گرم موسم میں سیاسی گرما گرمی۔۔۔مسلم لیگ (ن)کی تنظیم نو
14 مئی 2019 (23:24) 2019-05-14

کیا پارٹی سینئر رہنما چلائیں گے؟یا نئے عہدے دے کر پارٹی کو ٹوٹنے سے بچایا گیا ہے؟ .... خصوصی تحریر

کوئی ادارہ ہو، تنظیم ہو، سیاسی جماعت یا پھر حکومت.... کامرانی وہیں ہوتی ہے جہاں جمہوریت کے اصول کارفرما ہوں۔ اس کے برعکس جہاں فرد واحد ہی کی ہاں میں ہاں اور ناں میں ناں ملائی جائے، وہاں خرابی اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ تعفن کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور بگاڑ ناقابل اصلاح بن جاتا ہے۔ ہمارے ہاں ملکی سطح پر تو جمہوریت کا جو حال ہے وہ ہے ہی، سیاسی جماعتیں بھی، ادکا دُکا استثنیٰ کے ساتھ، جمہوریت کی حقیقی روح سے ناآشنا ہیں، اور یہاں سے شروع ہونے والی سیاسی سجادہ نشینی ملکی سطح تک پہن جاتی ہے جس کے نتائج ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔

شائد پارٹی سطح پر اس Status quo سے نکلنے کے لئے ہی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی تنظیم نو کی گئی ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کا تنظیمی ڈھانچہ نامکمل چلا آ رہا تھا، کئی سالوں سے پارٹی سیکرٹری جنرل کے بغیر ہی چل رہی تھی۔ شریف خاندان جو ”ن“ کے ارد گرد گھوم رہا تھا اب قدرے سائیڈ لائن ہو گیا ہے مگر مریم نواز اور حمزہ شہباز کو نائب صدور بنا کر یہ تاثر بھی قائم کیا گیا ہے کہ اگر زندگی میں کبھی اس جماعت کو دوبارہ اقتدار کا موقع ملا تو ان خاندانی سیاسی ”سجادہ نشینوں“ کو نائب صدور سے صدر بنانے میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی۔ دیگر تبدیلیوں میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کا سینئر نائب صدر اور رانا تنویر حسین کو پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنانے کے فیصلہ کیا گیا، اس کے علاوہ پارٹی میں حمزہ شہباز اور مریم نواز کے علاوہ 14نائب صدور ہوں گے جن میںایاز صادق، عابد شیر علی، خواجہ سعد رفیق، خرم دستگیر، میاں جاوید لطیف، محمد زبیر، مشاہد اللہ خان، پرویز رشید، راحیلہ دورانی، رانا تنویر حسین اور سردار مہتاب احمد خان نمایاں ہیں۔ اسحق ڈار لندن میں ”جلاوطنی“ کی زندگی بسر کر رہے ہیں لیکن پارٹی نے ان کو فراموش نہیں کیا، انہیں انٹرنیشنل افیئرز کا صدر بنایا گیا ہے۔ مفتاح اسماعیل کو سندھ کا جنرل سیکرٹری مقرر کر دیا گیا،13رکنی ایڈوائزری کونسل بھی تشکیل دی گئی ہے اور اس کے علاوہ بھی عہدے تقسیم ہوئے ہیں جن میں کارکنان اور پارٹی رہنماﺅں کو کھپایا گیا ہے۔ یہ سب تبدیلیاں پارٹی میں یقینا کسی خاص تبدیلی کا ہی پیش خیمہ ہیں۔ اور ن لیگ جب مشکل دور میں گزر رہی ہے تو ایسے میں بظاہر تو نواز شریف نے یہ کارڈ بڑی خوبصورتی سے کھیلا ہے کہ پارٹی میں بغاوت ہونے سے پہلے ہی انہوں نے پارٹی رہنماﺅں کو دبنگ عہدوں سے نواز دیا ہے لیکن یہ کوئی نہیں جانتا کہ اندر کھاتے کیا حقیقت پنہاں ہے؟

اور چونکہ انہیں علم ہے کہ فی الحال ن لیگ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے دور دور تک کوئی چانس نہیں ہیں اس لیے انہوں نے عہدوں کی تقسیم کر دی ہے اور جیسے ہی کبھی ن لیگ کے پارٹی اقتدار میں آنے کے چانسز بنیں گے تو یقینا حمزہ شہباز، مریم نواز یا خاندان کا کوئی چشم و چراغ ہی اقتدار میں ہوگا۔ کیوں کہ 1999ءمیں بھی ایسا ہی کچھ دیکھنے میں آیا تھا اور جب 2013ءمیں اس پارٹی کو اقتدار ملا تو پارٹی کے تمام سیاسی رہنماﺅں کو پیچھے دھکیل دیا گیا۔ کہا جا سکتا ہے کہ اب بھی ایسا ہی ہوگا۔ کیوں کہ ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں کی صورتحال ایک جیسی بن گئی ہے۔ تمام پارٹیوں میں موروثیت انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان جمہوری ہونے کے باوجود بھی جمہوری ملکوں کی فہرست میں 110ویں نمبر پر موجود ہے۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ کیا مسلم لیگ ن میں ایک بندہ بھی ایسا نہیں ہے جو شہباز شریف سے بہتر ہوتا۔ شہباز شریف میں کیا خوبی ہے؟کہ وہ نواز شریف کا بھائی ہے۔ مریم نواز میں کیا خوبی ہے کہ وہ اُں کی بیٹی ہے۔ یہ لوگ کون سی ڈگری لے کر آئے ہیں، کیا یہ دنیا کی بہترین یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس میں ٹاپ کر کے آئے ہیں؟ حمزہ شہباز کی کیا ڈگری ہے؟ کہ وہ شہباز شریف کا بیٹا ہے، بلاول کی کیا کوالیفیکیشن ہے؟

یہ کیسا ملک ہے جہاں موروثی سیاست اس قدر پروان چڑھ رہی ہے کہ جان چھڑانے سے بھی نہیں چھوٹتی۔ مفتی محمود کے بعد مولانا فضل الرحمن، ولی خان کے بعد اسفند یارولی، عطامینگل کے بعد اختر مینگل، غوث بخش بزنجو کے بعد بزل بزنجول، اچکزئی، بزنجو، رئیسانی، مری، مینگل، بگٹی، زہری، غرض کسی کا نام بھی لیں تو ان سارے خاندانوں کی سیاسی نظام پر اجارہ داری اپنے اپنے قبائلی یا نسلی خطوں میں برقرار ہے۔ پاکستان میں موروثی سیاست یا خاندانی سیاست و قیادت نہ صرف اعلیٰ سطح پر مروج ہے بلکہ کونسلر کی سطح کے انتخابات میں بھی لوگ عموماً ایک ہی خاندان سے وابسطہ امیدواروں کو منتخب کرتے ہیں۔ سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والے یہ نابالغ سیاستدان عوامی خدمت کیا کریں گے؟ جنہیں پاکستان کی گلی محلوں کے حالات کا اندازہ ہی نہیں ہے۔ پاکستان میں تو خاندانی قیادت، خاندانی حکمرانیوں کی مضبوطی کا عالم یہ ہے کہ آنے والی کئی نسلوں تک کے لیے ”ولی عہد“ کی فوج تیار کی جا رہی ہے اور انھیں سیاست میں متبادل جمہوری بادشاہوں کی حیثیت سے اس طریقے سے متعارف کرایا جا رہا ہے کہ باہر سے آنے والے مہمان حکمران بھی اس کو دیکھ کر منہ بناتے دیکھے جاتے ہیں۔

ان پارٹیوں سے ہم اُمید کرتے ہیں؟ کہ یہ اب ملک کی حالت بہتر کریں گی۔ ان کی توجہ تو ملک کے بجائے اپنی حالت بہتر کرنے میں ہوتی ہے۔ ان لوگوں کی تو تربیت ہی ایسی ہے کہ یہ کسی سے مل سکتے ہی نہیں ان کے بچوں کے لیے تو فرانس سے برانڈڈ پانی منگوا کر پینے کے لیے دیا جاتا ہے۔ ہم نے حمزہ شہباز اور شہباز شریف کے ہاتھوں لوگوں کو روتے ہوئے دیکھا ہے۔ ہم نے ایک اشتہار دیکھا جس میں موصوف سیاسی پارٹی کے خاندان کی تصاویر نمایاں تھی۔ نیچے فخریہ انداز میں لکھا تھا ہمارے ”سپوت“۔ یعنی ہم خود بھی نہیں چاہتے کہ پاکستان میں خاندانوں کا اقتدار ختم ہو۔ ہمیں بھی وراثتی پارٹیاں ہی پسند ہیں۔ آپ پیپلزپارٹی کو دیکھ لیںاعتزاز احسن، رضا ربانی جیسے لوگ ہیںکیا یہ نالائق لوگ ہیں؟جن کی پوری دنیا قابلیت کی معتقد ہے انہیں یہ پارٹیاں سائیڈ لائن کر کے خود اقتدار میں آ جاتی ہیں۔ ہمیں بتایا جائے کہ زرداری نے کونسی جدوجہد کی ہے؟ وہ جب بھی اندر ہوتے ہیں، یہ کرپشن کی بنیاد پر ہی اندر ہوتے ہیں؟کون سا سر پر ڈنڈا کھایا ہے؟

خیر بات ہو رہی تھی ن لیگ کی تو 1999ءمیں اقتدار چھن جانے کے بعد میاں نواز شریف جب مشرف دور میں جیل گئے تھے تو انہوں نے مسلم لیگ کی صدارت چھوڑنے کے بجائے اپنی بادشاہت قائم رکھی اور طویل سزا سننے کے بعد بھی کسی کو قائم مقام صدر نہیں بنایا جبکہ پارٹی میں درجنوں نائب صدر بن چکے تھے اور ظفر الحق جو سینئر نائب صدر تھے، بار بار بیان دیتے رہے کہ وہ اس عہدے کے صحیح حقدار ہیں اور سیاست میں بھی یہی ہوتا ہے کہ صدر حاضر نہ ہو تو نائب صدر ہی صدارت کرتا ہے۔ راجہ ظفر الحق نے تو پارٹی کو متحد رکھ کر اپنی اہلیت ثابت بھی کر دی تھی۔ وہ نواز شریف کی غیر موجودگی میں غیر متنازع شخصیت بن کر ابھرے تھے مگر نواز شریف صاحب نے جیل سے خط بھیج کر پارٹی لائن بنائی تو اس میں ان چہیتوں کا ذکر اور خراجِ تحسین پیش کیا تھا، جن کی غلط اور خوشامدانہ پالیسیوں اور چاپلوسیوں کی وجہ سے ان کو یہ دن دیکھنا پڑا تھا، مگر ظفر الحق کے لئے ایک جملہ بھی لکھنا مناسب نہیں سمجھا۔ یہ بات سب سے زیادہ جن لیڈروں نے محسوس کی ان میں چوہدری شجاعت، میاں اظہر، شیخ رشید، عابدہ حسین، فخر امام و دیگر قائدین شامل تھے۔ اُس وقت بھی میاں نواز شریف نے دیگر سیاست دانوں کی طرح مسلم لیگ کو اپنی ملکیت سمجھتے ہوئی اپنی بیگم کلثوم نواز (مرحوم)کو جو سو فیصد خانہ داری میں مصروف تھیں، یکایک میدانِ سیاست میں اتار دیا۔ بعد میں انہی میاں صاحب کی غلطیوں سے پاکستان مسلم لیگ ق معرضِ وجود میں آئی تھی، جس کے صدر چوہدری شجاعت حسین ہیں اور دوسری پارٹی اعجاز الحق نے بنالی تھی۔

تاریخ گواہ ہے کہ میاں صاحب نے اپنے تمام ادوار میں کارکنوں کو کچھ نہیں دیا اور جب ان پر مصیبت آتی ہے تو کارکن یاد آتے ہیں۔ اور اب حالیہ چند سالوں میں جب میاں صاحب دوبارہ پھنس گئے تو انہوں نے صدارت شہباز شریف کے حوالے کر دی مگر اندورنی طور پر وہ تمام اختیارات مریم نواز کو دینا چاہتے ہیں، مجھے تو بعض مسلم لیگیوں پر ترس آتا ہے جنہوں نے ایامِ اقتدار میں صرف قربانیاں ہی دی ہیں اور آج بھی مسلم لیگ کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں کیونکہ وہ واقعی مسلم لیگ سے مخلص ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ مسلم لیگ کو بحران سے نکالنے کیلئے مخلص قائدین کو آگے لایا جائے۔ سیاست میں ہمیشہ فتح کا خواب نہیں دیکھا جاتا، شطرنج کی طرح بازی ہاری اور ہاری ہوئی جیتی بھی جاتی ہے۔ بہرکیف میاں صاحب کے اقتدار کے سورج کا ایک بار پھر طلوع ہونا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ آج جبکہ نواز شریف 7 مئی2019ءکو ایک بار پھر جیل یاترا کر رہے ہیں تو صحت، عدالتیں، احتساب۔ سب حقیقتیں سامنے موجود ہیں۔ اور بادی النظر میں ن لیگ نے عدالت میں جھوٹ بولنے کے جو ریکارڈ قائم کیے ہیں، انہیں تاریخ میں ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔

لہٰذاضرورت اس امر کی ہے کہ ن لیگ یا پیپلزپارٹی یا دیگر جماعتیں اگر اپنی بقاءچاہتی ہے تو خالص جمہوری اقدامات اور روایات کی مثال پیدا کریں۔ ہم حمزہ شہباز، مریم نواز، بلاول یا کسی دوسرے سیاسی سجادہ نشین کے مخالف نہیں ہیں لیکن یہ لوگ مناسب پلیٹ فارم سے منتخب ہو کر اقتدار میں آنے کی کوشش کریں جن پر کوئی اعتراض نہ کر سکے۔ دنیا بھر میں ایسے ممالک بھی ہیں جن میں موروثی سیاست بھی ہوتی ہے مگر جمہوری روایات کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ امریکا میں بش کے بعد بش کا بیٹا اقتدار میں آتا ہے، کلنٹن کے بعد اُس کی بیوی اُمیدوار بنی۔ اسی طرح بھارت میں بھی جب تک کانگریس غیر موروثی رہی کامیاب رہی، اور جب کانگریس بھی مکمل طور پر موروثی پارٹی بن گئی تو اُس کا حال بھی سب کے سامنے ہے۔ لہٰذا اگر آگے بڑھنا ہے تو موروثیت کو سائیڈ لائن ہی رکھنا ہے ورنہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی جیسی بڑی پارٹیاں بھی ماضی کا قصہ بن جائیں گی۔


ای پیپر