”کالے دھن کو سفید کریں “,حکومت نے زبردست آفر متعارف کروا دی
14 مئی 2019 (17:09) 2019-05-14

اسلام آباد: مشیر خزانہ حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ ایمنسٹی اسکیم کا مقصد کالے دھن کو سفید کرنے کا موقع دینا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے طویل مشاورت کے بعد اپنی پہلی ٹیکس ایمنسٹی اور اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم متعارف کروادی،ایمنسٹی اسکیم کے تحت چار فیصد ٹیکس ادا کرکے اثاثے ظاہر کیے جا سکیں گے جبکہ جن لوگوں کے اثاثہ بیرون ملک ہیں وہ 6 فیصد ٹیکس دیکر ان کو ریگولرائز کراسکتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں طویل عرصے سے زیر غور ٹیکس ایمنسی اسکیم 2019 کی منظوری دی گئی، کابینہ کی جانب سے ایمنسٹی اسکیم کی منظوری کے بعد صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ایمنسٹی اسکیم نافذ کردی جائے گی۔ اجلاس میں وزیراعظم کواشیائے خور و نوش، موجودہ نظام تعلیم کے حوالے سے بھی بریفنگ کابینہ کے ایجنڈے کا حصہ تھی، مدارس کو قومی دھارے میں لانے سے متعلق اب تک کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا بیرون ملک قید پاکستانیوں کو قونصلر رسائی پالیسی کا معاملہ بھی زیر غور آیا ۔

واضح رہے کہ اس اسکیم کے تحت کالا دھن رکھنے والے افراد اسے سفید کرسکیں گے۔ اجلاس کے بعد وفاقی مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ نے وزیرمملکت برائے ریونیوحماد اظہر، معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان ،چیئرمین ایف بی آر شرزیدی کے ہمراہ میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم کا فیصلہ کیا ہے آئی ایم ایف معاہدے کے اثرات کمزورطبقات پر نہیں پڑنے دیں گے، بجلی اور گیس کے75فیصد صارفین کیلئے 216ارب سبسڈی رکھی گئی ہے،آئی ایم ایف معاہدے سے پاکستان کی معیشت مستحکم ہوگی۔

مشیر خزانہ حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ اسکیم کا مقصد کسی کو ڈرانا دھمکانا نہیں بلکہ کالے دھن کو قانونی دائرے میں لانا اور حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ حکومتی عہدیداران کے علاوہ ہر پاکستانی سکیم میں شامل ہوسکتا ہے۔ بیرون ملک اثاثے ظاہر کرنے کے لئے بینک میں رکھنے اور رئیل اسٹیٹ کی ویلیو ایف بی آر کی ویلیو کے ڈیڑھ گنا زیادہ ہونے کی شرط ہے۔ آئی ایم ایف سے قرض کے لئے شرائط پاکستان کے مفاد میں ہیں کمزور طبقے کو مہنگائی اور آنے والے وقت سے بچانے کیلئے فیصلے کیے ہیں کوشش ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ 300 یونٹ سے کم کا استعمال والے صارفین پر نہ پڑے۔

حفیظ شیخ نے کہا کہ کابینہ کے آج کے فیصلوں میں ایک اہم فیصلہ اثاثے ظاہر کرنے کی سکیم کا ہے اس سکیم کا بنیادی مقصد بلیک اثاثوں کو قانون کے دائرے میں لانا ہے اور لوگوں کو موقع دینا ہے انہوں نے کہا کہ سکیم کا مقصد ریونیو اکٹھا کرنا نہیں بلکہ مردہ اثاثوں کو فعال بنانا ہے ہم نے کوشش کی ہے کہ یہ سکیم سمجھنے اور عمل کرنے سے آسان ہو اور اچھے انداز میں اس پر عمل ہو سکے اس سکیم کا فلسفہ لوگوں ڈرانا دھمکانا نہیں‘ بزنس کے لوگوں کو حوصلہ افزائی کرنا ہے تیس جون تک لوگوں کو اس سکیم میں شامل ہونے کا موقع ملے گا۔

اس سکیم میں حکومتی عہدیداران کے علاوہ ہر پاکستانی شامل ہوسکتا ہے بیرون ملک اور باہر کی آمدن کیش کی صورت میں بینک میں رکھنا لازم ہوگا اور رئیل اسٹیٹ کی صورت میں جائیداد کی قیمت ایف بی آر کی قیمت کے 1.5 گنا زائد ہونی چاہیے انہوںنے کہا کہ ملک سے باہر لے جائی گئی رقم پر چار فیصد دے کر اسے سفید کیا جاسکتا ہے اس رقم کو بینک اکاﺅنٹ میں رکھنا ہوگا اگر کوئی اپنی رقم کو وائٹ کرکے بیرون ملک کرنا چاہتا ہے تو اسے چھ فیصد دینا ہوگا انہوں نے کہا کہآئی ایمایف اور پاکستان کے مذاکرات آٹھ ماہ سے لچ رہے تھے ابھی مکمل ہوئے ہیں اب آئی ایم ایف کا بورڈ اس کی منظوری دے گا۔

آئی ایم ایف بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا مقصد مسائل میں گھری حکومتوں کو تعاون فراہم کرنا ہے آئی ایم ایف کی شرائط پاکستان کے مفاد میں ہیں اور پاکستان کی اس وقت ضرورت ہیں انہوں نے کہا کہ آمن سے زائد اخراجات میں کمی‘ خسارے میں کمی‘ درامدات اور برآمدات میں فرق کو ختم کرنا پاکستان کے فائدے میں ہے اگر ہم اپنے لوگوں کو بہتری کی جانب لے کر جانا چاہتے ہیں تو ہمیں بہتر اقدامات کرنا ہوں گے انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمت بڑھی تو تین سویونٹ سے کم استعمال کرنے والوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ بے نظیر انکم سپورٹ اور احساس پروگرام کو دگنا کیا جارہا ہے۔

گیس کے کم استعمال کرےن والوں کو بھی مہنگائی کے اثرات سے بچانے کی کوشش کی جائے گی ترقیاتی فنڈز بڑھائے جارہے ہیں کوشش ہے کہ کمزور طبقے ک انے والی دقت سے بچایا جائے انہوں نے کہا کہ پچھلے پانچ سال میں پاکستان کی ایکسپورٹ میں اضافہ نہیں ہوا جبکہ درآمدات میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔ ایک سولا پر کہا کہ بے نامی اکاﺅنٹ ظاہر نہ کرنے پر جیل بھی بھیجا جاسکتا ہے۔ اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا کہ پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کی تین قیمتیں ہیں۔ یہ سکیم ماضی کی سکیموں سے مختلف کیوں ہے،اس سکیم پر عملدرآمد کرنے والے کو ٹیکس فائلر بننا ضروری ہوگا۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اگلے ساڑھے چار سال میں ٹیکس سسٹم کو وسیع کرے گی اور غیر دستاویزی سیکٹر کو ٹیکس سسٹم میں شامل کرے گی انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے بجٹ کو 180ارب کردیا گیا ہے۔ گیس کی قیمت بڑھے گی تو بھی کمزور طبقات پر منفی اثرات نہیں پڑیں گے۔اسی طرح قومی اہمیت کے پراجیکٹ کو متاثر نہیں ہونے دیں گے۔رواں سال ترقیاتی پروگرام کا بجٹ 800ارب تک ہوسکتا ہے۔حفیظ شیخ نے کہا کہ بے نامی لائ کے اندر بہت بڑی مشکل ہے۔شبر زید ی کے اوپر ہے کہ وہ کس طرح ایف بی آر کو لے کرچلتے ہیں۔لیکن اگر پیسے والے لوگ بلیک منی رکھیں گے، اور ٹیکس بھی نہ دیں توان کیخلاف ایکشن ہونا چاہیے۔بے نامی پراپرٹی سفید نہیں کی جاتی تو ضبط کرلی جائے گی۔

پیسے والے لوگ اگر اثاثے ظاہر نہیں کریں گے توسزائیں دی جائیں گی۔انہوں نے کہاکہ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ ایمنسٹی اسکیم آخری موقع ہے۔انہو ں نے کہا کہ 28ممالک میں ڈیڑھ لاکھ بینک کاو¿نٹس سے متعلق تفصیلات اکٹھی کی ہیں۔بے نامی اکاو¿نٹس ظاہر نہ کرنے پر جیل بھی ہوسکتی ہے۔اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں ایمنسٹی اسکیم اورپی ٹی ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹر ز کی تشکیل کی منظوری دے دی گئی ہے۔اجلاس میں کراچی اور کوئٹہ کی خصوصی عدالتوں کے ججز کی تعیناتی اورانفارمیشن کمیشن کے ارکان کے تنخواہ پیکج کی منظوری دی گئی ہے۔ اسی طرح انسداد منشیات کیلئے عطیہ چینی سامان پر ڈیوٹی چھوٹ منظور کرلی گئی ہے۔ اجلاس میں اوورسیز پاکستانی قیدیوں کوقونصلر رسائی کی پالیسی اورپی آئی اے کے ایئریل ورک اور چارٹرڈ لائسنسوں کی تجدید کی منظوری دی گئی ہے۔


ای پیپر