بیت المقدس:امریکی سفارتخانے کی منتقلی اور عالم اسلام ؟
14 مئی 2018

14مئی 2018ء کا دن امت مسلمہ کے لیے نہایت افسوس ناک دن ہے۔اس دن امت مسلمہ کے حرمین شریفین کے بعد تیسرے اہم ترین مقدس مقام بیت المقدس پر اسرائیلی غاصب یہودیوں کے قبضے کے 70سال مکمل ہوگئے۔ہرسال کی طرح اس سال بھی اسرائیلی یہودی اس دن اپنی قومی سالگر ہ منارہے ہیں۔مگراسرائیلیوں کے نزدیک اس سال کی سالگر ہ ماضی کی سالگروں سے کہیں زیادہ اہم اور تاریخی بتائی جارہی ہے۔کیوں کہ اس دن اسرائیلی یہودیوں کی دیرینہ خواہش بھی پوری ہورہی ہے اور بیت المقدس پر عملاً اسرائیلی قبضے کا صدیوں پراناخواب بھی پورا ہوتانظر آرہاہے۔
اسرائیلی یہودیوں کے اس دیرینہ خواب کی تکمیل امریکا کررہاہے۔چنانچہ اس سال 14مئی کو امریکا پہلی بار تل ابیب سے اپنا سفارتخانہ عملاً بیت المقدس منتقل کر رہا ہے۔جس کا اعلان گزشتہ سال 6دسمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا۔ امریکی صدر کے اس متنازع بیان کے بعد عالم اسلام سمیت پوری دنیا میں بھرپور احتجاج کیا گیا تھا۔اقوام متحدہ میں اسرائیل اور امریکا کے خلاف قراردادیں پاس ہوئی تھیں۔مگر امریکاماضی کی طرح اپنی ہٹ دھرمی کی روایت برقرار رکھتے ہوئے اس اعلان کے صرف 5ماہ بعد رواں سال 14مئی کو پوری دنیا کے احتجاج اور قراردادوں کو بائی پاس کرکے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کررہاہے۔چنانچہ اسرائیل نے امریکی سفارتخانے کی منتقلی کے لیے 14 مئی کو ایک بہت بڑی تقریب منعقد کررکھی ہے۔جس میں اسرائیلی صدرروئین رویلن،اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سمیت اسرائیلی کے اعلیٰ حکومتی،غیر حکومتی شخصیات اور فوجی اہلکاروں سمیت امریکا کی اعلیٰ شخصیات پر مشتمل ایک وفد شامل ہوگا۔ امریکی وفد میں تاحال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد کو غیر متوقع بتایا جارہاہے ،مگر امریکی صدر کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ،داماد جیریڈ کوشنر سمیت دیگر امریکی عہدیداروں کی امریکی سفارت خانے کی منتقلی کی تقریب میں شرکت کنفرم ہوچکی ہے۔ امریکی سفارت خانے کی عملی منتقلی کے لیے بیت المقدس شہر میں امریکی سفارت خانے کے سائن بورڈ بھی 7 مئی 2018ء کو آویزاں کردیے گئے ہیں۔یہ سائن بورڈ بیت المقدس شہر کے اسرائیلی میئر" نیر برکات "نے بذات خود جا کر نصب کیے۔اس موقع پر نیر برکات کا کہنا تھا کہ" یہ خواب نہیں ،بلکہ یہ حقیقت ہے کہ آج میں نے اپنے ہاتھوں سے بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کا سائن بورڈ نصب کیا ہے"۔اسرائیلی حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے جنوب بیت المقدس میں ارنونا کے مقام پر واقع امریکی قونصل خانے منتقل کیا جائے گا،مگر اس کے لیے علیحدہ سے جگہ کا انتخاب
کرلیا گیا ہے جہاں مکمل طور پر امریکی سفارت خانے کی بلڈنگ بنائی جائے گی جس پربلین ڈالرز کی رقم خرچ ہوگی۔اسرائیلی حکام کے مطابق امریکی سفارت خانے کی منتقلی کے بعد پیراگوئے،ہنڈراس اور گوئٹا مالے سمیت دیگر ملک بھی اپنے سفارت خانے تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کریں گے۔
واضح رہے کہ بیت المقدس میں امریکی سفار ت خانے کی منتقلی کا مطلب بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا ہے۔گویا امریکی سفارت خانے کی منتقلی کے بعداب اسرائیل تمام حکومتی کام اپنے موجودہ دارالحکومت تل ابیب کی بجائے بیت المقدس میں بیٹھ کر سرانجام دے گا۔یوں رفتہ رفتہ بیت المقدس پر اسرائیل کا مکمل کنٹرول ہوجائے گا اور پھر مسجد اقصی ٰ اور دیگر مقدس مقامات سمیت وہاں بسنے والے مسلمانوں کے ساتھ اسرائیل کیا سلوک کرے گا اس کااندازہ فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے اسرائیل کے گزشتہ 70سالہ مظالم سے اچھی طرح لگایا جاسکتاہے۔اہم ترین سوال یہ ہے کہ آخر امریکا اقوام عالم کے احتجاج کے باوجود اشتعال انگیز اقدام کیوں اٹھا رہاہے ؟ اس کے لیے 8 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران امریکی جوہری معاہدے سے دستبرداری اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی ایران کی جوہری توانائی کے حصول کے لیے خفیہ دستاویزوں پر نظر کرنا ہوگی۔ایران کے نام پر ایک طرف خلیجی ممالک اور دیگر عرب ممالک کو بیوقوف بنا کر مسئلہ فلسطین سے دستبردار کرنے کے لیے سازشیں بنائی جارہی ہیں،دوسری طرف ایران کا ہوا کھڑا کرکے عالمی دنیا کو ایران میں الجھا کر بیت المقدس میں اسرائیلی سفارت خانہ منتقل کیا جارہاہے۔مسلمہ حقیقت اسرائیلی اور امریکی مفادات کا مشترکہ تحفظ اور گریٹر اسرائیل کی راہ ہموا ر کرنا ہے۔ورنہ ایرانی حزب اللہ اسرائیل کی پڑوس میں موجود ہے جس پر آج تک اسرائیل نے کوئی حملہ کیا اور نہ امریکا نے سوائے لفظی مذمتی بیانات سے آگے کوئی بڑا ایکشن لیا۔تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ایران کو آلہ کار کے طورپر استعمال کیا جارہا ہے۔جس کے لیے عراق ،شام اور یمن میں ایران کے جارحانہ اقدامات کو دیکھا جاسکتاہے۔اگر امریکا اور ایران کے مفادات الگ ہوتے یا دونوں میں دشمنی ہوتی تو کیا امریکا عراق ایران کے حوالے کرتا ؟ کیا امریکا یمن اور شام میں ایران کو سوفٹ کارنر دیتا ؟ کیا اسرائیل اپنی سرحدوں کے قریب ایران کو 6سال سے رہنے کی اجازت دیتا؟
بہرحال ایران،امریکا اور اسرائیل کی باہمی نظر آنے والی لڑائی میں نقصان صرف امت مسلمہ کا ہورہاہے اور اس کھیل میں ہدف بیت المقدس پر قبضے اور گریٹر اسرائیل کا ہے۔جس میں زیادہ تر لہو فلسطینیوں کا بہہ رہاہے۔جوگزشتہ 70سالوں سے دھیرے دھیرے اور پچھلے 5ہفتوں سے مسلسل سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں۔اب تک 50 سے زائدفلسطینی صرف ایک ماہ میں شہید اور سیکڑوں زخمی کیے جاچکے ہیں۔یوم نکبہ کی خاطر سراپا احتجاج نہتے فلسطینیوں کاکوئی پرسان حال نہیں۔ عالم اسلام کے نام نہاد ٹھیکیدار ان کی قربانیوں کا سودا کرنے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں۔بلکہ امت مسلمہ کے یہ نام نہاد لیڈر امریکی خوشنودی کی خاطرغاصب اسرائیل سے تعلقات جوڑنے کے لیے ہلکان ہوئے جارہے ہیں۔ایسے میں سوال یہ ہے کہ آخر امت مسلمہ کے اس مقدس مقام کی حفاظت کون کرے گا ؟ کیا مسلمان اس قدر بے حس اور اپاہج ہوچکے ہیں کہ وہ سرور دوعالم ؐ کی جائے معراج اور قبلہ اول مسجد اقصی پر یہودیوں کے قبضے کو نہیں روک سکتے ؟ سیدناعمرفاروق رضی اللہ عنہ اور صلاح الدین ایوبی کی قربانیوں کو مسلمان کس طرح اتنی آسانی سے بھلاسکتے ہیں ؟ کیا حرمین شریفین کے بعد امت مسلمہ کے تیسرے مقدس مقام کے ساتھ مسلمانوں کی غفلت اورخاموشی کا حساب نہیں لیا جائے گا ؟ یقیناًلیا جائے گا،مگر اس وقت مسلمان کیا جواب دیں گے ؟ اس کا اندازہ حشر کے اس دن کی تفصیلات جان کر معلوم کیا جاسکتاہے جس کے بارے اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پربتادیاہے۔


ای پیپر