بی جے پی کیلئے اقتدار کا راستہ دشوار!
14 مئی 2019 (23:35) 2019-05-14

نریندر مودی جارحانہ قسم کے رہنما ہیں، وہ اقلیت میں رہ کر اتحاد کو ساتھ نہیں لا سکیں گے۔ ماہرین

امتیاز کاظم

imtiazkazim110@gmail.com

چناﺅ کے پانچویں مرحلے میں بھارت کی شمالی ریاست اُترپردیش کی 14 نشستوں پر الیکشن کا عمل مکمل ہوا جب کہ اس اہم ریاست کی کُل نشستوں کی تعداد 80 ہے۔ اُترپردیش کی یہ 14 نشستیں اس لیے بھی اہم ہیں کہ یہاں سے کانگریس کے راہول گاندھی اور ان کی والدہ سونیاگاندھی بالترتیب امیٹھی اور رائے بربھی سے انتخاب لڑ رہے ہیں اور بھاجپا کی طرف سے ہوم منسٹر (سابق) راج ناتھ سنگھ اور سمرتی ایرانی بھی یوپی سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ سمرتی ایرانی راہول گاندھی کے مقابلے پر ہے۔ پانچویں مرحلے کی کُل 7 ریاستوںکی 51 نشستوں کے لیے 674 اُمیدوار آمنے سامنے ہیں جب کہ 7 ریاستوں کے کُل ووٹرز 875کروڑ ہیں۔ ان 7ریاستوں میں یوپی کی کُل 80 نشستوں میں سے 14 پر الیکشن ہو رہا ہے۔ راجستھان کی کُل 25 نشستوں میں سے 12 پر الیکشن ہو رہا ہے۔ مغربی بنگال کی کُل 42 میں سے 7 پر، مدھیہ پردیش کی کُل 29 میں سے 7 نشستوں پر، بہار کی کُل 40 میں سے 5 پر، جھاڑکھنڈ کی کُل 14 میں سے 4 پر اور جموں وکشمیر کی کُل 6 میں سے 2 پر الیکشن کا عمل مکمل ہوا۔ یاد رہے کہ لوک سبھا یعنی ایوان زیریں کی کُل تعداد (54312) 545 نشستیں ہیں جب کہ راجپا سبھا یعنی ایوان بالا کی 245 نشستیں ہیں۔

مودی نے اپنا ووٹ احمد آباد میں کاسٹ کیا جب کہ گزشتہ جمعرات کو مودی نے وارناسی میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا۔ دو دن کا دورہ کیا جس میں وہ بنارس ہندو یونیورسٹی بھی گیا۔ گزشتہ 2014ءکے انتخابات میں بھی مودی نے یہاں سے 71 سیٹیں جیتی تھیں۔ ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ مودی ہر دفعہ وارناسی سے ہی الیکشن کیوں لڑتا ہے تو اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ وارناسی کو بھارت کی روحانی دارالخلافہ کہا جا سکتا ہے۔ یہ ریاست دریائے گنگا کے کنارے واقع ہے اور گنگا کو ہندو ”پوترجل“ یعنی ”پاک پانی“ کے نام سے یاد کرتے ہیں اور گنگا جل یعنی گنگا میں نہاتے ہیں اور اس کے بعد سمجھتے ہیں کہ وہ پاپوں (گناہوں) سے پاک ہو گئے ہیں۔ یہاں زیادہ تر لوگ زعفرانی لباس پہنتے ہیں جو کہ ہندوتوا میں جوگیانہ رنگ ہے، یہی وجہ ہے کہ مودی کے جھنڈے کا رنگ بھی زعفرانی ہے اور مودی کے دورے کے دوران یہاں زعفرانی جھنڈوں کی بھرمار تھی اور بنارس یونیورسٹی میں بھی خالص ہندوتوا ماحول ہے۔ وارناسی میں مودی کے مقابلے میں کانگریس کا اُمیدوار وجے رائے ہے، یہ 2014ءمیں کانگریس کی طرف سے اُمیدوار تھا لیکن صرف 7 فیصد ووٹ لے سکا جبکہ مودی نے یہاں سے 56.37 فیصد ووٹ لیے تھے۔ بھوپال میں بھی مودی کا زور رہا، یہاں نوجوانوں نے مودی کی تصاویر اور جھنڈے والی ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں۔

جے پور کے حلقے میں ایک دلچسپ مقابلہ ہے۔ یہاں سے راجپا وردھن سنگھ راٹھور بھاجپا کی طرف سے اُمیدوار تھے اور یہ سابق اولمپین ہیں۔ ان کے مقابلے میں ”کرشناپونیا“ کانگریس کی اُمیدوار ہیں اور یہ بھی سابق ”اولمپین“ ہیں یعنی دونوں اولمپین کھلاڑی آمنے سامنے ہیں۔ بھارت میں ایک اور دلچسپ واقعہ ہوا یعنی ایک ووٹر کے لیے پولنگ بوتھ قائم کرنا پڑا اور وہ بھی ساٹھ کلومیٹر جنگل میں پیدل فاصلہ طے کر کے کرنا پڑا۔ ”درشن داس“ نامی ایک مقامی پادری گجرات کے دوردراز علاقے میں جنگل کے بیج رہائش رکھتا ہے جو کہ سڑک سے 60کلومیٹر ہٹ کر ہے اور بھارتی قانون کے مطابق دوکلومیٹر رداس کے اندر اندر ووٹر کو پولنگ بوتھ مہیا کرنا لازمی ہے لہٰذا جنگل کے اندر جا کر ایک آدمی ”درشن داس“ کا ووٹ کاسٹ کرانے کے لیے پولنگ بوتھ قائم کرنا پڑا۔ بہوجن سماج وادی پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے لکھنو¿ میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا جبکہ بہار کی 5 نشستوں پر 6 خواتین اُمیدوار میدان میں ہیں۔

اُترپردیش جیسی اہم ریاست میں سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کا اتحاد اور ان کا زور کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ یہاں دلتوں اور مسلمانوں کا سیاسی الائنس بھاجپا کے لیے ایک چیلنج ہے۔ ہر گلی ہر محلے سے بھاجپا مخالف نعرے کچھ اس زور وشور سے لگ رہے ہیں کہ مودی بے چین ہو گیا ہے۔ موجودہ ایس پی اور بی ایس پی کا تحاد 1993ءکی یاد دلا رہا ہے۔ 1992ءمیں بابری مسجد کی شہادت کا واقعہ ہوا تو بھاجپا بڑی اکثریت سے جیتی لیکن چند ماہ بعد ہی جب ملائم سنگھ اور کاشی رام کا اتحاد ہوا تو صوبائی الیکشن میں بھاجپا بُری طرح ہا رگئی تھی۔ اُترپردیش میں چوتھے مرحلے کا یہ الیکشن (29اپریل کا) اس لیے بھی اہم تھا کہ اس میں راہول گاندھی اور سونیاگاندھی کی چناﺅ کی نشستیں بھی شامل ہیں۔ اس مرحلے میں مدھیہ پردیش کی 6 نشستیں بھی شامل ہیں لیکن پچھلی دفعہ کے مقابلے میں اس دفعہ بھاجپا یہاں سے ایک یا دو نشستیں ہی لے سکے گی۔ مہاراشٹر میں راج ٹھاکرے نے بھاجپا کے خلاف خوب مہم چلائی ہوئی ہے اور وہ کھل کر کانگریس اور شردپوار کے ساتھ ہونے کا اعلان کر رہا ہے۔ مہاراشٹر کی 17 نشستوں پر چناﺅ ہونا ہیں یعنی یہاں سے بھی بھاجپا کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔ دسمبر 2018ءمیں ہونے والے چند صوبائی اور وفاقی حلقوں کے الیکشن نے بھاجپا کو پہلے سے خبردار کر دیا تھا کہ آئندہ اُن کے لیے کچھ اچھی خبر نہیں ہے کیونکہ ریاست مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں 15سال تک اقتدار میں رہنے والی جماعت دسمبر کے الیکشن میں بُری طرح ہاری بلکہ تین دیگر ریاستوں میں بھی الیکشن ہار گئی۔ چھتیس گڑھ کی کُل نوے نشستوں میں سے کانگریس نے 68 سیٹوں سے میدان مار کر بھاجپا کو کلین بولڈ کردیا جو کہ 15 نشستیں ہی جیت سکی تھی۔ بھارتی چناﺅ کے چوتھے مرحلے کے مکمل ہونے تک 374 نشستوں پر انتخابی عمل مکمل ہوچکا ہے جبکہ پانچواں مرحلہ 6مئی کو مکمل ہونے کے بعد 425نشستوں پر انتخابات مکمل ہو گئے کیونکہ پانچویں مرحلہ میں 51 نشستوں پر سات ریاستوں (بہار، جھاڑکھنڈ، مدھیہ پردیش، اُترپردیش، راجستھان، مغربی بنگال اور جموں کشمیر) میں الیکشن مکمل ہونے کے بعد صرف 118 نشستیں ہی باقی بچیں گی جبکہ پانچویں مرحلے میں اُترپردیش اور مدھیہ پردیش دونوں ریاستوں میں مودی کی پوزیشن اچھی نہیں۔ مغربی بنگال میں ممتابینرجی کا زور توڑنا آسان نہیں اور جموں کشمیر میں ووٹ کاسٹ ہی نہیں ہوئے ۔ بہار میں جن نشستوں پر بھاجپا جیتی تھی پچھلی دفعہ ان نشستوں پر کوئی اتحاد نہ تھا جس سے اپوزیشن کا ووٹ بٹ گیا تھا۔ اس کے باوجود بھاجپا بہار سے بہت معمولی مارجن سے جیتی تھی لیکن اس دفعہ بہار سے لالوپرساد کی آرجے ڈی (راشٹریہ جنتادل) کا اتحاد کانگریس کے ساتھ ہے تو ایسے میں بھاجپا کی جیت کے امکانات یہاں پر معدوم ہیں یعنی انتخابی عمل کا پانچواں مرحلہ مودی کی بھاجپا کے لیے بہت نقصان دہ ہے اور اب صرف 15 ریاستوں میں انتخابی عمل باقی ہے کیونکہ چھٹے مرحلے میں 12مئی کو 7ریاستوں کی 59 نشستوں پر اور 19مئی کو 8ریاستوں کی 59 نشستوں پر انتخابی عمل ہونا باقی ہے۔

مبصرین کی رائے اور تبصرے کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ مبصرین کے مطابق اگر مودی 200 سے زائد نشستیں لینے میں کامیاب ہو گئے تو وہ پیسہ پانی کی طرح بہا کر 72 اُمیدواروں کو یا اس سے کم اُمیدواروں کو خریدنے کی کوشش کریگے اور ایسا اس لیے ہو گا کہ امیت شاہ اور مودی کے پاس پیسے کی کمی نہیں۔ اکیلے رافیل طیاروں کی خریداری کے گھپلے میں ہی مودی اتنا کما چکا ہے کہ کچھ حساب ہی نہیں اور پھر مودی پر پیسہ لگانے والوں میں انیل امبانی جیسے لوگ جب شامل ہوں تو پھر کمی کس بات کی؟ جبکہ دوسری طرف کانگریس نے بہت سی ریاستوں کو نظرانداز کیا ہے اور وہاں اپنی ساکھ قائم رکھنے میں ناکام ہوئی ہے مثلاً ریاست تلنگانہ میں وہاں کی مقامی جماعت ٹی آرایس (تلنگانہ راشٹریہ سمتھی) دسمبر میں ہونے والے صوبائی الیکشن میں 119 میں سے 87 نشستیں لے گئی۔ کانگریس نے 21 اور بھاجپا نے ایک سیٹ لی۔ اگر کانگریس کچھ ہاتھ پاﺅں مارتی تو یہاں کی مقامی جماعت کامیاب نہ ہوتی۔ بات اس سے بھی آگے ہے کیونکہ کانگریس ارکان اسمبلی نے انحراف کر کے ٹی آرایس میں شمولیت اختیار کر لی ہے تاہم تلنگانہ لیڈر ناگیشور راﺅ نے تلیگو دیشم پارٹی کو خیرباد کہہ دیا ہے اور یہ کانگریس سے الحاق پر راضی نظر آئے تو دوسری طرف نوجوان کانگریس لیڈر ” بی کارتک ریڈی“ نے ٹی آرایس میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ مودی اور اس کی بھاجپا ابھی تک میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ دال میں کچھ کالا ضرور ہے تاہم دو مرحلے باقی ہیں، دیکھتے ہیں کہ کیا پوزیشن بنتی ہے کیا مودی کا خطرہ ابھی برقرار ہے؟

جہاں تک مجموعی صورت حال کا تعلق ہے تو تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی پہلے ہی سب سے اوپر تک پہنچ چکی ہے اور اب اسے نیچے ہی آنا ہے۔ نریندر مودی بہت انفرادی اور جارحانہ قسم کے رہنما ہیں۔ وہ اقلیت میں رہ کر اتحاد کو ساتھ نہیں لا پائیں گے۔ اتحادی جماعتیں مودی کی جگہ بی جے پی کے کسی اور متفقہ رہنما پر زوردیں گی۔

دوسری جانب کانگریس بھی بظاہر اس حالت میں نظر نہیں آتی کہ وہ انفرادی طور پر تو دور کی بات، اپنے سیاسی اتحادی یو پی اے کے ساتھ بھی اکثریت حاصل کرنے کے قریب ہو۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ راہل گاندھی تب ہی وزیر اعظم بنیں گے جب کانگریس کی اپنی اکثریت ہو۔ اگر ان کی سیٹیں کم ہوئیں تو وہ ممکنہ طور پرحزب اختلاف کی جماعتوں کے کسی رہنما کی حمایت کا اعلان کر سکتے ہیں۔ملک کی اگلی حکومت میں علاقائی جماعتوں کا کلیدی کردار ہو گا۔

سنہ 2019ءکے انتخاب میں کئی نئی باتیں ہونے والی ہیں۔ ملک ایک نیا وزیر اعظم دیکھ سکتا ہے جس کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ راہول گاندھی کا کیا کردار رہے گا؟ ان کی سیاسی پختگی کا بھی اندازہ ہو سکے گا اور علاقائی جماعتیں فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔‘

کہاوت ہے کہ دلی کے اقتدار کا راستہ اتر پردیش سے ہو کر گزرتا ہے۔ گزشتہ انتخاب میں اتر پردیش کی 80 میں سے 71 نشستیں جیت کر بی جے پی اقتدار میں آئی تھی۔ لیکن اس بار انتخاب کی صورت بدلی ہوئی ہے۔ ریاست کی دو بڑی علاقائی جماعتیں سماج وادھی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی عشروں کے بعد متحد ہو کر انتخاب لڑ رہی ہیں۔ اگر وہ گزشتہ انتخاب کا نتیجہ پلٹنے میں کامیاب ہوتی ہیں تو دوبارہ اقتدار میں آنے کا بی جے پی کا راستہ انتہائی دشوار گزار ہو گا۔

٭٭٭


ای پیپر