تحریک انصاف آئی ایم ایف کی آغوش میں،،،معیشت اور سیاست میں بحران کی کیفیت
14 مئی 2019 (23:30) 2019-05-14

چوہدری فرخ شہزاد

کسی بھی ریاست میں طرزِ حکمرانی کا اندازہ اس کی معیشت سے ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں معیشت کی بجائے سیاست زدہ اہمیت اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ معاشی فیصلہ سازی کا اختیار جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہے وہ سارے سیاستدان ہیں جس کی وجہ سے ہماری معیشت بھی سیاست کے گرد گھومتی نظر آتی ہے حالانکہ سیاست اصل میں معیشت کا ایک حصہ ہوتی ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ملک کی باگ ڈور ایسے افراد کے ہاتھوں میں ہو جو ملکی معیشت کے ماہر ہوں لیکن ہماری روایات ایسی نہیں ہیں۔ ہماری معاشی بدحالی کی اصل وجہ بھی یہی ہے کہ ملک کے نظام پر قابض سیاسی قوتیں معیشت کو نہیں سمجھتیں۔ اس کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ جس پارٹی کی حکومت آئی ہے وہ ملکی معیشت کو چلانے کے لیے کرائے کے ماہرین اقتصادیات لے آتی ہے اور ان کے ذریعے پالیسیاں بنائی اور نافذ کی جاتی ہیں۔ اس میں دوراندیشی سے کام نہیں لیا جاتا جس کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی جاتی ہے۔

تازہ ترین اطلاعات ہیں کہ آئی ایم ایف کے ایک ملازم ڈاکٹر باقر رضا کو گورنمنٹ سٹیٹ بینک تعینات کردیا گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی سفارش پر ڈاکٹر حفیظ شیخ کو وزیرخزانہ لگایا جاچکا ہے۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ملک میں فنانس کنٹرول کرنے والے اہم عہدوں پر آئی ایم ایف کو براہ راست رسائی حاصل ہو چکی ہے۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ آئی ایم ایف طویل مذاکرات کے بعد پاکستان سے اپنی بات منواتا تھا کہ ڈالر کی قدر میں اضافہ کیا جائے۔ اب سادہ لفظوں میں یہ کنٹرول گورنر سٹیٹ بینک کی شکل میں براہ راست آئی ایم ایف کے پاس ہے۔ اب آپ دیکھیں گے کہ بجٹ کے ساتھ ہی ڈالر 150 روپے پر جمپ کرے گا۔ دوسری طرف ٹیکسوں کی شرح میں اضافے اور مہنگائی کا ایک اور طوفان پورے ملک کے عوام کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔

ایک عام آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے کیا آئی ایم ایف کا ایجنڈا مکمل کرنے کے لیے عوام سے ووٹ لیا تھا۔ آنے والے وقت میں حالات کلیئر ہوں گے کہ کس طرح ملک کا معاشی نظا بہتر بنایا جائے گا۔ آئی ایم ایف کی تاریخ یہ ہے کہ اس کے قرضے کے چنگل میں یونان اور ارجنٹائن جیسے ممالک دیوالیہ ہو گئے۔ جس ملک نے بھی قرض لیا ہے اس کی معیشت نیچے ہی گئی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ بڑا نازک وقت ہے۔ اگر مہنگائی کا سلسلہ نہ تھم سکا تو ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔ تحریک انصاف کے لیے عوام میں خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے مگر وزیراعظم عمران خان اور عوام کے درمیان کابینہ اور پارلیمنٹ حائل ہو چکی ہے اور ان کا عوام سے براہ راست تعلق کمزور ہوچکا ہے انہیں وہی کچھ بتایا جاتا ہے جو کابینہ اپنے تئیں بہتر سمجھتی ہے۔ یہ صورتحال سیاسی ومعاشی طور پر خطرناک ہے۔

حکومت کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ وہ عوام کو اوپر اٹھانے کے پُرفریب نعرے کے بل بوتے پر جیتے ہیں۔ اگر وہ عوام کو اٹھانے کی بجائے انہیں پہلے سے زیادہ پستی میں دھکیل دیں گے تو تحریک انصاف کے لیے الیکشن جیتنا تو کیا اپنی موجودہ مدت پوری کرنا مشکل ہو گا۔

ملک میں پانی کے ذخاءکم ہورہے ہیں، بجلی کا بحران اپنی جگہ برقرار ہے۔ پٹرولیم امپورٹ پر 14ارب ڈالر سالانہ خرچ ہے۔ کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 19ارب ڈالر ہے۔ گردشی قرضے 1000ارب روپے سے اُوپر ہیں۔ ایکسپورٹ کم اور امپورٹ زیادہ ہے۔ ان حالات میں آئی ایم ایف کی سربراہ کو بھی وزیرخزانہ لگادیں تو کچھ نہیں بدلے گا۔ جب آپ کی آمدنی کم اور خرچہ زیادہ ہے توتخت وتاج کی قدیم تاریخ میں ہمیں ایک ایسے نایاب پرندے کا ذکر ملتا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اگر کسی کے سر کے اوپر سے گزر جاتا تھا تو اس کا مطلب یہ ہوتا تھاک ہ یہ شخص ایک نہ ایک دن بادشاہ بنے گا اور پھر جب وہ شخص واقعی بادشاہ بن جاتا تھا تو یہ مفروضہ ایک عقیدے کی شکل اختیار کرلیتا تھا۔ دورحاضر میں یہ بات اب تک مضحکہ خیز سمجھی جاتی رہی کیونکہ جمہوریت میں ایسے کسی پرندے کا وجود نہیں جو کسی کو بادشاہ بنادے گا مگر جب سے سردار عثمان بزدار پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے ہیں پُرانی روایات اورنظریات درست ثابت ہوتے جارہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ صدیوں پُرانا وہ پرندہ اب بھی زندہ ہے اور کہیں نہ کہیں ایسی اُڑان بھرتا ہے کہ جس کو بادشاہ بنانا مقصود ہو وہ ا س کے سر کو اپنا ہدف بناتا ہے۔ حکمران تحریک انصاف میں وزراءاور عہدیداروں کی اعلیٰ منصب پر آمدورفت جاری ہے۔ پُرانے وزراءگھر جاچکے ہیں، ان کی جگہ نئے آچکے ہیں مگر پنجاب کی حکمرانی کا حق ابھی تک عثمان بزدار سے چھینا نہیں جاسکا حالانکہ سب سے زیادہ تنقید وزیراعلیٰ پنجاب کی تقرری پر ہوتی رہی ہے مگر وفاقی کابینہ میں تبدیلی سے پہلے یا بعد میں اب تک کوئی بھی عثمان بزدار کا بال بیکا نہیں کرسکا۔ ماہرین فلکیات کا خیال ہے کہ عثمان بزدار کا ستارہ ابھی اپنی جگہ پر ثابت نظر آتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پنجاب میں تبدیلی کی خبریں دم توڑ رہی ہیں۔

دوسری جانب نظر دوڑائیں تو لگتا ہے کہ اپوزیشن کیمپ کی خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ قطعاً نہیں بلکہ اس کے پیچھے بھی مقاصد کارفرما ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق شہبازشریف نے اپنے لندن میں قیام کا دورانیہ بڑھا دیا ہے اور ان کی جگہ پارٹی نے قومی اسمبلی میں خواجہ آصف کو لیڈر آف دی اپوزیشن تعینات کردیا ہے۔ شہبازشریف کا بیٹا سلمان شہباز اور داماد علی عمران پہلے ہی ملک چھوڑ کر جاچکے ہیں اور نیب کو مطلوب ہیں۔ خواجہ آصف کی نامزدگی کے پیچھے بھی اُسی لاپتہ پرندے کا ہاتھ ہے جس نے عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ بنوایا ہے۔ اسی اثناءمیں سیالکوٹ کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے تحریک انصاف نے سیالکوٹ سے اپنی ہاری ہوئی لیڈر فردوس عاشق اعوان کو مشیراطلاعات مقرر کردیا جو جمہوری یا صحت مند روایت نہیں ہے۔ اس پس منظر کے بعد اپوزیشن کے لیے ضروری ہو گیا تھاکہ وہ توازن برابر رکھنے کے لیے لیڈر آف اپوزیشن کی سیٹ ایسے بندے کو دے جو سیالکوٹ سے بھی ہو اور مشیراطلاعات کو شکست دے چکا ہو لیکن پاکستان مسلم لیگ ن نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ خواجہ آصف کے خلاف نیب میں مقدمہ زیرسماعت ہے جس کی بناءپر الزامات ثابت ہونے پر وہ نااہل ہو سکتے ہیں پھر بھی انہیں اپوزیشن پارٹی کا اعلیٰ ترین منصب دیدیا ہے۔ ن لیگ سمجھتی ہے کہ اگر لیڈر آف دی اپوزیشن پے درپے نااہل ہوتے رہیں گے تو عوام کو باور کرانا آسان ہو گا کہ ن لیگ کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ وزیرریلوے شیخ رشیدنے آج سے کئی ماہ پہلے کہہ دیا تھا کہ شہبازشریف نے حکومت کے خلاف بیان بازی کا سلسلہ اس لیے بند کررکھا ہے کہ وہ سمجھوتہ کے لیے گفت وشنید کررہے ہیں۔ ان کی بات کچھ کچھ درست نظر آتی ہے۔ شہبازشریف ن لیگ کے اہم ترین لیڈر ہیں اور ان کا اس طرح منظر سے غائب ہونا بہت سارے سوالوں کا جواب ہے لیکن یہ تو ن لیگ کا ایک پرومو ہے، اصل کہانی تو میاں نواز شریف کے گرد گھومتی ہے جو پارٹی کا مرکز ومحور ہیں لیکن حیرت اور دلچسپی کی بات یہ ہے کہ وہ شہبازشریف سے زیادہ خاموش ہو چکے ہیں۔ ان کی ضمانت اور خاموشی دونوں کو ملا کر پڑھا جائے اور ان کی ضمانت میں توسیع کی درخواست کا ذکر کیا جائے تو لگتا ہے کہ ان کی اگلی منزل بھی لندن ہے۔

وزیراعظم عمران خان ہر فورم پر این آراو کی تردید کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ ایک عام فہم بات ہے کہ اگر گہرے بادل چھائے ہوں اور موسمیات والے کہیں کہ بارش نہیں ہوگی تو شک کے ساتھ ان کی بات مانی جاسکتی ہے مگر جب موسمیات والے جہاں کھڑے ہو کر بارش کی تردید کررہے ہوں اور اوپر سے بارش آجائے تو پھر کوئی کیا کرسکتا ہے۔ لگتا ہے کہ احتساب کا عمل پورا ہونے میں کافی مشکلات درپیش ہیں۔

ان مشکلات میں سیاسی اور معاشی دونوں قسم کی مشکلات حکمران جماعت کو گھیرے ہوئے ہیں۔ اسدعمر گھر چلے گئے مگر ان کے اقدامات سے عام آدمی کو جو نقصان پہنچا ہے ابھی تو یہ محض آغاز ہے۔ ملک میں افراط زرّ اور مہنگائی نے کہرام مچا دیا ہے۔ کہاں گئے ان کے ماہرین جو کہتے تھے کہ ایک دفعہ ہمیں موقع دیں اور پھر دیکھیں۔ ادویات اور خوراک کی قیمتوں میں سب سے زیادہ افزائش دیکھنے میں آئی ہے۔ جون کے بجٹ کے بعد صورتحال مزید خراب ہونا یقینی ہے۔ آج تک کوئی ایسا بجٹ نہیں آیا جس میں قیمتیں کم ہوئی ہوں۔

یکم مئی سے پہلے اوگرا نے پٹرول میں 14روپے فی لٹراضافے کی سمری وزیراعظم کو بھیجی جس کا طریقہ واردات یہ تھاکہ جب فیصلہ کرلیا جاتا ہے کہ 7روپے بڑھانے ہیں تو اوگرا اسے 14روپے کی سفارش کروائی جاتی ہے اور عوام کو واضح کیا جاتا ہے کہ دیکھو ہم عوام کا کتنا درد رکھتے ہیں کہ ہم نے 14روپے اضافہ منظور نہیں کیا بلکہ اُسے آدھا کردیا ہے، یہ شعبدہ بازی نہیں تو اور کیا ہے۔ اس دفعہ اوگرا کی سفارش نے انہیں مشکل میں ڈال دیا کیونکہ جس دن قیمت بڑھانا تھی وہ مزدوروں کا عالمی دن تھا سب نے کہا تھا کہ دیکھا یوم مئی پر حکومت نے کیا تحفہ دیا ہے، دوسرا چند دن بعد رمضان شروع ہونے والا ہے لہٰذا اس اضافے کو رمضان المبارک کا دوسرا تحفہ بھی سمجھا جانا تھا حکومت نے اضافہ عارضی طور پر روک لیا جو کسی بھی وقت نافذ ہوسکتا تھا۔

آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات آخری مراحل میں ہیں۔ حفیظ شیخ کو آئی ایم ایف اپنا بندہ سمجھتی ہے جبکہ وہ پاکستان کا مشیرخزانہ ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ آئی ایم ایف سے وفاداری نبھاتا ہے یا پاکستان کے ساتھ۔ حفیظ شیخ کے لیے یہ نازک صورتحال ہے ”ایک طرف اس کا گھر اک طرف میکدہ“۔ یہ سننے میں آرہا ہے کہ ایک ہزار ارب کے نئے ٹیکس لگانے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔

حکومت کے لیے اچھی خبر یہ تھی کہ اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیاں تتربتر ہوچکی تھیں اور بُری طرح احتساب کے شکنجے میں جکڑی نظر آتی تھیں اس لیے ان کے پاس موقع تھا اپنا ایجنڈا نافذ کرنے کا لیکن امرِواقعہ یہ ہے کہ اس حکومت کو کسی اپوزیشن کی ضرورت نہیں رہی۔ پارٹی کے اندر اختلافات اتنے زیادہ ہیں کہ یہ خود ہی حزب اقتدار اور خود ہی حزب اختلاف ہیں۔ پارٹی کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ اور نااتفاقی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ پارٹی کے اصل امور اس وقت ٹیکنوکریٹس، مشیران اور غیرمنتخب لوگ چلارہے ہیں۔ دیکھتے ہیں یہ سلسلہ کب تک جائے گا۔

اگر ن لیگ کے ساتھ خاموش سمجھوتہ ہو گیا جو کہ نظر آرہا ہے تو سندھ میں پیپلزپارٹی کے خلاف جاری احتساب کا سلسلہ بھی متاثر ہوگا۔ یہ حکومت احتساب کے نام پر برسراقتدار آئی تھی اگر وہ اپنے وعدے پورے نہ کرپائے تو موجودہ حکومت کے لیے اپنی مدت پوری کرنا آسان نہیں رہے گا۔ عوام کے صبرکاپیمانہ دن بدن لبریز ہورہا ہے۔ حکومت کے لیے اس وقت آسمان اور کھجور کے درمیان والی منزل ہے اور اگر کھجور میں اٹکنے سے بچ بھی گئے تو بھی زندگی گلزار نہیں ہوگی۔

٭٭٭


ای پیپر