” ریاض اور ریبا“
14 May 2019 2019-05-14

کیا کسی بھی مسلمان کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ ایمان لائے ، اللہ اور اُس کے رُسول پر ، مگر جب پڑھ لکھ جائے، تو پھر بات برٹنڈرسل ، گوئیٹے اور ٹیگوڑ کی، جب عمر کے آخری حصے میں اُسے کامیابی ملے، تو اُسے اپنی مہارت بلکہ میں تو یہ کہونگا کہ اُسے اپنی ” جسارت“ سے مُوسوم کر دے۔

خیر قارئین، عالم اسلام میں ما شاءاللہ ہمیشہ سے عالمِ باعمل موجود رہتے ہیں۔ جن کی وجہ سے یہ نظام کائنات رواں دَواں ہیں، مگر اسلامی شرعی عدالتوں ، اور اسلامی نظریاتی کونسل کو ” ناقص“ کارکردگی کی بنا پر بند کر دینا چاہئے، اِس ضمن میں فواد چودھری کا پہلی دفعہ ہم نوابنے بغیربنتی ہی نہیں، اگر دُور اِنصاف میں چاند دیکھنے پر رویت ہلال کمیٹی کے چالس لاکھ بچانے پر سوچا جاسکتا ہے، تو اِن متذکرہ اِداروں کی بندش میں کیااَمر مانع ہے؟

اِس کا جواب تو کوئی مُستند مفتی ہی دے سکتا ہے، ہم تو محض مفت ہی میں یہ مشورہ دے سکتے ہیں۔

قارئین اَب چلتے ہیں، دور مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف، جس کی تمنا اور آرزو میں ہم دُعا گو بن جاتے ہیں، کہ کاش میں دور محمد میں اُٹھایا جاتا مگر جب کامیابی، سالوں کی منصوبہ بندی، عوام اور ووٹر کی ”ناکہ بندی “ کے بعد ملے تو پھر اسے پیروں ، فقیروں کی دین سمجھا جائے، کس قدر کم فہمی ہے۔

اِس حوالے سے اگر ” وزیر چھک چھک“ کے بجائے دوسرے کسی وزیر باتدبیرے مشورہ کیا جائے، تو زیادہ بہتر ہے، مگر اِس حوالے سے بھی دوبارہ” کاش “ لکھنا میری مجبوری ہے، عالمِ اسلام کے شہرہ آفاق، دانشور مولانا سید ابوالحسن علی ندوی صاحب، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مشورے کے بارے میں بتاتے ہیں کہ قریش کے لشکر نے بدر کے میدان میں پہنچ کر وادی کے ایک طرف پڑاﺅ ڈالا، اور دوسری طرف مسلمانوں نے پڑاﺅ ڈال دیا۔

اِس دوران حضرت حباب رسول پاک کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ، کیا اِس مقام پر پڑاﺅ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے، جِس میں کوئی ردو بدل ہمارے لئے جائز نہیں، یا اِس کا تعلق ، جنگی حکمت عملی سے ہے، آپ نے فرمایا کہ نہیں یہ تدبیر و حکمت کی بات ہے، اِس میں دشمن کو دھوکے میں ڈالنے کی تمام چیزیں اختیار کی جاسکتی ہیں۔

اُنہوں نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، پھر میں عرض کروں کہ یہاں پڑاﺅ اِس وجہ سے مناسب نہیں ہے،

اِس حوالے سے اُنہوں نے ایک دوسری جگہ کی نشان دہی کی ، جو جنگ کے لئے زیادہ مناسب اور مُوزوں تھی، یہ سن کر رسول اللہ نے فرمایا ، کہ تم نے بالکل دُرست بات کی ہے،

اس کے بعد آپ اپنے تمام لوگوں کے ساتھ اُس مقام کی طرف چلے گئے، اور وہاں قیام کیا، کہ جو پانی سے قریب ترین تھی، رسول پاک اور صحابہ کرام ؓ رات تک سب سے پہلے پانی کے پاس پہنچ گئے، اور حوض بھی تیار کر کے اُنہیں پانی سے بھر دیا گیا۔

قارئین، آپ یہ سُن کر رحمت العالمین کے رحم و کرم پرفریفتہ ہو جائیںگے، کہ آپ ﷺ نے کافروں کو بھی وہاں سے پانی پینے کی اجازت دے دی اُس رات کو بارش بھی اللہ نے برسا دی، جو کافروں کو تو بہت مہنگی پڑی ، اور ان کی پیش قدمی رُک گئی۔

مگر مُسلمانوں کے لئے یہ بارش باعثِ رحمت بن گئی، زمین پہ ریت جم گئی، جس وجہ سے اُن کے دلوں کو سکون اور اطمینان مِلا دو قوموں کی جنگ سے زیادہ پریشانی اور کیا ہوسکتی ہے، مگر صلاح مشورے کی بدولت ، مسلمانوں کے اِس مسئلے کو بھی اللہ تعالیٰ نے دُور فرما دیا۔اب اِس وقت پاکستان خواہ کِسی بھی حوالے سے اگر بحرانی کیفیت میں ہے، تو اِسے حل کرنے کے لئے ” مشاورت“ کی جائے، اور سب سے پہلے مسلمان ملکوں کو اِس ضمن میں سنجیدگی اورمتانت کے ساتھ اپنی مشکلات بتائی جائیں، دُنیا میں محض ایک ادارہ آئی، ایم ایف ہی نہیں، دُنیا کے دوسرے ملکوں کے بینک بھی آسان شرائط پہ قرضہ دینے پر تیار ہو جائیں گے۔ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی صورت میں ہم مزید قرضے کے بوجھ تلے دَب جائیں گے، پیپلز پارٹی ، ن لیگ، اور پھر تحریک انصاف، سب ایک ہی حمام میں ننگے ہو جائیں گے اور کوئی کسی سے شکوہ کرنے ، اور گِلہ دینے کے قابل نہیں رہے گا،

اوائیل میں جب ریاست مدینہ کی داغ بیل رکھنی شروع کی گئی، تو اُس وقت بھی ریاست مدینہ کے یہی حالات تھے، مگر رُسول پاک ﷺ نے سب سے پہلے ، اکابرین مدینہ کے ساتھ گفت و شنید کی، تو مدینے کے سب سے متمول شخص نے ریاست کی مدد کی، اُن کی حیثیت اور مرتبہ امیری اِس قدر بلند تھا، کہ اُن کے وصال کے بعد جب اُن کے وارثین میں جائیداد تقسیم کرنے کا وقت آیا، توان کے پاس سونا اِس قدر تھا ، کہ اُسے کلہاڑیوں سے توڑا گیا۔اس کے علاوہ مصر سے ایک یہودی ہونے کے باوجود ، تقریباً چالیس اُونٹوں پہ سامان لاد کر حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں بھجوایا، جسے آپ ﷺ نے شکریے کے ساتھ قبول فرمایا۔

اب اِس ضمن میں وزیر اعظم عمران خان کو دور جانے کی ضرورت نہیں، سب سے پہلے اپنے گھر میں بحریہ ٹاﺅن کے ملک ریاض صاحب سے رابطہ کرنا چاہئے، جو خود ایک دفعہ کہہ چکے ہیں کہ میں پاکستان کے قرضے اتار سکتا ہوں، یہ سوچے بغیر کہ ان کا جھکاﺅ پیپلز پارٹی کی طرف ہے، بلکہ پیپلز پارٹی ، اور ن لیگ سے بھی مشورہ کیا جاسکتا ہے، ایک دفعہ میں عمرہ کرنے کیلئے سعودی عرب گیا، اور جدہ میں ایک ہوٹل جو شاہراہ فیصل پر واقع تھا، اُس کا نام خندق الامین تھا، وہاں ایک صاحب سینکڑوں گاڑیوں کے جلوس میں آئے کہ پارکنگ کیلئے جگہ نہ رہی، وہ ہوٹل کے کاﺅنٹر پہ آئے، اُنہوں نے اپنی بے ترتیب داڑھی کے ساتھ جین کی پینٹ پہنی ہوئی تھی، آکر پوچھا، کہ کیا ہوٹل کا کوئی فلور پورا مل سکتا ہے؟ استقبالیہ والے نے لاپروائی سے کہا، کہ فلاں بے کار ہوٹل چلے جاﺅ مل جائیگا، اتفاق سے اس وقت میں بھی وہاں موجود تھایہ سنکر وہ صاحب لال بگولہ ہوگئے، اور وہیں سامنے صوفے پہ بیٹھ گئے، اور بولے ، تم اپنی ہوٹل کی قیمت بتاﺅ، میں دُوگنی قیمت دینے پر تیار ہوں، اِس کے ساتھ ہی انہوں نے فون ملانے شروع کر دیئے چند ہی منٹوں میں وہاں فرانس کے سفیر، ہوٹل کے مالک، سعودیہ کے کچھ وزیر آگئے، اور بڑی مشکل سے وہ صاحب راضی ہوئے، اُن کے لئے پورا ایک فلور خالی کرایا گیا، بعد میں میری اُن سے دوستی ہوگئی، تو معلوم ہوا ، کہ الجزائر سے اُن کا تعلق ہے، اُن کی اپنی ”شپنگ کارپوریشن “ ہے، اور الجزائر کے وہ امیر ترین شخص ہیں، اور اپنے طور پر وہ ملکوں کو قرضہ بھی دیتے ہیں۔

”حاجی ریبا“ اُن کا نام تھا، یہ تو ایک مسلمان ملک کا امیر شخص ہے، دنیا کے سینکڑوں مسلمان ملکوں کے امیر لوگوں سے رابطہ کیا جاسکتا ہے، ویسے زلفی بخاری کِس کا کام آئیں گے وہ کسی کو ایوارڈ دلوا سکتے ہیں، عمران خان کو اُدھار نہیں دلواسکتے؟

عمران خان کے آئیڈیل ملکوں میں تو لوگ اَربوں روپے کتے، اور بلیوں کو بھی دے دیتے ہیں، وزیر اعظم کے پاس تو کُتے بھی ہیں، اور شاید بلیاں بھی ہوں، اُنہیں کے نام پہ سابق سسر سے رجوع کرنے میں کیا حرج ہے؟ شاید اُن کی شراط آئی ایم ایف سے زیادہ بہتر ہوں!


ای پیپر