلق بھی نہیں ہوتیں، میں یہ عرض کررہا تھا ہم خود کو ٹھیک کرنے کا تو کوئی ارادہ نہیں رکھتے، پر ہم چاہتے ہیں ہمارے حکمران سب کچھ ٹھیک کردیں اور راتوں رات کردیں، وزیراعظم عمران خان سے میں نے کہا ”آپ کا بار بار جانے والا یہ دعویٰ بالکل غلط تھا کہ حکمران ایماندار ہو تو سودنوں میں سب کچھ ٹھیک ہوجاتا ہے “ .... ہاں اگر اِس ملک کے ”اصلی حکمران“ نیک نیتی سے یہ دعویٰ کریں تو سودنوں میں واقعی سب کچھ ٹھیک ہوسکتا ہے ، یہ کام محض دیکھاوے کا وہ حکمران ہرگز نہیں کرسکتا جس کی حکمرانی کئی زنجیروں میں جکڑی ہوتی ہے ، اور صرف حکمرانی کے چسکے میں وہ اِن زنجیروں سے آزاد بھی نہیں ہونا چاہتا، بلکہ ان زنجیروں پر فخر کرتا ہے حالانکہ مقام یہ شرم کرنے کا ہے ، .... سو ہم جب الیکشن سے پہلے یا وزارت عظمیٰ کا حلف اُٹھانے سے پہلے خان صاحب کی سو دنوں میں سب کچھ ٹھیک کرنے والی بات سے اختلاف کرتے اُنہیں غصہ آتا تھا، وہ فرماتے تھے”سو دن تو میں بہت زیادہ دے رہا ہوں حکمران ایماندار ہو سو گھنٹوں میں سب کچھ ٹھیک ہوسکتا ہے “ ۔.... گو کہ اُن کی ٹیم کے حوالے سے اُن پر شبہ کرنے کی اچھی خاصی گنجائش موجود ہے اس کے باوجود ہمیں اُن کی ایمانداری پر کوئی شبہ نہیں ہے ، نہ اُن کی نیک نیتی پر ہے ، اور نہ ہی اُن کی اُن مجبوریوں پر ہے جن کاہماری طرح وہ بھی کھل کر اظہار نہیں کرسکتے، نہ لحاظ میں ہم اُن سے پوچھ سکتے ہیں کہ اُس ”اشرافیہ“ کا اصل نام کیا ہے جو اُنہیں کرفیو جیسے لاک ڈاﺅن پر مجبور کررہی تھی؟ اِس ملک پر اصل حکمرانی اصل میں اِسی ”اشرافیہ“ کی ہے جسے ہم ”مافیا“ بھی کہہ سکتے ہیں (جاری ہے )


ای پیپر