File Photo

ریمنڈ ڈیوس کے بعد کرنل جوزف بھی امریکہ کو پیارا ہو گیا
14 May 2018 (23:42) 2018-05-14

اسلام آباد: پاکستان نے سڑک حادثے میں ایک پاکستانی نوجوان کی ہلاکت کا ذمہ دار امریکی سفارتخانے کے ملٹری و دفاع اور فضائیہ کے اتاشی کرنل جوزف کو امریکی حکام کے حوالے کر دیا ، اسلام آباد سے انہیں خصوصی طیارے کے ذریعے افغانستان لے جایا گیا جہاں سے وہ امریکہ چلے گئے ، امریکی حکومت نے کرنل جوزف کا سفارتی استثنیٰ ختم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ پیر کو نجی ٹی وی کے مطابق امریکی سفارتی اتاشی کرنل جوزف نور خان ائیر بیس سے خصوصی طیارے پر افغانستان گئے جہاں سے وہ امریکہ روانہ ہوئے ۔

پولیس نے کرنل جوزف سے متعلق تمام ریکارڈ بھی امریکی حکام کے حوالے کیا ۔ سفارتی ذرائع کے مطابق کرنل جوزف مستند سفارتکار ہیں اور انہیں سفارتی استثنیٰ حاصل ہے ۔ کرنل جوزف پر پاکستانی فوجداری ، دیوانی اور انتظامی قوانین لاگو نہیں ہوتے ۔ پاکستان کی درخواست کے باوجود امریکی حکومت نے بھی ان کا سفارتی استثنیٰ ختم کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔ سفارتی استثنیٰ ختم نہ کرنا امریکی روایت ہے ۔

کرنل جوزف کو واپس بھیجوانے کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کیا گیا ۔ امریکہ نے کرنل جوزف کے خلاف انتظامی اور فوجداری مقدمہ کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے ان کے مقدمے کا تمام ریکارڈ بھی امریکی حکام کے حوالے کر دیا گیا ۔واضح رہے کہ 7 اپریل کی سہ پہر 3 بجے امریکی ملٹری اتاشی نے اسلام آباد کے علاقے بارہ کہو کے قریب سگنل توڑ کر موٹرسائیکل سوار دو افراد کو کچل دیا تھا۔

حادثے میں عتیق بیگ نامی نوجوان موقع پر جاں بحق اور اس کا کزن شدید زخمی ہوگیا تھا جب کہ پولیس نے سفارتی استثنی کے باعث کرنل جوزف کو جانے کی اجازت دی تھی۔پولیس نے کار سرکار میں مداخلت کرنے پر سیکیورٹی افسر تیمور پیرزادہ کے خلاف تھانہ سیکریٹریٹ میں ایس ایچ او کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا تھا۔ایف آئی آر میں سیکیورٹی افسر پر حملہ اور کار سرکار میں مداخلت کی دفعات شامل کی گئی تھیں۔چند روز قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے وزارت داخلہ کو حکم دیا تھا کہ کرنل جوزف کو سفارتی استثنی حاصل نہیں ہے لہذا دو ہفتوں کے درمیان ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے۔


ای پیپر