ڈان لیکس ٹو
14 مئی 2018 2018-05-14

یہ امر پیش نظر رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ’ غدار نواز کا ہیش ٹیگ‘ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔ سوشل میڈیا صارفین اپنے خیالا ت کا اظہار کررہے ہیں۔ ٹوئٹر پر ایک شخص نے نواز کے ہیش ٹیگ کے ساتھ لکھا کہ " ڈئیر بھارت نوازشریف کے بیان پر خوشی منانے سے پہلے یہ یاد کر لو کہ انہیں جھوٹ بولنے پر نااہل قراردیا گیا "۔ ایک اور صارف نے لکھا "جسے بھارت پسند ہے وہ وہیں چلا جائے"۔ نواز شریف کے بیان پر وزیراعلیٰ شہبازشریف اور مریم نواز کے ردعمل میں تضاد بھی صارفین میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ ’سابق وزیراعظم کے بھائی نے کہا کہ بیان کوغلط طریقے سے پیش کیا گیا ‘جبکہ بیٹی مریم نواز نے کہا کہ ’نوازشریف نے جو کہا بالکل ٹھیک کہا‘۔ جانے کون سچ بول رہا ہے۔یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ نواز شریف جسے ملک نے عزت اور دولت دی، وہ اپنے مخصوص اور مذموم مقاصد کے حصول کے لیے جوش و جذبہ سے پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے ایجنڈے کو آگے بڑھارہا ہے۔ اسے صرف اپنی ذات، اپنے اقتدار ، اپنے مال اور اپنی آل سے پیار ہے۔ اس کے لیے وہ پاکستان دشمنی میں پاک افواج اور عدلیہ کے خلاف زہر اگل رہا ہے۔ اقتدار سے محرومی نے اس کا عصبی، نفسیاتی اور ذہنی توازن گڑ بڑا کر رکھ دیا ہے۔ شدت جذبات میں گفتگو کرتے ہوئے اسے یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ وہ اس ملک کا تین بار وزیراعظم رہ چکا ہے۔ منفرد نظر آنے کے شوق میں وہ ان تاریک راہوں کا مسافر بننے کا عزم کر چکا ہے، جس کی منزل صرف رائیگانی ہوتی ہے۔ وہ سیاسی شہید بننے کے لیے بے قرار ہے۔ اس کے ذہن میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی مثال موجود ہے کہ اس کی بیٹی بینظیر دو بار وزیراعظم اور دامار آصف زرداری ایک بار صدر پاکستان بننے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ اب اس نرگسیت کے مریض نواز شریف کو کون سمجھائے کہ تم بھٹو نہیں ہو۔ تم تو اس کے پاسنگ بھی نہیں ہو۔بھٹو کے کریڈٹ پہ کارنامے ہیں۔ (ا) وہ پاکستان کا پہلامنتخب جمہوری پارلیمانی وزیراعظم تھا (ب) اس نے سرزمین بے آئین پاکستان کو متفقہ آئینی و دستوری دستاویز دی (ج) اس نے 90 سالہ قادیانی مسئلے کو حل کرتے ہوئے انگریز کے خود کاشتہ قادیانیت کے پودے کو غیر مسلم قرار دیا (د) وہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا آرکیٹکٹ ، معمار اور مؤسس ہے (ہ) اس نے 1965ء کی جنگ کے دوران اقوام متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے کشمیر کی جنگ ہزار سال تک لڑنے کے عزم کا اظہار کیا تھا ۔۔۔ اور۔۔۔ اس بیچارے جنرل کونسلر سے بھی کم سیاسی شعور رکھنے والے نوا زشریف خوش فہمی میں مبتلاہے کہ اگر وہ اداروں سے محاذ آرائی کی تاریک راہوں میں مارا گیا تو اس کی بیٹی بینظیر اور اس کا داماد مستقبل میں آصف زرداری بن سکے گا۔ صاف ظاہر ہے اس کے بیٹے تو اس کے سیاسی وارث اور جانشین نہیں بن سکتے کہ وہ برطانوی شہریت کی حیثیت سے برطانوی ملکہ کی وفاداری اور برطانیہ کے تحفظ کے لیے ہتھیار تک اُٹھانے کا حلف اُٹھا چکے ہیں۔ انہوں نے ایک قارون نہیں( جس کے خزانوں کی کنجیاں 21 اونٹوں پر جہازی سائز کے صندوقوں میں لادی جاتی تھیں) 10 قارونوں سے بھی زیادہ قومی دولت لوٹ کر بیرون ملک اپنے اتنے اثاثے، غیر ملکی بینک کھاتے، جائیدادیں اور آف شور کمپنیاں بنا لی ہیں کہ نواز شریف کی 100 نسلیں بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھی رہیں تو ان کے پرتعیش لائف سٹائل میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ ایسے لوگ جو کرسی کے حصول کی ہوس میں جنونی ہو چکے ہوں، اسی قسم کے خیالات کا اظہار کرتے ہیں جن کا اظہار سرل المیڈا ایسے صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کیا ۔ انٹرویو دیتے ہوئے وہ بھول گئے کہ غیر ملکی مصنف ایلیس ڈیوڈسن ’’ بی ٹریل آف انڈیا‘‘ نامی کتاب میں واشگاف الفاظ میں تحقیقاتی رپورٹ شائع کر چکے ہیں کہ ممبئی حملوں میں پاکستان کا سرے سے کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ اجمل قصاب کو نیپال سے اغوا کر کے را نے اپنی تحویل میں رکھا تھا اور وہ کئی ماہ سے زیر حراست تھا۔ کیا نواز شریف کو یاد نہیں کہ بھارت کے سیلف پلانٹڈ ممبئی واقعات کے دوران ہیمنت کرکرے کو گولیوں سے بھون کر لقمۂ اجل بنا دیا تھا۔ اس کے لئے وہ ایس ایم مشرف کی کتاب (ہو کلڈ کرکرے) پڑھ لیتے تو نان سٹیٹ ایکٹرز کا پکا راگ نہ الاپتے۔ غالباً چیک بک کے علاوہ نواز شریف کا بک ریڈنگ سے تعلق نہیں، اس لیے یہ حقائق اُن کی نگاہ سے اوجھل رہے اور اپنے یار مودی کو خوش کرنے کے لیے انہوں نے بلا سوچے سمجھے یہ بے سرو پا بیان داغ دیا۔ کاش نواز شریف نامی گوشت پوست کی اس عمارت کی بالائی منزل خالی نہ ہوتی۔

اُدھر مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور دیگر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نوازشریف نے انگریزی روزنامہ کے ڈان نیوز لیکس کے موجد رپورٹر کو انٹرویو دیتے ہوئے جو کچھ کہا تھا، اس شاطر رپورٹر نے اسے توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نوازشریف، مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف اور دیگر ہائی کمان سابق وزیراعظم کے انٹرویو کے مندرجات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے جرم میں اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کیوں نہیں کرتے اور ن لیگ کے حمایت یافتہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی مذکورہ اخبار اور رپورٹر کے خلاف قرار واقعی کارروائی کے لئے پیمرا کے ذمہ داران کو ہدایات جاری کرنے سے تادمِ تحریر کیوں ہچکچا رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی ہائی کمان، مسلم لیگ ن کے ترجمان اور شہباز شریف کے بیانات میں جو وضاحتیں کی گئی ہیں ان کا تقاضا ہے کہ میاں محمد نوازشریف قوم کے سامنے اپنے اس ریاست مخالف بیان کی تردید کریں اور انٹرویو لینے والے صحافی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے احکامات صادر کریں۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ایسا نہیں ہو رہا بلکہ ان کی صاحبزادی برملا یہ کہہ رہی ہیں کہ ’میاں صاحب نے جو کہا ملک کے بہترین مفاد میں کہا‘‘۔ اب مریم نواز سے کون پوچھے کہ ان کے نزدیک ملک کے بہترین مفاد کی تعریف کیا ہے۔ ہر بالغ نظر اور ذی شعور شہری پورے وثوق اور تیقن کے ساتھ یہ کہہ رہا ہے کہ 12 نومبر کو انگریزی روزنامہ کی لیڈ سٹوری بننے والا ان کا یہ انٹرویو آج بھی صفحات پر موجود ہے، جس میں انہوں نے بین السطور ریاستِ پاکستان کو ممبئی حملوں کا ذمہ دار ٹھہرا کر بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے الزام کی تائیدوحمایت کی ہے۔ اب یہ کہنا کہ سوشل میڈیا یا بھارتی میڈیا نوازشریف کے ریمارکس کو بلاجواز اچھال رہا ہے تو ان حقائق کو کیسے جھٹلایا جا سکتا ہے کہ انگریزی اخبار کے صحافی سرل المیڈا سابق نااہل وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کا انٹرویو لینے کے لئے جب ملتان پہنچے تو انہیں وی آئی پی پروٹوکول دیا گیا، جو پہلے ہی سے طے تھا۔ وہ خصوصی طیارے کے ذریعے ملتان پہنچے، انہیں نارمل سکیورٹی اور کلیئرنس کے لئے وزیراعظم پاکستان کے سٹاف آفیسر ایوی ایشن کی جانب سے ملتان کے چیف سکیورٹی آفیسر اے ایس ایف، ایئرپورٹ منیجر، سول ایوی ایشن اتھارٹی، ملتان ایئرپورٹ اور ڈپٹی ٹرمینل منیجر کو خصوصی لیٹر جاری کیا گیا۔ خصوصی طیارے کے ذریعے جب وہ تقریباً ساڑھے6 بجے ملتان پہنچے تو پروگرام کے مطابق سرل المیڈا نے نوازشریف کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو ریکارڈڈ ہے۔ نوازشریف اپنے بیان سے منحرف نہیں ہو سکتے۔ اس کاواضح اور شفاف مطلب یہ ہے کہ انٹرویو لینے والے نے وہی کچھ سپرد قرطاس کیا جو سابق نااہل وزیراعظم نے کہا۔ ہمارے نزدیک یہ بیان داغ کر میاں محمد نوازشریف نے نہ صرف بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کی سعیِ مذموم کی بلکہ بھارتی مؤقف کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی اور عالمی برادری کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ پاکستان دہشت گردی ایکسپورٹ کرنے والا ایک ملک ہے۔ ان کا یہ بیان یقیناًان کی سیاست ہی کے لئے نہیں وطنِ عزیز کے عام شہریوں کے لئے بھی اذیت رساں، تباہ کن اور گمراہ کن ہے۔ ایک شخص جو تین بار پاکستان کا وزیراعظم رہ چکا ہواور اس کے بارے بعض حلقوں میں یہ تحفظات بھی پائے جاتے ہوں کہ ’وہ مودی کے سرپرست بزنس ٹائیکون متل لکشمی اور ساجن جندال کے قریب ترین رابطوں میں ہیں۔ واقفانِ حال جانتے ہیں کہ 2014ء کے انتخابات میں مودی کی کامیابی کے بعد جب سابق نااہل وزیراعظم نوازشریف دہلی پہنچے تو انہوں نے طے شدہ شیڈول سے ہٹ کر اپنے بیٹے حسین نواز کے مطابق متل لکشمی سے بھی ملاقات کی۔ اسی طرح مودی کو انہوں نے اپنی نواسی کی شادی کے موقع پر بغیر ویزہ کے لاہور ایئرپورٹ سے جاتی امرا تک بذریعہ ہیلی کاپٹر پہنچایا اور تحائف کا تبادلہ کیا ۔ اس دوران ان کے ساتھ آنے والے وفد جس میں بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دول (جو را کے بانی ہیں) کے ساتھ بھی الگ ملاقات کی۔ یہ ناقابل تردیدِ شواہد و حقائق یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ میاں محمد نوازشریف مودی اور اس کی انتخابی مہم کے فنانسرز کے ساتھ گہرے رابطے میں تھے اور ہیں۔ یقیناًیہ ایک لمحۂ فکر ہے۔ گزشتہ برس ساجن جندال جب اسلام آباد پہنچا تو اس کا سیون سٹارز استقبال کیا گیا۔ اس کا ویزا صرف اسلام آباد کا تھا لیکن تنہائی میں ملاقات کرنے کے لئے اسے مری پہنچایا گیا جہاں سابق وزیراعظم نوازشریف نے اس سے کیمرہ میٹنگ کی۔ اس خفیہ او ر پراسرار میٹنگ کے مندرجات آج تک سامنے نہیں آ سکے۔

پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شیری رحمان نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’ نواز شریف کے اس بیان کے بعد پاکستان کو عالمی سطح پر اور خطے میں ناکامی کا ہدف بنایا جا رہاہے، امید ہے وہ اپنا بیان واپس لیں گے اور اس پر اپنی وضاحت دیں گے، نوازشریف یہ کیوں نہیں بتاتے کہ بھارت نے ہمارے و کیلوں کو رسائی تک نہیں دی؟میاں صاحب نے یہ کیوں نہیں بتایا کہ پاکستان نے ٹرائل مکمل کرنے کی کیا کوششیں کیں ؟۔ یقیناًنواز شریف کا بیان افسوسناک اور خطرناک ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے سینئر مرکز ی رہنما اعجاز احمد چوہدری نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے عوامی محسوسات کی تر جمانی کی ۔ انہوں نے کہا کہ ’نواز شریف کا ممبئی حملہ کے حوالے سے بیان ملک سے غداری ہے، اس کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے اور آرٹیکل 6کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے ، نواز شریف نے پاکستان پر دہشت گردوں کی مدد کر نے کا الزام لگایا ہے، نواز شریف ملک دشمنی پر اتر آئے ہیں، نواز شریف کا بیان ڈان لیکس ٹو ہے ، ڈان لیکس کے مجرموں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاتی تو آج نواز شریف ایسی حرکت کرنے کا نہ سوچتے ، نا اہلی کے بعد نواز شریف غیر ملکی ایجنڈے کے تحت ملک کو تباہ کر رہے ہیں ، تاریخ میں پہلی باروہ نیب اور احتساب کورٹ کی پیشیوں اور جیل جانے کے خوف کی وجہ سے سخت ذہنی دباؤ کا شکار ہیں‘۔۔۔ پاکستان مسلم لیگ کے سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے بھارت میں دہشت گردی کے حوالے سے نوازشریف کے انٹرویو پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ پاکستان اور اس کی سلامتی و یکجہتی کی ضامن مسلح افواج کے خلاف نوازشریف کی ایک اور واردات سامنے آ گئی ہے‘۔ محب وطن عوام کا رد عمل ہے کہ پاکستان کو بد نام کرنے میں جو کام بھارت نہ کر سکا وہ نواز شریف کر رہا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کیلئے نواز شریف کا بیانیہ لمحۂ فکر ہے۔


ای پیپر