کرونااور....مولانا
14 May 2020 2020-05-14

اشفاق احمد خان کہا کرتے تھے، کہ مولوی صاحبان میرے ”آئیڈیل“ ہیں، کیونکہ ان کی بدولت اسلام زندہ ہے، اور چودہ سوسال سے وہ بلاناغہ رات اور دن میں اذان دے کر، کچھ لمحہ ضائع کیے بغیر مسلمانوں کو نماز کے لیے اللہ کے حضور لاکھڑا کرتے ہیں ایک امام اور عالم کی عظمت کے کیا کہنے، ہم میں اتنی طاقت نہیں کہ ایک مو¿ذن کے درجات لامحدود کے فضائل بیان کرسکیں جس کو عذاب قبر کے ساتھ ساتھ جسم کو مٹی سے بھی محفوظ رکھنے کی نوید سنادی گئی ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے ہمارے وطن عزیز کے بے شمار علماءکے ساتھ ساتھ مختلف اوقات میں کبھی ”نیو“ کبھی جیواور مختلف چینلز پر مولانا طارق جمیل صاحب، اور کبھی سید ثاقب رضا المصطفائی کے وعظ وتقریر کو مسلسل دکھایا جاتا ہے، جو مردہ دلوں ودماغوں میں ایمان کی حرارت، اورلُوتیز کرنے کا سبب بن جاتے ہیں اور بھولی ہوئی اسلاف کی داستانیں ایک دفعہ خدا کے فضل سے دوبارہ زندہ ہوجاتی ہیں۔ پاکستان ٹیلی وژن پہ آج کل باقاعدگی سے آغاز رمضان سے ہی ایک اسلامی ڈرامہ” غازی“ دکھایا جارہا ہے، اور بائیس کروڑ مسلمانوں کے موجودہ حکمران عمران خان نے پاکستان ٹیلیویژن کو ہدایت دی ہے، کہ اسے رعایا کو دکھایا جائے، جس میں ہمارے اسلاف کی داستان عظمت، اور خلافت عثمانیہ جو تقریباً چھ سو سال تک کئی براعظموں پر حکمرانی کرتی رہی۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی عظمت وحکمت کے رنگ نرالے ہیں، پچھلے دنوں مولانا عبدالستار ایدھی کے فرزند فیصل ایدھی، جناب وزیراعظم عمران خان سے ملنے آئے، جنہیں کرونا وائرس، کی شکایت بھی، وزیراعظم نے ان سے مصافحہ کیا، تو پھر ڈاکٹروں کی خصوصی ہدایت پر خاص طورپر شوکت خانم ہسپتال کے سربراہ فیصل سلطان کے مشورے پر اپنا کرونا وائرس کا ٹیسٹ کرانا پڑا، جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے فضل وکرم سے ٹھیک آیا، مگر جب پاکستان کے نامور اور عالمی مبلغ اسلام جناب مولانا طارق جمیل ملنے آئے، اور انہوں نے بڑی گرمجوشی سے مصافحے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا، تو وزیراعظم نے انداز ضےاءالحق میں گارڈ آف آنرز کا معائنہ کرتے ہوئے، ایک مسکراہٹ کے ساتھ اپنا ہاتھ سینے پہ رکھ لیا اس وقت سے میرے ذہن میں ایک سوال ابھرا تھا، گوکہ ان حالات میں ”امام ومقتدی“ وبائی امراض سے مبرا نہیں، مگر جناب رسول پاک کے امتی کے طورپر حکمران وقت کی یہ بات مجھے بے حد پسند آئی، کہ پاکستان میں یہ دوسرے ممالک کی نسبت سے اموات کم ہوئی ہیں، لہٰذا اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے اس احسان وکرم کا شکریہ ادا کرنے کے لیے عوام اپنے گھروں میں نوافل شکرانہ ادا فرمائیں۔

میں ذکر کررہا تھا، حضور کے اس فرمان کا ، کہ ان حالات موجودہ میں اگر کوئی قوم تلاوت قرآن مجید اور تعلیم وتعلم میں مصروف ہوتی ہے، یعنی اکٹھے ہوئے ہیں، تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ ان پر سکنیت نازل فرماتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی رحمت اُنہیں ڈھانپ لیتی ہے، اور فرشتے ان پر اپنے پر بچھا لیتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر فرشتوں میں بڑے فخر سے کرتے ہیں، ایک روایت میں ہے کہ جس طرح آسمان میں ستارے چمک رہے ہیں، زمین میں علماءکی مثال بھی ان جیسی ہے، مدینہ منورہ میں ابتداءسے ہی ایک مستقل دارالعلوم کی حیثیت اختیار کرلی تھی، جس سے نہ صرف جزیرہ عرب فیض یاب ہوا، بلکہ علم وعمل کی نورانی شعاعیں نے ساری دنیا کو بقعہ نور بنا دیا ، علم وادب کی ضیا پاشی کی ابتداءاس طرح سے ہوئی کہ معلم انسانیت نے سیدنا معب بن عمیرؓاور سیدنا عبداللہؓکو مدینہ منورہ بھیجا، کہ وہاں لوگوں کو قرآن کی تعلیم دیں لہٰذا یہ دونوں صحابی گھر گھرجاکر لوگوں کو قرآن مجید کی تعلیم سے بہرہ یاب کرتے تھے۔

ہجرت کے بعد معلم انسانیت نے علم وادب کی نشرواشاعت کے لیے اور خواندگی عام کرنے کے لیے بھرپور کوششیں فرمائیں، اور مختلف طریقے اپنا کر ہرفرد کو زیور تعلیم سے آراستہ کردیا، اور اس سلسلے کی ایک کڑی یہ بھی تھی، کہ علوم وفنون کے ماہراساتذہ کو تعلیمی خدمات پر تعینات فرمایا، اور دوسرے شہروں سے بھی ماہرین تعلیم کو طلب فرمایا اور تعلیم اور خواندگی کی شرح عام کرنے کے لیے دوسرے شہروں سے بھی ماہرین کو طلب فرمایا، اور تعلیم کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے فرمایا کہ علم کو لکھائی کے ذریعے محفوظ کرلو۔ حضور کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا، کہ میرا حافظہ بہت کمزور ہے، آپ نے فرمایا کہ اپنے داہنے ہاتھ کو استعمال کرو اور اس سے مدد لو، یعنی لکھ کر محفوظ کرلو۔

اس وقت نصاب تعلیم میں دیگر دینی علوم کے ساتھ تحریر، کتابت، املا بھی شامل تھی، اور سیدنا عبداللہ بن سعید ؓ زمانہ جاہلیت سے ہی خوش نویسی، اور کاتب کے لقب سے مشہور تھے ، حضور نے انہیں بلاکر کتابت سکھانے پر مامور فرمادیا اس کے علاوہ سیدنا سعد بن عبادہ ؓ بھی عربی کے قابل اور مشہورخوش نویس تھے، ان دونوں کو مسلمانوں کو فن کتابت سکھانے کے فرائض سونپ دیئے۔ میں نے بات شروع کی تھی، مولانا سے، مولانا ، علماءکو کہتے ہیں ، یعنی صاحب علم وفضل مگر افسوس کہ دورموجود میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے ذرائع مسدود کرکے اعلیٰ یونیورسٹیوں کو بند کرنے پر مجبور کردیا گیا ہے، شاید اسی لیے حضرت علامہ اقبالؒ فرما گئے تھے کہ

گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا

کہاں سے آئے صدا لاالہ الااللہ !

قارئین ،ذرا مجھے یہ بتائیے، کہ کرونا میں کتنے مو¿ذن اور کتنے امام مبتلا ہوئے ہیں، شاید ایک بھی نہیں ۔


ای پیپر